Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Jihad

Hadith 4010

The Chapter on Hunting and Slaughter

In this book

Current reading

Jihad

The Chapter on Hunting and Slaughter

Zujajat al-Masabih 4010Volume 3

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Eat what the sea casts out or leaves behind; do not eat what dies in it and floats.” Yahya ibn Sulaym is in its chain, included by the two Shaykhs (Bukhari and Muslim), so he is reliable, as Ibn Ma’in said. Al-Shawkani said: Jabir’s hadith, “No creature in the sea but Allah has purified it for the children of Adam,” has weakness in its chain.

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٠١٠ - وَعَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه انَّ رَسُوْلَ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم قَالَ:(مَا أَلْقَى الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ فَكُلُوهُ،وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلَا تَأْكُلُوهُ)، وَفِيْهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمِ، أَخْرَجَ لَهُ الشَّيْخَانِ، فَهُوَ ثِقَةٌ، كَذَاقَالَ ابْنُ مَعِيْنٍ، وَقَالَ الشَّوْكَانِيُ: حَدِيْثُ جَابِرٍ : (مَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْبَحْرِ إِلَّا وَقَدْ ذَكَّاهَااللهُ لِبَنِيْ آدَمَ) فِي سَنَدِهِ ضُعْفٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5442
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو سمندر پھینک دے یا اس سے ہٹ جائے تو تم اس کو کھاؤ اور جو سمندر میں مرجائے اور اوپر پلٹ جائے تو تم اس کو مت کھاؤ۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)۔
Commentary and footnotes (2)

Note 1

ابن مومن نے کہا: اس حدیث شریف میں یحییٰ بن سلیم جو راوی ہیں ان سے شیخین نے روایت کی ہے اور شوکانی نے کہا ہے کہ حضرت جابر کی حدیث: ”ما من دابة فى البحر الا و ذكاها الله لبنى آدم“ اس کی سند میں ضعف ہے۔

Note 2

(سلسلہ صفحہ گزشتہ) طافی نہیں ہے جس طرح طافی کے پیٹ کے اندر کی چیز کھائی جاتی ہے اسی طرح اس کو بھی کھا لیا جائے گا، طافی اسم فاعل ہے ”طفا يطفو“، طفا الشئ فوق الماء اذا علا“ سے ماخوذ ہے یہ اس وقت کہتے ہیں جب کوئی چیز پانی کے اوپر آجاتی ہے اس بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ جس کی موت کا سبب معلوم ہو جائے مثلاً سمندر کا باہر پھینک دینا یا اس کو کسی چھوٹے گڑھے میں بند رکھنا، اس طرح سے کہ اس کو بغیر کسی حیلے کے پکڑ سکیں یا کوئی مچھلی نگل جائے یا پانی کا کوئی پرندہ اس کو مار ڈالے یا پانی اس کے اوپر جم جائے تو اس کو کھانا جائز ہے کیونکہ اس کی موت کا سبب معلوم ہے اور اگر پانی کی گرمی یا سردی کی زیادتی سے یا پانی اس کے کچھ حصہ سے ہٹ جائے اور وہ مر جائے تو ایسی صورتوں میں ہشام کی امام محمد سے روایت ہے کہ اگر اس کا سر پانی پر ہے تو کھایا نہیں جائے گا اور اگر اس کی دم پانی میں ہے اور سر سے پانی ہٹ گیا ہے تو اس کو کھایا جائے گا کیونکہ اس کے سر کا پانی سے نکل جانا جو اس کی موت کا سبب بنا ہے معلوم ہے برخلاف اس کی دم کا پانی سے نکل جانا (اس میں اس کی موت کا سبب معلوم نہیں) اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس میں (مچھلی کے بارے میں) موت کا سبب معلوم ہونا شرط ہے اگر اس کو مارنے کی وجہ سے اس کا کوئی حصہ علیحدہ ہوجائے تو اس کو اور اس علیحدہ شدہ حصہ کو بھی کھایا جاسکتا ہے (ماخوذ از شرح کنز) 1؎ قوله: يكره اقتناء الكلب لغير منفعة ...... الخ. (بغیر کسی فائدے کے کتے کا پالنا مکروہ ہے) اس پر اجماع ہے، اب رہا اس کی خرید و فروخت تو امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس مطلقاً ناجائز ہے اور امام احمد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے اور بعض مالکیہ کے پاس جس کتے کو رکھنے کی اجازت ہے اس کی بیع جائز ہے، جس کو سدھایا نہیں جا سکتا اور ہمارے (احناف کے) پاس کاٹ کھانے والے (دیوانے) کتے کے سوا ہر کتے کی بیع مطلقاً جائز ہے اور ہمارے دلائل نسائی، مسند ابی حنیفہ اور بیہقی میں مروی احادیث ہیں اور تمام دلائل کتاب ہدایۃ اور اس کے شرح میں مذکور ہیں، اور تعلیق ممجد میں بھی اسی طرح ہے اور مولانا محمد عبد الحلیم نور اللہ مرقدہ نے ہدایہ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہاں ایک بحث ہے اور وہ یہ کہ وہ دلیل دعویٰ سے خاص ہے، کیونکہ دعویٰ یہ ہے کہ کتے کی بیع مطلقاً جائز ہے اور حدیث شریف سے صرف شکار کے اور جانوروں کی حفاظت کے کتے کی بیع کا جائز ہونا معلوم ہوتا ہے متعدد وجوہ سے اس کا جواب دیا گیا۔