اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5868
انہی سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک تکیہ خریدا جس میں چند تصاویر تھیں
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ملاحظہ فرمایا تو آپ دروازے پر کھڑے رہے اندر
تشریف نہیں لائے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر ناگواری کو پہچان لیا اور
وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں اللہ اور اس کے رسول کی جناب میں توبہ
کرتی ہوں۔ مجھ سے کیا قصور ہوا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس تکیہ کا کیا حال ہے۔
انہوں نے عرض کیا: میں نے اس کو آپﷺ کے لئے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر تشریف فرما
ہوں اور اس پر ٹیک لگائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تصویر والوں کو قیامت
کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے بنایا ہے اس کو زندہ کرو۔ اور فرمایا:
جس گھر میں تصویر ہوتی ہے اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2105 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
علامہ عینی نے کہا کہ اس میں یہ بات ہے کہ جب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ آپ اس پر تشریف فرما ہوں اور اس پر ٹیک لگائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا۔ پس اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا پردہ جس میں تصویریں تھیں اس کو کاٹ کر تکیہ بنا لیا گیا تو اس کا استعمال بھی مکروہ ہے جب کہ گزری ہوئی احادیث سے اس کے برخلاف (جواز) معلوم ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ان دونوں کے درمیان بالکل تعارض نہیں ہے کیونکہ شارع علیہ السلام نے ابتداء میں تمام تصویروں سے منع فرمایا تھا۔ جب آپ کا ان سے منع کرنا راسخ ہو گیا تو ان تصاویر کو جو تحقیر کے مقام میں ہوں مباح قرار دیا کیونکہ اس میں اس بات کا اطمینان ہوتا ہے کہ نادان ایسی چیزوں کی تعظیم نہیں کریں گے جو اہانت کے مقام میں ہوں اب رہا وہ تصاویر جو اہانت کے مقام میں نہ ہوں ان کی ممانعت برقرار ہے۔