اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6627
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: اعمال2 آئیں گے تو نماز آئیگی اور عرض کریگی: اے میرے رب میں نماز ہوں،
(اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: تو خیر پر ہے، صدقہ حاضر ہوگا اور عرض کریگا: اے میرے رب! میں صدقہ
ہوں، رب تبارک و تعالیٰ فرمائے گا تو خیر پر ہے روزہ حاضر ہوگا اور عرض کریگا اے میرے رب!
میں روزہ ہوں، رب تبارک و تعالیٰ فرمائے گا، تو خیر پر ہے، پھر اسی طرح دیگر اعمال آئیں گے اللہ تعالیٰ
ان سے فرمائے گا: یقیناً تم خیر پر ہو پھر اسلام آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! تو سلام ہے اور
میں اسلام ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا یقیناً تو خیر پر ہے، آج میں تیری ہی وجہ سے مواخذہ کروں گا اور
تیری ہی وجہ سے میں عطا کروں گا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا: ”وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ
آیت:85)۔ جو شخص اسلام کے علاوہ اور کوئی دین تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا
جائے گا اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔(احمد)۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “The deeds come forth…”: The meaning is that individual deeds intercede for their doer, and Allah responds with kindness. When Islam, the foundation encompassing all deeds, comes, its intercession is accepted, as it begins with praise of Allah, which is among the etiquettes of effective intercession. The deeds come either in their true forms, as everything has a reality and form in that world—like a cloud for faith, milk for knowledge, or a ram for death—or are represented in beautiful forms, as said about their weighing, or it is a metaphor for their consideration attributed to their doer, achieving salvation through them. (As stated in Al-Lama’at.)
Note 1
(۱) قوله: تجيء الأعمال إلخ حاصل المراد من الحديث أن الأعمال فرادى تجيء شافعة لصاحبها، فيردها الله بلطف، حتى إذا جاء الإسلام الذي هو الأصل وجامع الأعمال كلها قبلت شفاعته، وقد جاء مبدئًا بالثناء على الله تعالى الذي هو من آداب الشفاعة المؤثرة في القبول، ثم يجيء الأعمال إما بحقائقها وصورها التي لها في ذلك العالم؛ فإن لكل شيء حقيقة وصورة، كالظلة للإيمان، واللبن للعلم، والكبش للموت، أو يجعلها في صور حسنة، كما قيل في وزنها، أو هو كناية عن اعتبارها وملاحظتها منسوبة إلى عاملها، وحصول النجاة لهم بها. كذا في اللمعات».