Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Etiquette

Hadith 4633

Chapter on Guarding the Tongue

In this book

Current reading

Etiquette

Chapter on Guarding the Tongue

Zujajat al-Masabih 4633Volume 4

English

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: I entered upon the Messenger of Allah (ﷺ), and he mentioned the Hadith at length until he said: I said, “O Messenger of Allah, advise me.” He said: “I advise you to fear Allah, for it is the adornment of all your affairs.” I said, “Add more.” He said: “Recite the Qur’an and remember Allah, the Mighty and Exalted, for it is a light for you in the heavens and on earth.” I said, “Add more.” He said: “Observe prolonged silence except for good, for it drives away Satan and aids you in your religion.” I said, “Add more.” He said: “Avoid excessive laughter, for it deadens the heart and removes the light from the face.” I said, “Add more.” He said: “Speak the truth, even if it is bitter.” I said, “Add more.” He said: “Do not fear the blame of any critic in the cause of Allah.” I said, “Add more.” He said: “Let what you know of your own faults 1 prevent you from [focusing on] the faults of others.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٦٣٣ - عَنْ أَبِي ذَرِّ (رضي الله عنه) قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى أَنْ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ أَوْصِنِي، قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ؛ فَإِنَّهُ أَزْيَنُ لِأَمْرِكَ كُلِّهِ»، قُلْتُ: زِدْنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِتِلاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنَّهُ فَإِنَّ ذَلِكَ لَكَ نُورُ فِي السَّمَاوَاتِ وَنَورُ فِي الأَرْضِ»، قُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ: «عَلَيْكَ بِطُوْلِ الصَّمْتِ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّهُ مُطَّرِدَةٌ لِلشَّيْطَانِ وَعَوْنُ لَكَ عَلَى أَمْرِ دِينِكَ، قُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ: «إِيَّاكَ وَكَثْرَةَ الضَّحِكِ؛ فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ وَيُذْهِبُ نُورَ الْوَجْهِ»، قُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ: قُلِ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرَّا»، قُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ: «لَا تَخَفْ فِي اللهِ لَوْمَةَ لائِمٍ قُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ: «لِيَحْجُزَكَ 1عَنِ النَّاسِ مَا تَعْلَمُ مِنْ نَفْسِكَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6214
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، پھر انہوں نے ایک طویل حدیث بیان کی یہاں تک کہ کہا: میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کچھ نصیحت کیجئے، آپ نے فرمایا: میں تم کو اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ وہ زیادہ زینت دینے والا ہے تیرے تمام معاملات کو، میں نے عرض کیا: آپ مجھے مزید نصیحت فرمائیں، آپ نے ارشاد فرمایا: تو قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ بزرگ و برتر کے ذکر کو لازم کر لے کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لئے ذکر ہے اور زمین میں تیرے لئے نور ہے۔ میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اضافہ فرمایئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو طویل خاموشی کو لازم کر لے کیونکہ وہ شیطان کو بھگانے کا ذریعہ ہے اور دین کے معاملہ میں تیرے لئے مدد ہے، میں نے عرض کیا: اور اضافہ فرمایئے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم زیادہ ہنسی سے بچو، کیونکہ وہ دل کو مردہ کر دیتی ہے اور تیرے چہرے کے نور کو دور کر دیتی ہے، میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اضافہ فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا تم حق بات بولا کر اگرچہ وہ کڑوی ہو، میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اور اضافہ فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت ڈرو، میں نے عرض کیا: آپ میرے لئے اس میں اور اضافہ فرمائیں، آپ نے فرمایا: تیرے عیوب جس کو تو جانتا1 ہے لوگوں کے برائیاں سے روک دیں۔ (بیہقی شعب الایمان)۔
Commentary and footnotes (2)

Note 1

Let what you know of your own faults prevent you from [focusing on] the faults of others

(1) His statement: “Let what you know of your own faults prevent you from [focusing on] the faults of others”: meaning, let your awareness of your own shortcomings deter you from focusing on others’ flaws, as narrated by Anas, reported by Ad-Daylami: “Blessed is the one whose own faults preoccupy him from the faults of others.” (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ليحجزك إلخ : أي ليمنعك عن الناس، أي ليمنعك عن الناس، أي عيوبهم ما تعلم من نفسك، أي من عيوبها، كما ورد عن أنس أخرجه الديلمي : طوبى لمن شغله عيبه عن عيوب الناس. كذا في «المرقاة».