Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الرِّقَاقِ (۱)

Hadith 5130

بَابُ الْبُكَاءِ وَالْخَوْفِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الرِّقَاقِ (۱)

بَابُ الْبُكَاءِ وَالْخَوْفِ

Zujajat al-Masabih 5130Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٣٠ - وَعَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةِ (رضي الله عنهما) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «وَاللَّهِ لَا أَدْرِي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُوْلُ اللهِ مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. قَالَ الشَّيْخُ التَّوْرَبُشْتِيُّ : لَا يَجُوزُ حَمْلُ هَذَا الْحَدِيْثِ وَمَا وَرَدَ فِي مَعْنَاهُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ مُتَرَدِّدًا فِي عَاقِبَةِ أَمْرِهِ غَيْرَ مُتَيَقَّنٍ بِمَالِهِ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْحُسْنَى؛ لِمَا وَرَدَ عَنْهُ مِنَ الْأَحَادِيثِ الصِّحَاحِ الَّتِي يَنْقَطِعُ الْعُذْرُ دُوْنَهَا بِخَلَافِ ذَلِكَ، وَأَنَّى يُحْمَلُ عَلَى ذَلِكَ وَهُوَ الْمُخْبِرُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى أَنَّهُ يُبَلِّغُهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ، وَأَنَّهُ أَكْرَمُ الْخَلَائِقِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى، وَأَنَّهُ أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَعٍ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ، انْتَهَى وَقَالَ الطَّيْبِيُّ : فِيْهِ وُجُوهُ، أَحَدُهَا: أَنْ يَكُوْنَ هَذَا مَنْسُوْخًا بِقَوْلِهِ تَعَالَى: {لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ}(الفتح: 2 كَمَا ذَكَرَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ} (الأحقاف: (9).
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1243 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

قوله

(۲) قوله: لوددت أن ذلك برد لنا إلخ : هذا بالنسبة إلى أجلاء الصحابة وعظماء الخلافة، وأما من بعدهم فطاعاتهم المشحونة بالغرور والعجب والرياء أسباب للمعاصي ووسائل لعقوبات العاصي غالبا إلا أن يتفضل الله برحمته وعين عنايته بأن يلحق المسيئين بالمحسنين. كذا في «المرقاة».

Note 1

شیخ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ حدیث شریف کو اور جو اس کے ہم معنی روایات آئی ہیں انکو اس بات پر محمول نہیں کیا جا سکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے انجام کار کے بارے میں کوئی تردد رہا ہو، اللہ تعالیٰ کے پاس آپ کے بہتر و عمدہ مقامات سے متعلق غیر یقینی کیفیت میں رہے ہوں؛ کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی صحیح احادیث آئی ہیں جن کے پیش نظر اس کے خلاف جو عندیہ ہے ختم ہوجاتا ہے اور اس پر اسکو کیسے محمول کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ حضور ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دینے والے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا اور آپ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ بزرگ و برتر ہیں اور آپ ہی سب سے پہلے شفاعت فرمائیں گے اور آپ ہی کی شفاعت سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور دیگر بشارتیں وغیرہ۔ اور علامہ طیبی رحمة اللہ علیہ نے کہا: اس میں کئی توجیہات ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ یہ منسوخ ہے، اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے ”لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ“ (48، سورۃ الفتح، آیت نمبر:2)(تا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی خاطر آپ کو پہلے اور بعد میں معصوم رکھے) جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ”وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ“ (46، سورۃ الاحقاف، آیت نمبر:9) کی تفسیر میں فرمایا ہے۔