العربية
Typed, pending editorial approval
٣٩٥٥ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رضي الله عنهما عَنِ النَّبِيَّ صلي الله عليه واله وسلم قَالَ:(فِيمَا أَحْرَزَ1 الْعَدُوُّ فَاسْتَنْقَذَهُالْمُسْلِمُونَ مِنْهُمْ، إِنْ وَجَدَهُ صَاحِبُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِنْ وَجَدَهُ قَدْ قُسِمَ فَإِنْشَاءَ أَخَذَهُ بِالثَّمَنِ). رَوَاهُ الدَّارِقُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي سُنَنِهِمَا. وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِالْوَسِطِ نَحْوَهُ.
وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ عَنْ قُبَيْصَةَ بْنِ ذُويْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِيْمَا أَحْرَزَالْمُشْرِكُوْنَ، فَأَصَابَهُ الْمُسْلِمُوْنَ، فَعَرَفَهُ صَاحِبُهُ، قَالَ: إِنْ أَذْرَكَهُ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَهُوَ لَهُ،وَإِنْ جَرَتْ فِيْهِ السِّهَامُ فَلَا شَيْءَ لَهُ.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: “Regarding what the enemy secured and Muslims recovered, etc.”: If disbelievers overpower Muslims’ wealth—God forbid—and secure it in their land, Shafi‘i says they do not own it, and if Muslims recover it, it returns to its owner before or after division. Abu Hanifah says: If disbelievers gain and secure Muslims’ wealth, the Muslims’ ownership ceases, per Allah’s saying in Surah al-Hashr about fay’ recipients: “For the poor emigrants who were expelled from their homes and their wealth” [Qur’an 59:8], calling the Companions who migrated from Makkah to Madinah poor despite owning homes and wealth in Makkah. This indicates disbelievers gained ownership upon capture, making them poor, eligible for charity. Supporting Hadiths include those of Ad-Daraqutni and Al-Bayhaqi from Ibn Abbas, stating if the owner finds it before division, it is his; after division, he takes it by price. At-Tabarani narrated from Jabir ibn Samurah: The enemy took a man’s camel from Banu Sulaym; a Muslim bought it, and its owner recognized it, informing the Prophet (ﷺ), who ordered it returned for the price paid or left as is. Abu Dawud narrated similarly in (Kitab al-Marasil). Ad-Daraqutni, Ibn Adi, and others narrated: Whoever finds his property in fay’ before division gets it; after division, he gets nothing. These narrations support this, as disbelievers’ ownership enables valid sales, and division matters after recovery. One cannot say these narrations are weak, as Shafi‘i noted per Az-Zayla‘i and others, as multiple weak chains strengthen the ruling, especially since the ruling is supported by the Qur’an’s indication. The narrations reinforce this, and their weakness does not harm. The Hadiths in (Chapters of Hajj) by Bukhari, Muslim, and others support this, showing Aqil ibn Abi Talib’s question: “Did the Prophet leave us a home?” Thus, if Muslims recover disbelievers’ taken wealth, the owner gets it before division without cost; after division, by value. “Securing” means ownership requires securing in the land of war, not mere capture. As in (Sharh al-Wiqayah), (‘Umdat al-Qari), (Sharh Ma‘ani al-Athar), and (Al-Mirqat).
Note 1
(١) قوله: فيما أحرزه العدو فاستنقذه المسلمون منهم إلخ: اعلم أن الكفار إذا غلبوا على أموال المسلمين - والعياذ بالله - وأحرزوها بدارهم. قال الشافعي: لا يتملكونها، وإذا استنقذها المسلمون من أيديهم ترد إلى صاحبها، وله أخذهاقبل القسمة وبعدها. وقال أبو حنيفة: إن الكفار إذا ملكوا أموال المسلمين بالاستيلاء والإحراز زال عنها ملكالمسلمين يشهد له قوله تعالى في (سورة الحشر) عند ذكر مصارف الفيء: ﴿لِلْفُقَّرَآءِ الْمُهَجِرِينَ آَلَّذِينَ أَخْرِجُواْ مِندِيَرِهِمْ وَأَمْوَلِهِمْ﴾ (الحشر: ٨) الآية حيث سمي الصحابة الذين هاجروا من مكة إلى المدينة وأخرجهم الكفار،وتسلطوا على دُورهم وأموالهم فقراء مع كونهم ذوي أموالهم وبيوت بمكة. فعلم منه بإشارة النص أن الكفار حين استولوا على أموالهم ملكوه، فصاروا فقراء مستحقين لأموال الصدقاتوغيرها، ويشهد له من الأحاديث ما أخرجه الدارقطني والبيهقي عن ابن عباس عن النبي صلي الله عليه واله وسلم : فيما أحرزه العدو،فاستنقذه المسلمون منهم، إن وجده صاحبه قبل أن يقسم فهو أحق به وإن وجده قسم، فإن شاء أخذه بالثمنوأخرج الطبراني عن جابر سمرة: أصاب العدو ناقة رجل من بني سليم، ثم اشتراها رجل من المسلمين،فعرفها صاحبها، فأتى النبي صلي الله عليه واله وسلم فأخبره،(فأمر أن يأخذها بالثمن الذي اشتراها به صاحبها من العدو وإلا يخليبينها وبينه). ومثله أخرجه أبو داود في (كتاب المراسيل). وأخرج الدار قطني وابن عدي وغيرهما مرفوعًا: من وجدماله في الفيء قبل أن يقسّم فهو له ومن وجده بعد ما قسم، فليس له شيء. فهذه الأخبار تثبت ما ذكرنا؛ فإنه لولا أنالكفار يملكون أموالنا بالاستيلاء والإحراز لما صحَّ بيعهم من آخر، ولما اعتبرت قسمتها بعد غلبتنا.لا يقال: أسانيد هذه الأخبار كلها ضعيفة كما ذكره الشافعي على ما نقله عنه الزيلعي وغيره، فلا تقوم حجة؛ لأنانقول: كثرة الطرق يجبر الضعف على أنه ليس الغرض منها إثبات حكم حتى يضر الضعف؛ فإن الحكم ثابت بإشارةنص القرآن، بل الغرض منها استئناس تلك الإشارة وتقويتها، فلا يضر حينئذٍ ضعفها، ويكفي في الباب حديثالشيخين وغيرهما المخرج في (أبواب الحج) المفيد؛ لما ذكرنا؛ فإنه يثبت منه أن عقيل بن أبي طالب حين خرج النبيهل ترك لنا عقيلا منزلا؟ فثبت بهذا أن المسلمين إذا أوجفوا على الكفار، وأخذوا أموال المسلمين منهم، فإن جاءصاحبه قبل أن يقسم أخذه بغير شيء، وإن جاء بعد ما قسم أخذه بالقيمة، وأشار بالإحراز إلى أن مجرد الاستيلاء لايفيد الملك ما لم يوجد الإحراز بدار الحرب. التقطته من (شرح الوقاية) و(عمدة القاري) و(شرح معاني الآثار)و (المرقاة).
Note 1
32 قولہ: قال فيما احرزه العدو فاستنقذه المسلمون منهم الخ (آپ ﷺ نے فرمایا کہ دشمن جس چیز پر قبضہ کر لے اور مسلمان ان سے اس کو چھڑا لیں) تم اس بات کو جانو کہ کفار جب مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لیں، اللہ کی پناہ اور اس کو اپنے ملک میں منتقل کر لیں تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تو کفار اس کے مالک نہیں ہوں گے اور مسلمان ان کے ہاتھوں سے جب ان کو چھڑا لیں گے تو وہ اس کے مالک کو لوٹا دئے جائیں گے۔ تقسیم کے پہلے اور تقسیم کے بعد ہر حالت میں اس کو لینے کا حق رہے گا امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کفار جب مسلمانوں کے مال پر غلبہ کر کے مالک ہو جائیں اور اس پر قبضہ کر لیں تو مسلمانوں کی ملکیت اس سے ختم ہو جاتی ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد شاہد ہے جو سورہ حشر میں فئی کے مصارف ذکر کرنے کے بعد ہے: ”لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ ..... الآية“ (59-سورہ حشر آیت9) (اور ان حاجتمند مہاجرین کا (بالخصوص) حق ہے جو اپنے گھروں اور مال سے نکالے گئے) کہ اس آیت کریمہ میں ان صحابہ کو جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی کفار ان کو نکال دئے تھے اور ان کے گھروں اور اموال پر قبضہ کر لئے تھے تو ان کو فقراء کہا گیا باوجود یہ کہ وہ مکہ مکرمہ میں دولت مند اور گھروں والے تھے بطور اشارۃ النص اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار جب غالب آ جائیں مسلمانوں کے اموال پر اور ان پر قبضہ کر لیں تو وہ مسلمان فقراء کہلائیں گے اور صدقات وغیرہ کے مال کے مستحق ہو جائیں گے اور احادیث شریفہ بھی اس کی گواہی دیتے ہیں جس کو دارقطنی اور بیہقی نے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اس مال کے بارے میں جس پر دشمن قبضہ کر لیا ہو اور مسلمان اس کو ان سے چھڑا لئے ہوں اگر اس کا مالک تقسیم سے پہلے اس کو پالے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور اس کو پایا جب کہ تقسیم ہو چکی تھی اگر وہ چاہتا ہے تو وہ قیمت دے کر لے۔ اور امام طبرانی نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ دشمن نے بنی سلیم قبیلہ کے ایک شخص کی اونٹنی کو پکڑ لیا پھر اس کو مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے خرید لئے تو اس کا مالک اس کو پہچان لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس کی اطلاع دیا تو آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ جس قیمت میں اس دوسرے آدمی نے اس کو دشمن سے خریدا ہے وہ قیمت اس کو دے کر اس سے اس کو لے لے ورنہ اس کو چھوڑ دے۔ ابوداؤد نے کتاب المراسیل میں ایسی ایک روایت کی تخریج کی ہے اور امام دارقطنی ابن عدی اور ان کے سوا دوسرے حضرات نے مرفوعاً ایک روایت نقل کی ہے: من وجد ماله فى الفئ قبل ان يقسم فهو له، ومن وجده بعد ما قسم فليس له شئ“۔ اموال فئی میں جس شخص کو اس کا مال دستیاب ہو اس کی تقسیم سے پہلے تو وہ اس کا ہے اور جو اس کو تقسیم کے بعد پائے تو اس کو کوئی چیز نہیں۔ پس یہ احادیث شریفہ اس بات کو ثابت کرتے ہیں جو ہم ذکر کئے تھے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کفار ہمارے اموال پر قبضہ کر لینے سے اس کے مالک ہو جاتے ہیں تو اس کو دوسرے کے ہاتھ بیچنا درست نہ ہوتا اور اس پر ہمارے غلبہ کے بعد تقسیم کا اعتبار بھی نہ کیا جاتا اور یہ کہا جائے گا ان احادیث کی ساری سندیں ضعیف ہیں جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ...... اور امام طبرانی نے مُعجم وسط میں اس جیسی روایت نقل کی ہے۔