English
Hudhaifah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) stood among us in a gathering 1 and did not leave out anything that would occur from that moment until the establishment of the Hour except that he spoke of it. Those who memorized it memorized it, and those who forgot it forgot it. These companions of mine knew it, and when something from it happens that I had forgotten, I see it and recall it, just as a man recalls the face of another when he is absent, then recognizes him when he sees him.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6604 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2891b (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
(1) His statement: “Book of Trials” – Trials, the plural of trial, is synonymous with test or affliction in both wording and meaning. The author of Al-Mishkat arranged the Book of Trials, organizing chapters within it until the end of the book. The specific reason for this, particularly for chapters like Virtues and Merits, is unclear, as the concept of trials does not seem to apply directly. If considered in terms of our obligation to believe and submit to them, then everything mentioned in the book falls under this category, so what is the reason for this specific designation? (As stated in Al-Lama’at)
Note 1
(1) His statement: “stood among us in a gathering” – the word “gathering” is either a verbal noun, a noun of place, or a noun of time. It is said: The negated clause, “did not leave out anything,” is a description. His statement: “that would occur” means that exists, describing “anything.” His statement: “in that gathering” relates to “leave out,” with “gathering” standing in place of the pronoun of the described. His statement: “that” describes “gathering,” referring to its time. His statement: “until the establishment of the Hour” is the limit for “occur.” The meaning is: He stood in a gathering where he did not omit anything that would happen, and it is fitting that he informed about the trials that would appear from that time until the Hour. (As stated in Al-Mirqat)
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: كتاب الفتن الفتن جمع فتنة كالمحن والمحنة لفظا ومعنى الفتنة هي الاختبار والامتحان، ثم إن مؤلف المشكاة لله جعل كتاب الفتن، ورتب فيها أبوابا إلى آخر الكتاب، ولا يظهر له وجه خصوصا باب الفضائل والمناقب ولا يظهر معنى الافتنان، ولو اعتبر باعتبار إنا مكلفون باعتقادها وانقيادها، فكل ما ذكر في الكتاب من هذا القبيل، فما وجه التخصيص ؟ كذا في اللمعات».
Note 1
(۱) قوله: قام فينا رسول الله ﷺ مقاما: إما مصدر ميمي أو اسم مكان. وقيل: اسم زمان، والجملة المنفية وهي قوله: ما ترك شيئًا إلخ » صفة. وقوله: «يكون بمعنى يوجد صفة شيئًا. وقوله: «في مقامه» متعلق بـ «ترك» ووضع مقامه موضع ضمير الموصوف. وقوله: «ذلك صفة مقامه إشارة إلى زمانه . وقوله: «إلى قيام الساعة» غاية لـ يكون». والمعنى: قام مقام ما ترك شيئًا يحدث فيه، وينبغي أن يخبر بما يظهر من الفتن من ذلك الوقت إلى قيام الساعة إلا حدث به. كذا في «المرقاة».
Note 1
1 قولہ : کتاب الفتن (فتنوں کے مضامین) لفظ ”فتن“ فتنہ کی جمع ہے اور یہ لفظ اور معنی کے اعتبار سے ”محن“ کی طرح ہے جو ”محنة“ کی جمع ہے اور فتنہ آزمائش و امتحان کو کہتے ہیں، پھر صاحب مشکوۃ رحمہ اللہ نے کتاب الفتن قائم کیا اور کتاب کے آخر تک اس میں کئی ابواب بیان کئے جس کی اس میں کوئی خاص وجہ معلوم نہیں ہوتی خاص طور پر باب الفضائل والمناقب اسکے ضمن میں لانے کی کوئی وجہ معلوم ہوتی ہے اور نہ اس میں فتنہ کا کوئی مفہوم ظاہر ہوتا ہے اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ ہمیں اس پر اعتقاد رکھنے اور اس پر عمل کرنے کے اعتبار سے ہے تو کتاب میں جو کچھ مذکور ہے سب اسی قبیل سے ہے، پھر وجہ تخصیص کیا ہے۔ (لمعات)۔ 2 قولہ : قام فينا رسول الله ﷺ مقاما (ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وقت قیام فرمایا) لفظ ”مقام“ یا تو مصدر میمی ہے یا ظرف مکان ہے۔ ایک قول ظرف زمان ہونے کا ہے اور شق جملہ یعنی آپ کا فرمان: ما ترك شيئا الخ اسکی صفت ہے اور آپ کا فرمان يكون يوجد کے معنی میں ہے جو شيئا کی صفت ہے اور آپ کا فرمان في مقامه ترك کے متعلق ہے اور لفظ مقام کو موصوف کی طرف لوٹنے والی ضمیر کی جگہ رکھا گیا ہے اور آپ کا فرمان ذلك مقامه کی صفت ہے اس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی طرف اشارہ ہے، اور آپ کا فرمان: الى قيام الساعة ليكون کی غایت ہے۔ مطلب یہ ہے اس طرح قیام فرمایا کہ اس میں ہونے والی کسی چیز کو ترک نہیں فرمایا اور مناسب یہ ہے کہ آپ نے ان سب فتنوں کی خبر دی جو اس وقت قیامت تک ظہور پذیر ہونگیں۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : قائد فتنة (فتنہ کا قائد) یعنی گمراہی کی دعوت دینے والا اور بدعت نکالنے والا۔ (مرقات)۔ 2 قولہ : فهل بعد هذا الخير من شر الخ (اور کیا اس خیر کے بعد شر ہے) اس بارے میں کہا گیا کہ پہلے شر سے مراد وہ فتنے ہیں جو سیدنا عثمان رضی اللہ کی شہادت کے وقت اور اس کے بعد رونما ہوئے اور دوسرے خیر سے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ظاہر ہونے والا خیر مراد ہے۔ اور الذين تعرف منهم وتنكر سے وہ امراء مراد ہیں جو آپکے بعد ہوئے ان میں سے بعض وہ تھے جو سنت اور عدل کو تھامے رہے اور بعض وہ تھے جو بدعت کی طرف بلاتے اور ظلم کیا کرتے تھے یا ان میں سے بعض وہ ہیں جو کبھی اچھائی پر عمل کرتے اور کبھی خواہش نفس کی اتباع میں اور دنیوی معاملات سے متعلق اپنے اغراض حاصل کرنے کی خاطر برائی پر عمل کرتے ایسا نہیں کہ وہ زیادہ بہتر امر کی تلاش اور آخرت کی رعایت چاہتے ہوں جیسا کہ ہمارے زمانے کے بعض امراء کی حالت ہے۔ اور کہا گیا: شر اول سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور آپ کے بعد کا زمانہ مراد ہے اور خیر ثانی سے سیدنا امام حسن کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ صلح واقع ہونا اور اس پر اجماع مراد ہے اور دخن سے آپکے زمانے کے بعض امراء جیسے عراق میں۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ زیادہ تھا اور وہ اختلاف ہے جو اس بارے میں خوارج نے کہا تھا اور آپ کا فرمان: دعاة على ابواب جهنم داع کی جمع ہے محدث اشرف نے کہا: یعنی ایسی جماعت جو لوگوں کو گمراہی کی طرف بلاتی ہے اور انکو انواع و اقسام کے شبہ میں ڈالنے اور خیر سے شر کی طرف سنت سے بدعت کی طرف اور زہد سے رغبت کی طرف لے جانے کے ذریعہ ہدایت سے روکتی ہے، حضرت نبی اکرم ﷺ نے بلانے والوں کی دعوت اور بلائے جانے والوں کا قبول کرنا انکو جہنم میں لیجانے اور آگے جانے کا سبب بنایا اور شبہ میں ڈالنے کے اقسام میں سے ہر قسم کو جہنم کے دروازوں میں ایک دروازہ کے درجہ میں قرار دیا۔ (مرقات)۔ 1 قوله : فمت (تو انتقال کرلے) گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گمنامی اور عزلت نشینی کو موت سے تعبیر فرمایا کیونکہ زندگی کی لذت عموماً شہرت اور میل ملاپ سے ہوتی ہے اور آپ کا فرمان: انت عاض على جذل شجرة (تم درخت کی جڑ کو دانتوں سے پکڑلو، عزلت نشینی کو اختیار کرلو) جذل الشجر درخت کی جڑ اور عض جذل الشجر مصائب برداشت کرنے سے کنایہ ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : فتنة صماء الخ (بہرہ فتنہ) مطلب یہ ہے کہ وہ اس فتنہ کے زمانہ میں حق اور باطل کے درمیان تمیز نہیں کرینگے اور نصیحت نہیں سنینگے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی نہیں کریں گے بلکہ جو اس میں حق بات کہے گا اسکو تکلیف دی جائیگی اور وہ آزمائشوں اور مصائب میں گرفتار ہوگا۔ (مرقات)۔ 2 قولہ : فتنة الاحلاس (ٹاٹ کا فتنہ) حلس کا مطلب تو حدیث شریف میں معلوم ہوگیا فتنہ کی نسبت حلس کی طرف اسکے دوام کی وجہ سے ہے؛ کیونکہ ٹاٹ فرش کے کپڑے کے نیچے ہمیشہ رہتا ہے یا اسکو کدورت سے تشبیہ دینا ہے یا یہ نسبت صرف اس لئے ہے کہ ٹاٹ گھروں میں بچھائے اور پھیلائے جاتے ہیں پس اس میں اس زمانے میں گوشہ نشینی اختیار کرنے اور گھروں میں ہی رہنے کی طرف اشارہ ہے۔ فتنہ السراء رفع کے ساتھ مبتداء ہے اور ”دخنها“ اسکی خبر ہے ”هي هرب و حرب“ پر اس کا عطف ہے اور نصب سے بھی پڑھا گیا ہے تو اس صورت میں اس کا عطف فتنة الاحلاس پر ہوگا اور دخنها الخ یہ جملہ مستانفہ ہے یہ اس فتنہ کے بیان کے لئے لایا گیا ہے یعنی اسی فتنہ سراء کا سبب تعیشات کی کثرت اور دولت کی زیادتی سے طرب و سرور ہوگا، یا یہ اس لئے فتنہ سراء ہے کہ مسلمانوں کے دین میں خلل اور سستی کی وجہ سے کفار کو سرور، و خوشی ہوگی۔ (لمعات قدرے تغیر کے ساتھ)۔ 3 قولہ : دخنها من تحت قدمي رجل من اهل بيتي (اس کی ابتداء میرے اہل بیت کے ایک آدمی کے پیروں کے نیچے سے ہوگی) صاحب البذل مجہود نے کہا: جو بات مجھے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ فتنہ وہی ہے جو ماہ رمضان ۱۳۳۴ھ میں واقع ہوا اور اسکی وجہ یہ ہوئی کہ شریف حسین بن علی ۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔ ترکوں کی حکومت میں انکی حکومت کا شریف تابعدار گورنر تھا، پھر جنگ عظیم کے زمانے میں نصاریٰ کی ایک سلطنت سے خط و کتابت کی اور یہ جنگ حکومت ترک اور حکومت نصاریٰ کے درمیان تھی پس اس نے نصرانی حکومت سے راز داری میں جا ملا اور ترکوں سے جنگ کرنے پر ان سے موافقت کر لیا اور مکہ مکرمہ میں رہنے والے ترکی لشکر کو قتل کیا اور انکی عورتوں کو قید کیا، پھر خود مختار حکومت بنا لیا اور خود کو ملک الحجاز کا نام دیا اور اسکی حکومت تقریباً دس سال رہی پھر اس کا معاملہ کمزور پڑ گیا تو لوگ اس کے بیٹے علی بن حسین سے حکومت پر مصالحت کر لے لیکن ان کا نظام مضبوط نہیں رہا اور یہ ایسا ہو گیا جیسے سرین چھپلی پر ہو، اس فتنہ کو فتنہ السراء سے موسوم کیا گیا کیونکہ اسکی بنیاد اور ان دونوں کی گفتگو کے اسباب پوشیدہ تھے کیونکہ نصرانی حکومت نے راز دارانہ طور پر اسکو مائل کیا اور ہزاروں روپات پوشیدہ طور پر اسکی طرف روانہ کیا تا کہ سلطنت اسلامی پر چڑھائی کرے اور اس سے منحرف ہو جائے، پھر ان روپات کو مختلف دیہاتوں میں تقسیم کیا اور مسلمان ترکوں سے جنگ کرنے پر ان سے اتفاق کر لیا اور یہ سب خفیہ طور پر ہوا، اتفاق سے مکہ میں موجود ترکی قائد کو اس فتنے کی کچھ خبر مل گئی تو وہ شریف کے سے اس کے بارے میں پوچھ گچھ کیا تو اس نے کعبہ کے پاس قسم کھائی کہ اس کی کوئی اصل نہیں یہاں تک کہ اس سے ترکی قائد مطمئن ہو گیا، پھر مسلمانوں کو قتل کرنے اور انکی عورتوں کو قید کرنے اور انکو کفار کے حوالے کرنے کا جو واقعہ بھی ہونا تھا ہوا۔ لا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ” سراء“ سرور سے ہو، کیونکہ اس زمانے میں تجدیدات اور سخت تنگی اور انتہائی فقر کے بعد اہل عرب کے پاس روپات اور ہر قسم کے غلے اور کھانوں کی اس قدر کثرت ہوئی کہ تنگدست عربوں میں سے ایک شخص جو دو پیسے کا مالک نہیں تھا بیس ہزار جنیہ روپوں کا مالک ہو گیا اور یہ شخص عبید اللہ بن ہویمل حائزی ہے اسی طرح اور بھی دوسرے ہیں میں نے یہ بات علماء مدینہ منورہ کے ایک معتبر ثقہ عالم سے سنا ہے۔ 1 قولہ : كورك على ضلع (جو پسلی اور سرین کی طرح ہوگا) یہ ایک مثال ہے مطلب یہ ہے کہ وہ ثابت قدم نہ رہے گا کیونکہ سرین بوجھل ہونے کی وجہ سے پسلی پر اسکے باریک ہونے کی وجہ سے ثابت نہیں رہتی، معنی یہ ہے کہ وہ اپنی کم علمی اور کمزور رائے اور کم بردباری کی وجہ سے بادشاہت کا اہل نہ ہوگا۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : فسطاط نفاق لا ايمان فيه (نفاق کا خیمہ جس میں کچھ بھی ایمان نہ ہوگا) اس سے مراد اصل ایمان ہے یا کمال ایمان ہے، اس میں منافقین کے اعمال جیسے جھوٹ، خیانت، عہد شکنی اور اس جیسی چیزیں ہونے کی وجہ سے ہے۔ (مرقات)۔ 2 قولہ : قوله كقطع الليل المظلم (تاریک رات کے ٹکڑوں کے جیسا) یعنی ہر فتنہ اپنی شدت اور تاریکی میں اور اس کا معاملہ غیر واضح ہونے میں تاریک رات کے ٹکڑے کی طرح ہوگا۔ (مرقات)۔ 3 قولہ : يمسى مؤمنا ويصبح كافرا (شام کرے گا ایمان کی حالت میں اور صبح کرے گا کافر ہو کر) راجح قول یہ ہے کہ اصباح اور امساء سے وقتاً فوقتاً لوگوں کی تبدیلی مراد ہے اس سے وہ خاص دو وقت مراد نہیں ہیں، اس میں کنایہ ہے کہ ان کے احوال بدلتے جائیں اور ان کی باتوں میں تذبذب ہوگا اور ان کے کام قسم قسم کے ہوتے جائیں گے، جیسے عہد کرنا توڑنا، امانت اور خیانت اچھائی اور برائی سنت و بدعت ایمان و کفر کہ ہر وقت ایک ایک قسم کا کام کریں گے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : بادروا بالاعمال الخ (نیک کاموں میں جلدی کرو) اس کا خلاصہ یہ ہیکہ تاریک فتنے جیسے قتل و غارتگری ہے، مسلمانوں کے درمیان دین و دنیا کے معاملہ میں اختلافات کے رونما ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، کیونکہ ان فتنوں میں کامل طور پر عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے، یہاں مراد فتنوں کی حالت کو تشدید دیکر بیان کرنا ہے کہ وہ زمانہ نہایت خراب اور برا ہے، فتنے کے سبب کا پتہ نہیں چلے گا فتنے سے نکلنے اور بچنے کا راستہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا۔ (مرقات)۔ 1 قوله : خير مال المسلم (مسلمان کا بہترین مال) اگر آپ یہ کہیں کہ اس میں گوشہ نشینی افضل ہونا ثابت ہے اور اسلامی اصول و قواعد تو میل جول افضل ہونے کے متقاضی ہیں اسی لئے اہل محلہ کے میل جول کیلئے پنجگانہ نمازوں میں جماعت اور اہلیان شہر کے میل جول کیلئے جمعہ، شہر اور اس کے اطراف و اکناف کے افراد کے میل جول کے لئے عید اور اہل آفاق کے اجتماع کے لئے۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔۔ ۔۔باقی حاشیہ۔۔۔میدان عرفات کا وقوف مقرر کیا گیا، اسی لئے لفظ کو یعنی نہیں گرایا ہوا، پرچل جائے تو اس کو شہر سے گاؤں کی طرف لے جانا منع ہے اور اس کا عکس جائز ہے یعنی گاؤں سے شہر کو لانا جائز ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اوقات و احوال مختلف ہوتے ہیں تو نیک صالح ہمنشین تنہائی سے بہتر ہے اور تنہائی برے ہمنشین سے بہتر ہے۔ (کرمانی)۔ 1 قوله : تعفف (صبر کرو) صیغہ امر کے ساتھ ہے بھوک کی تکلیف میں صبر و عفت تقویٰ و پرہیزگاری اور حرام سے بچنے کو لازم کر لو۔ اسی طرح شبہ کی چیزوں سے اور مخلوق سے مانگنے اور مخلوق سے امید لگائے رکھنے اور اسکی ذلت و رسوائی سے بچو۔ (مرقات)۔ 2 قوله : انه يباع القبر بالعبد (قبر کو غلام کے عوض فروخت کیا جائیگا) یہ لفظ ”بیت“ سے ہونے والے ابہام کی وضاحت ہے ظاہریہ میں ہے یہاں پر بیت سے مراد قبر ہے حضور ﷺ کی مراد یہ ہے قبروں کی جگہ تنگ ہو جائیگی تو لوگ ہر قبر کو غلام کے عوض فروخت کریں گے۔ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ قول محل نظر ہے اگرچہ کہ زندوں کو مسلسل موت آجائے اور ان میں پوری طرح سے پھیل جائے تب بھی وہ اس حد تک نہیں پہنچ سکتی؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے جگہ وسیع اور کشادہ بنا رکھا ہے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ وہ قبور کیلئے مقررہ خاص مقام ہے عام طور پر عادت یہ ہے کہ لوگ اس علاقہ سے تجاوز نہیں کرتے شرح السنہ میں ہے اس کے مفہوم کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ قبر کھودنے بنانے والے اپنی صورت حالت کی بناء پر مردوں کی تدفین سے اعراض کریں گے، یہاں تک کہ قبر کھودنے اور تدفین کرنے والا کوئی نہیں ملے گا مگر یہ کہ اسکو ایک غلام یا ایک غلام کی قیمت ادا کی جائے۔ علامہ خطابی نے کہا: اس حدیث سے ان حضرات کا استدلال ہے جن کے پاس کفن چور کے ہاتھ کاٹنا واجب ہے کیونکہ حضور نبی کریمﷺ نے قبر کو بیت کہا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ گھروں کی طرح محفوظ مقام ہے۔ میں کہتا ہوں خصوصاً جب کہ یہ بات بھی ثابت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے کفن چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا۔ لیکن، ہمارے اصحاب نے اسکو سیاست پر محمول کیا ہے۔ (مرقات) حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی سے متعلق ایک دوسری جگہ فرمایا: قبر پر لفظ بیت کے حقیقۃ یا حکماً اطلاق کرنے سے اس کا محفوظ مقام ہونا لازم نہیں آتا، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کسی نے ایسے گھر سے کوئی چیز لے لی جس کا دروازہ بند نہیں تھا یا جس کا کوئی پہریدار نہیں تھا تو بلا کسی اختلاف اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ 1 قوله : تعمر الدماء احجار الزيت (خون ڈبو دے گا احجار زیت کو) تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: وہ حرہ مقام ہے جہاں یزید کے زمانے میں سانحہ پیش آیا تھا اور اس سرکش افواج کے سربراہ مسلم بن عقبہ المری کے زمانے میں جس نے رسول اللہﷺ کے حرم پاک کو مباح قرار دیا تھا وہ اپنی فوج کے ساتھ مدینہ شریف کے حرہ مقام غربی جانب پر اُتر آیا تھا اس نے اسی حرمت کو جائز قرار دیا اور اس کے حضرات کو قتل کیا تین دن بعض روایات میں پانچ دن اس میں فساد پھیلایا رہا، تو یقیناً وہ ایسا گھل گیا جیسا کہ نمک پانی میں گھل جاتا ہے اور کچھ وقت نہیں گزرا جب کہ وہ حرمین شریفین کے درمیان تھا موت اسکو لپٹ لی اور باطل پرست وہاں پر خسارہ میں ہوگئے۔ (مرقات)۔ بذل المجہود میں ہے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حجاج نے مدینہ شریف کے علماء کبار کو شہید کیا، کہا جاتا ہے کہ اس نے دس ہزار علماء کا قتل کیا مولانا یحییٰ مرحوم نے ”التقریر“ میں اس کو تحریر کیا ہے۔ 1 قولہ: تعرض الفتن (فتنے آئیں گے یعنی آزمائش ومصائب) یہ بھی کہا گیا اس سے مراد فاسد عقائد اور باطل خواہشات ہیں۔ 2 قولہ: حدیثین (دو باتیں بیان فرمائیں) یعنی فتنے کے زمانہ میں۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ امانت کے معاملہ میں پیش آنے والی باتیں، اسی سے ان دونوں کو باب میں ذکر کرنے کی وجہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: پہلی روایت ’حدثنا ان الامانة نزلت الى اخره‘ آپ نے ہم کو بیان کیا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑوں میں اتری (الیٰ آخرہ)۔ دوسری روایت ”حدثنا عن رفعها،“ (آپ نے ہم کو اس کے اٹھائے جانے کے بارے میں بیان فرمایا) امانت سے مراد وہ تکلیف ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مکلف کیا ہے اور وہ عہد و پیمان جو ان سے لیا ہے۔ شارحین نے کہا جذر کل شئی اصله کے معنی کسی بھی چیز کی جڑ ہے یعنی امانت جو سب سے پہلے مردان خدا کے قلوب میں اتری اور ان پر جم گئی اور وہی کتاب و سنت کو تھامنے کا باعث ہوئی، حضور ﷺ کا قول ”ثم علموا“ کے یہی معنی ہیں اور حضور ﷺ کا قول ”النومة“، سونا و دیا تو اپنی حقیقت پر ہے جو اس کے بعد ہے وہ امر اضطراری ہے۔ نیند وہ کنایہ ہے ایسی غفلت سے جو برائی کے ارتکاب کا سبب بنتی ہے اور امانت و ایمان میں کمی کا باعث ہوتی ہے اور شرح مسلم میں ہے صاحب التحریر نے کہا: اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ امانت دلوں سے تھوڑی تھوڑی ختم ہو جائے گی جب اسکا پہلا حصہ زائل ہو جائے گا تو اسکا نور بھی زائل ہو جاتا ہے اور اس کے پیچھے چھالے کی طرح ایک تاریکی آ جاتی ہے اور وہ اپنے سے پہلے والے رنگ کے خلاف ایک نئے رنگ کا آ جانا ہے اور جب اس کے بعد کل حصہ زائل ہو جاتا ہے تو وہ آبلے کی طرح رہ جاتا ہے اور وہ ایک مضبوط دھبہ ہوتا ہے جو ایک مدت کے بعد ہی زائل ہوتا ہے اور یہ تاریکی پہلے والی سے بڑھ کر ہوتی ہے، پھر اس نور کے دل میں وقوع پذیر ہو کر زائل ہونے اور اس کے اس (دل) میں قرار پانے کے بعد نکلنے اور اس کے پیچھے تاریکی کے آ جانے کو ایک چنگاری سے تشبیہ دی جس کو وہ اپنے پیر پر ڈالتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس میں اثر انداز ہوتی ہے، پھر وہ چنگاری ہٹ جاتی ہے اور وہ آبلے کے مانند باقی رہ جاتا ہے جس کو تم پھولا ہوا اونچا اور بڑا پاتے ہو جس کے نیچے کچھ نہیں ہوتا۔ ہمارے علماء میں سے ایک شارح نے کہا کہ امانت کا دلوں سے اٹھا لیا جانا (امانت) والوں کیلئے ان کے ارتکاب کئے گئے گناہ کی سزا ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو وہ اپنے قلوب کو اسکی سابقہ حالت پر نہیں پاتے اور اس میں ایک دھبہ باقی رہ جاتا ہے کبھی تو وہ چھالے کی طرح ہوتا ہے اور کبھی آبلہ کی طرح جیسے کام کی وجہ ہاتھ پر گٹھا آ جانا ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 1 قوله : واختلفوا الخ (وہ آپس میں اختلاف کریں گے) وہ ایک دوسرے میں گڈمڈ پڑیں گے اور ان کے دین کا معاملہ مشتبہ ہو جائے گا تو امانت دار اور خائن نیک اور بد پہچانے نہیں جائیں گے۔ (مرقات)۔ 1 قوله : يتقارب الزمان (زمانہ قریب قریب ہو جائے گا) یعنی دنیا و آخرت کا زمانہ قریب ہو جائے گا اس سے مراد قیامت کا قریب ہونا ہے علامہ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اس سے حضور ﷺ کی مراد قرب قیامت ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے حضور ﷺ کی مراد زمانہ والوں کا شر میں بعض کا بعض سے قریب ہونا ہے، یا نفس زمانہ کا ایک دوسرے سے شر میں قریب ہونا ہے یہاں تک کہ پہلا اور آخری ایک دوسرے کے مشابہ ہو جائیں گے یہ بھی کہا گیا کہ اہل (زمانہ) کی عمریں کم ہو جائیں گی یہ بھی احتمال ہے کہ یہ کنایہ ہے کہ کثرت سے نافرمانی کی وجہ سے زمانہ میں برکت کم ہو جائے گی۔ علامہ قاضی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اس میں احتمال ہے اس کی مراد یہ ہے کہ حکومتیں اور زمانے ختم ہونے کو ہوں گے تو ان کا زمانہ قریب ہو جائے گا اور ان کا وقت بھی قریب آ جائے گا۔ (مرقات)۔ 2 قوله : القاتل والمقتول في النار (قاتل و مقتول دوزخ میں ہوں گے) امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اب رہا قاتل تو ظاہر ہے اور مقتول کیوں کہ وہ اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس میں صحیح اور مشہور مذہب کی دلیل موجود ہے کہ جو برائی کی نیت کیا اور اسی نیت پر مصر رہا تو گناہ گار ہوگا اگرچہ وہ اس پر عمل نہ کیا ہو اور اس کو بولابھی نہ ہو۔ (مرقات)۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دوسری جگہ کہا: قاتل اور مقتول کا اہل دوزخ سے ہونا یہ ایسے شخص پر محمول کیا جائے جس کیلئے کوئی تاویل نہیں ہے اور دونوں کا لڑنا عصبیت وغیرہ۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ کی وجہ سے ہوگا، پھر اس کے آگ میں ہونے کا مطلب یہ ہے وہ اس کا مستحق ہوگیا ہے ہوسکتا ہے اس کی سزا دی جائے اور ہوسکتا اللہ تعالیٰ اس کو درگزر فرمائے اور یہ اہل حق کا مذہب ہے، اس پر اس جیسے اور امور کی اسی طرح تاویل کی جائے گی، اس بات کو جان لو کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان جو خون بہا وہ اس وعید میں داخل نہیں ہے۔ اہل سنت وحق کا مذہب یہ ہے کہ ان سے متعلق اچھا گمان کیا جائے جو امور ان کے درمیان رونما ہوئے ان چیزوں سے کف لسان کیا جائے اور ان کے درمیان جنگوں کی اچھی تاویل کی جائے گی جب یہ سب حضرات مجتہد ہیں اور وہ اس کی اچھی تاویل رکھتے ہیں انہوں نے نہ کسی نافرمانی کا قصد کیا اور نہ دنیا کا بلکہ ہر فریق نے یہی اعتقاد رکھا کہ وہ حق پر ہے اور ان کا مخالف باغی ہے جس سے لڑنا واجب ہے تاکہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ کر آ جائیں ان میں سے بعض حق پر تھے اور بعض اجتہادی خطا پر تھے اور اس خطا میں وہ معذور ہیں؛ کیونکہ وہ اجتہاد کی وجہ سے تھا اور جب مجتہد خطا کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ان جنگوں میں حق اور درستگی پر تھے یہ اہل سنت کا مذہب ہے، معاملات مشتبہ تھے یہاں تک کہ صحابہ کی ایک جماعت حیران تھی اور انہوں نے دونوں جماعتوں سے علیحدگی اختیار کی اور قتال نہیں کئے اور انہیں صواب کا یقین نہیں ہوا۔ 1 قوله : في الهرج (عام فتنہ) یعنی کہ فتنہ اور مسلمانوں کے درمیان جنگوں کے زمانہ میں۔ (مرقات)۔ 1 قوله : قوله فواه (کس قدر اچھا ہے) اس کے معنی حسرت و رنج کرنے کے ہیں اور کبھی کسی چیز پر خوش ہونے اور اچھا سمجھنے کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی کیا ہی خوب اور کیا ہی اچھا اس کا صبر ہے جس نے صبر کیا اور یہ بھی کہا گیا کہ اس کے معنی ”اس کیلئے خوشخبری ہے“۔ 2 قوله : فلم يبق من اصحاب بدر احد (اصحاب بدر سے کوئی باقی نہیں رہا) یعنی وہ لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فتنے سے واقعہ حرہ کے فتنے تک انتقال کر گئے، کیونکہ وہ سب اس فتنے میں شہید کئے گئے اور حضرات بدریین میں جنہوں نے سب سے اخیر میں انتقال کیا وہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں وہ واقعہ حرہ سے چند سال پہلے وصال فرمائے، اس کا خلاصہ یہ ہے --- بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر--- ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔ کہ وہ دو مرتبہ فتنہ میں مبتلا نہیں ہوئے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کی برکت سے ان کی حفاظت و صیانت فرمائی حضور ﷺ کا قول پھر تیرا فتنہ واقع ہوگا کہا گیا تیرے فتنے سے مراد ابن حمزہ خارجی کا خروج کرنا جو مروان بن محمد بن مروان بن حکم کے زمانے میں ہوا اور یہ بھی کہا گیا کہ ازارقہ کا فتنہ ہے لیکن پہلا قول مناسب ہے کیونکہ وہ مدینہ شریف کے ساتھ مخصوص ہے اور ازارقہ کا فتنہ اس کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ ظاہر حدیث سے پہلے دو فتنوں کی طرح اس فتنہ کا بھی اختصاص سمجھ میں آتا ہے جیسا کہ حواشی میں ہے۔ (لمعات)۔ 1 قوله : على يدى غلمة من قريش (قریش کے چند نوجوان لڑکوں کے ہاتھ پر ہلاکت ہوگی) علامہ مظہر نے کہا: ہوسکتا ہے ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو خلفاء راشدین کے بعد تھے جیسے یزید اور عبدالملک بن مروان اور ان کے علاوہ۔ (مرقات)۔ 2 قوله : لم يرفع الخ (تلوار نہیں اٹھائی جائے گی) اگر وہ ایک شہر میں نہیں چلی تو کسی دوسرے شہر میں چلتی رہے گی۔ (مرقات)۔