اردو
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا ہے کہ کوئی شخص ٹھیرے ہوئے پانی میں جو بہتا ہوا نہ ہو پیشاب کر کے اس سے غسل وغیرہ نہ
کرے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔)
اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا: کوئی شخص جنابت کی حالت
میں ٹھیرے ہوئے قلیل پانی میں غسل نہ کرے، لوگوں نے کہا کہ اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پھر کیا کیا
جائے؟ آپ نے کہا کہ ہاتھوں سے تھوڑا تھوڑا پانی لے کر غسل کرنا چاہئے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 239 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 283 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 282a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement "None of you should wash..." — The Qadi said: The restriction of the prohibition to a specific state indicates that the water used for the ritual washing (ghusl) after janabah (impurity) if it is stagnant, no longer retains its purity. Otherwise, there would be no benefit in the restricted prohibition. This is either because the purity is lost, as said by Abu Hanifa, or because the water ceases to be purifying, as said by Shafi'i. This is also the opinion of Muhammad, and it is the view followed in legal rulings, as mentioned in "Al-Mirqaat."
Note 1
(۱) قوله : لا يغتسل إلخ : قال القاضي: تقييد النهي بالحال يدل على أن المستعمل في غسل الجنابة إذا كان راكدا لا يبقي على ما كان، وإلا لم يكن للنهي المقيد فائدة. وذلك إما بزوال الطهارة كما قال أبو حنيفة، أو بزوال الطهورية كما قال الشافعي. اهـ وكذا هو قول محمد، وعليه الفتوى، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: ٹھیرے ہوئے پانی میں جنابت کے غسل کی ممانعت کے متعلق قاضی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں غسل کی ممانعت کو حالت جنابت کے ساتھ مشروط قرار دیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پانی جو غسل جنابت میں استعمال کیا جائے جب کہ وہ ٹھیرا ہوا ہو تو وہ اپنی اصلی حالت پر نہیں رہتا اگر یہ بات نہ ہوتی تو ممانعت سے کوئی فائدہ مقصود نہ ہوتا۔ اسی لئے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ پانی طاہر نہ رہا بلکہ ناپاک ہو گیا اور امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ پانی پاک رہا لیکن پاک کرنے والا نہ رہا اور یہی قول امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ (مرقات)۔