English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When Allah formed Adam in Paradise 1, He left him as long as He willed to leave him. Iblis began circling around him, looking 2 at what he was. When he saw him hollow, he knew he was created in a form that could not restrain itself.”
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2611 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: “When Allah formed Adam in Paradise, He left him as long as He willed to leave him”: That is, in Paradise. At-Turbushti said: I find this Hadith very problematic, as it is established by the Book and Sunnah that Adam was created from parts of the earth, and it is indicated that he entered Paradise as a living human, supported by the implication of the verse: “And We said, ‘O Adam, dwell, you and your wife, in Paradise’” [Al-Baqarah: 35]. A commentator said: It is possible that the words “in Paradise” are a mistake by some narrators who misheard. The Qadi said: The narrations consistently state that Allah, the Exalted, created Adam from dust gathered from the surface of the earth, kneaded it until it became clay, then left it until it became sounding clay, and it was placed between Mecca and-Taif in the valley of Na’man, one of the valleys of Arafat. However, this does not contradict his formation in Paradise; it is possible that his clay, after being kneaded on earth and left through its stages until it was ready to receive the human form, was transported to Paradise, formed, and infused with the spirit. Allah’s statement: “O Adam, dwell, you and your wife, in Paradise” [Al-Baqarah: 35] does not indicate that he entered Paradise after the spirit was breathed into him, as the meaning of dwelling is settling and establishment, and the command to dwell does not necessitate being outside Paradise beforehand. This is especially so since narrations consistently state that Hawwa was created from Adam in Paradise, and she is one of those commanded. Perhaps, since Adam’s material, which is his body, is from the lower world, and his form, which distinguishes him from other animals and likens him to angels, is from the upper world, the Prophet (ﷺ) attributed his material’s origin to the earth, as it came from it, and his form’s occurrence to Paradise, as it took place there. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “looking at what he was”: This is an explanatory resumption or a circumstantial clause, meaning pondering his outcome and reflecting on what would emerge from him. His statement: “When he saw him hollow”: An-Nawawi said: The hollow in describing a human is the opposite of As-Samad in describing the Creator. As-Sayyid said: He is called As-Samad because He is the one to whom needs are directed and sought for desires. The human is dependent on others to fulfill his needs and on food and drink to fill his hollow, so he has no steadfastness in anything, outwardly or inwardly, but is unstable, changeable, and subject to afflictions. (Extracted from Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : لما صور الله آدم في الجنة تركه ما شاء الله أن يتركه أي في الجنة. قال التوربشتي له: أرى هذا الحديث مشكلا جدا، فقد ثبت بالكتاب والسنة أن آدم خلق من أجزاء الأرض، وقد دل على أنه أدخل الجنة، وهو بشر حي، ويؤيده المفهوم من نص الكتاب : ﴿وَقُلْنَا يَتَشَادَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾ (البقرة: ٣٥). وقال شارح: قيل: يحتمل أن تكون الكلمتان أعني في الجنة سهوا من بعض الرواة أخطأ سمعه فيهما. قال القاضي له: الأخبار متظاهرة على أنه تعالى خلق آدم من تراب قبض من وجه الأرض، وخمره حتى صار طينا، ثم تركه حتى صار صلصالا، وكان ملقى بين مكة والطائف ببطن نعمان، وهو من أودية عرفات، ولكن ذلك لا ينافي تصويره في الجنة؛ الجواز أن تكون طينته لما خمرت في الأرض وتركت فيها حتى مضت عليها الإطوار واستعدت لقبول الصورة الإنسانية حملت إلى الجنة وصورت ونفخ فيها الروح. وقوله تعالى: ﴿يَتَادَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾ (البقرة: (٣٥) لا دلالة له أصلا على أنه أدخل الجنة بعد ما نفخ فيه الروح؛ إذ المراد بالسكون الاستقرار والتمكن، والأمر به لا يجب أن يكون قبل الحصول في الجنة، كيف وقد تظاهرت الروايات على أن حواء خلقت من آدم في الجنة وهي أحد المأمورين. ولعل آدم ا لما كانت مادته التي هي البدن من العالم السفلي وصورته التي بها يتميز عن سائر الحيوانات ويضاهي بها الملائكة من العالم العلوي أضاف الرسول ﷺ تكون مادته إلى الأرض؛ لأنها نشأت منها، وأضاف حصول صورته إلى الجنة؛ لأنها وقعت فيها. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله : ينظر ما هو استئناف بيان أو حال: أي يتفكر في عاقبة أمره ويتأمل ماذا يظهر منه. وقوله: «فلما رآه أجوف». قال النووي بلكه : الأجوف في صفة الإنسان مقابل للصمد في صفة الباري. قال السيد سمي بالصمد؛ لأنه يصمد إليه في الحوائج ويقصد إليه في الرغائب، فالإنسان مفتقر إلى الغير بقضاء حوائجه، وإلى الطعام والشراب ليملأ جوفه فإذن لا تماسك له في شيء ظاهرا وباطنا، بل يكون متزلزل الأمر متغير الحال متعرضا للآفات. التقطته من «المرقاة».
Note 1
۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ کے اجزاء سے پیدا کئے گئے ہیں۔ (قرآن مجید کی آیت: ”وَقُلْنَا يَآدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ“ (اور ہم نے فرمایا اے آدم تم اور تمہاری بی بی جنت میں رہو) سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ جنت میں جس وقت داخل کئے گئے وہ بشر تھے اور حیات تھے۔ ایک شارح نے یہ فرمایا ہے کہ اس روایت میں جو ”فی الجنة“ جنت میں ان کی صورت بنائی گئی کے کلمات ہیں، ہوسکتا ہے کہ یہ کسی راوی سے بھول ہوگئی ہو اس کو سننے میں ان سے تسامح ہوا ہو۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا: بکثرت احادیث ہیں کہ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سطح زمین کی مٹی سے پیدا کیا ہے اور اس کو اس قدر خمیر دی گئی کہ وہ گیلی مٹی بن گئی، اس کو اس قدر چھوڑ رکھا گیا کہ وہ صلصال (کھنکھناتی مٹی) بن گئی اور مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وادی نعمان کے نیچ اس کو ڈال دیا گیا اور یہ عرفات کی وادیوں میں سے ہے، لیکن یہ جنت میں ان کی صورت بنانے والی روایت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس کو زمین میں اس کی خمیر تیار کی گئی ہو اس کو زمین میں اس قدر چھوڑ رکھا گیا ہو کہ اس پر کئی اطوار گزر رہے ہوں وہ انسانی صورت بننے کے قابل ہوگئی ہو، پھر اس کو جنت میں منتقل کیا جا کر اس کی صورت بنائی گئی اور اس میں جان ڈالی گئی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿يَآدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾ اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو، اس میں اس بات پر کوئی دلالت نہیں ہے کہ ان میں جان ڈالنے کے بعد جنت میں داخل کئے گئے کیونکہ اُسکن کے حکم سے مراد قرار پانا اور جمے رہنا ہے اور ضروری نہیں کہ قرار پانے کا حکم جنت میں جانے سے پہلے دیا گیا ہو۔ جبکہ بکثرت روایات جو اس امر کی دلیل ہیں کہ حواء علیہا السلام کو جنت میں آدم علیہ السلام سے پیدا کیا گیا اور حواء علیہا السلام کو (جنت میں رہنے کا) حکم ملا ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ آدم علیہ السلام کا مادہ یعنی ان کا بدن عالم سفلی سے ہو اور ان کی وہ صورت جس کی وجہ سے وہ تمام حیوانات سے ممتاز ہیں اور اس کی وجہ سے فرشتوں سے مشابہت رکھتے ہیں، عالم علوی سے ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدم علیہ السلام کے مادہ کی نسبت زمین کی طرف کی کیوں کہ وہ اسی سے بنائے گئے اور آپ کی صورت کی نسبت جنت کی طرف کی؛ کیونکہ وہ صورت جنت میں بنی ہے۔ (مرقات)۔ 1 ﴿قولہ ينظر ماهو۔ (دیکھتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے) یہ بیان یا حال ہے یعنی اس کے انجام کے بارے میں غور کرتا ہے کہ اس سے کیا چیز ظاہر ہوگی۔ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ ۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔ (جب وہ اسکو اندر سے خالی دیکھا) امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اجوف انسان کی صفت میں اللہ کی صفت صمد کے مقابل ہے۔ علامہ سید نے فرمایا: اللہ کی صفت صمد ہے اس لئے کہ ضرورتوں میں اسی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور مقاصد میں اسی کا ارادہ کیا جاتا ہے، تو انسان اپنی ضرورتوں کی تکمیل میں دوسرے کا محتاج ہے، اسی طرح پیٹ بھرنے کے لئے کھانے اور پانی کا محتاج ہے، اسی وجہ سے وہ اپنے ظاہر و باطن میں کسی ایک چیز پر قائم نہیں ہے بلکہ اس کا معاملہ الٹ پلٹ ہوتا ہے اور اس کی حالت بدلتی رہتی ہے اور وہ آفات سے دوچار ہوتا رہتا ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 1 قوله نبی مکلم۔ یعنی صرف نبی ہی نہیں بلکہ نبی مکلم تھے ان پر صحیفے نازل ہوئے۔ (مرقات)۔ 2 قوله مائة الف واربعة وعشرون الفا الخ (ایک لاکھ چوبیس ہزار) اس حدیث شریف میں جو عدد آیا ہے اگرچہ کہ صراحت سے ہے لیکن قطعی عدد نہیں، اس لئے کسی عدد میں حصر کئے بغیر اجمالی طور پر تمام انبیاء و رسل علیہم السلام پر ایمان لانا ضروری ہے تا کہ کوئی نبی چھوٹ نہ جائے اور غیر نبی ان میں داخل نہ ہونے پائے۔ (مرقات، اور شرح عقائد نسفیہ)۔ 1؎ قوله لم يكذب ابراهيم الا ثلاث كذبات (حضرت ابراہیم علیہ السلام خلاف واقعہ نہیں کہے سوائے تین واقعات کے) تین واقعات کو بطور حصر کے ذکر کرنے پر امام مسلم کی اس روایت کی وجہ سے اعتراض وارد ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں کے بارے میں هذا ربي فرمایا: تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ واقعہ آپ کے بچپن کے زمانہ کا ہے وہ زمانہ میں احکام متعلق نہیں ہوئے یا اس سے مقصود قوم کو ڈانٹنے اور قائل کرانے کے لئے سوال کرنا تھا۔ امام مازری نے فرمایا ہے، انبیاء علیہم السلام معصوم ہیں، اللہ کے احکام کے پہنچانے میں ان سے چھوٹی بڑی کسی قسم کی کوئی غلط بیانی نہیں ہوتی۔ ان سے اس طرح کی کوئی بات کا صادر ہونا جائز ہوتا تو ان کی باتوں پر سے اعتماد اٹھ جاتا کیونکہ منصب نبوت اس سے بلند اور پاک ہے۔ اب رہا تبلیغ احکام سے جو چیز متعلق نہیں ہے اور وہ صغائر میں سے ہو جیسے امور دنیا میں سے کوئی نہایت چھوٹی و معمولی خلاف واقعہ بات ان سے اس کا وقوع ممکن ہونے اور اس میں بھی ان کے معصوم ہونے میں سلف و خلف کے دو قول مشہور ہیں: قاضی عیاض نے فرمایا: صحیح بات یہی ہے کہ انبیاء علیہم السلام سے جھوٹ مطلق صادر نہیں ہوتی۔ اب رہی مذکورہ باتیں در حقیقت وہ کذب نہیں ہیں بلکہ سامع کے فہم کے اعتبار سے بظاہر کذب معلوم ہو رہی ہیں، میں کہتا ہوں ہمارے علماء میں سے بعض شارحین نے اسی طرح کی بات کہی ہے دراصل اس کا نام کذب اس لئے رکھا گیا کہ وہ معاریض و کنایات میں سے ہیں، کیونکہ حق کے معاملہ میں بطور کنایہ بات کرنے سے انبیاء علیہم السلام کی شان بالاتر ہے تو یہ بات ان حضرات کے حق میں اس درجہ کی ہے جس طرح دوسروں کے حق میں جھوٹ بات ہے، یا اس لئے کہ اس میں جھوٹ کی صورت نظر آ رہی ہے لہذا اس کو کذب کا نام دیا گیا۔ اور علامہ اکمل نے کتاب شرح المشارق میں فرمایا: اس میں حقیقی طور پر جھوٹ کا بھی احتمال ہے کیونکہ لم يكذب ابراهيم الا ثلاث كذبات نفی سے استثناء کرنا اثبات ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں عذر کی ضرورت ہوگی، کیونکہ اصلاح کے لئے جب جھوٹ جائز ہے، تو تمہارا کیا خیال ہے جب کہ ظالموں کے ظلم کو دور کرنے کے لئے ضرورت ہو۔ اور علامہ ابن ملک فرماتے ہیں اس میں جھوٹ کا احتمال کیسے ہو سکتا ہے جب کہ ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو میں ⟦?⟧ و قولی قرینہ موجود ہے کہ یہاں --- بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر --- ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ اس کے مجازی معنی مراد ہے ظاہری معنی مراد نہیں۔ کیا یہ بات دکھائی نہیں دیتی کہ آپ کے منجملہ کذبات میں سے ایک یہ ہے حضرت سارہ کے لئے آپ نے فرمایا انك اختى فى الاسلام (تم میری اسلامی بہن ہو) آپ کے قول میں فی الاسلام کا لفظ قرینہ ہے کہ یہاں نسبی بہن مراد نہیں ہے اور آپ کا یہ ارشاد ”بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هٰذَا“ (بلکہ اس کو ان کا بڑا کیا ہے) مجازات سے کسی کام کا صادر ہونا محال ہے اور یہ قرینہ ہے اس بات پر کہ اس میں تاویل ہے یا یہاں مجازی معنی مراد ہیں لہذا یہ جھوٹ نہیں ہے اور میں یہ کہتا ہوں کہ اس میں ایک قول یہ بھی ہے کہ ”بَلْ فَعَلَهُ“ پر وقف ہے اور ”كَبِيرُهُمْ هٰذَا“ نیا جملہ ہے (مرقات)۔ اور صاحب درمختار نے فرمایا: اپنے حق کے لئے اور اپنے اوپر سے ظلم کو روکنے کے لئے جھوٹ جائز ہے اس سے مراد تعریض یعنی (کنایہ و توریہ) ہے، کیونکہ حقیقی کذب حرام ہے اور فرمایا: یہی بات حق ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ“ (اندازہ سے جھوٹ کہنے والے ہلاک ہو گئے) یہ سارا مضمون مجتبی سے ماخوذ ہے)۔ 1 اثنتين منهن فى ذات الله۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے ایک شارح نے اس کی وضاحت میں کہا کہ اس سے اللہ کے حکم اور اس سے مختص امور کے بارے میں مراد ہے، کیونکہ اس میں خود ابراہیم علیہ السلام کی کوئی حاجت نہیں تھی اس لئے کہ آپ نے اپنی پہلی بات سے ارادہ کیا تھا اس عذر کی بنیاد پر قوم سے پیچھے رہیں اور پھر بتوں کے ساتھ وہ عمل کریں جو آپ نے کیا۔ اور دوسری بات سے آپ کا مقصد ان پر دلیل و حجت قائم کرنا تھا کہ وہ گمراہ ہیں، بیوقوف ہیں اس چیز کی عبادت کر رہے ہیں جو ان کو نہ نفع پہنچا سکتی ہے اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں ذات سے پہلے مضاف محذوف ہو سکتا ہے، فی کلام ذات اللہ یعنی مذکورہ یہ دو کام اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق گفتگو کے بارے میں ہیں اور تیسری بات ”وہ میری بہن ہے“ حضرت سارہ سے متعلق ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور یہ (تیسری بات بھی) اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ہے، کیونکہ وہ بات ظالم کافر کو بہت بڑے فحش کام سے روکنے کا سبب ہی تو ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں اور صرف دو کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں خصوصیت سے ذکر کیا گیا اس لئے کہ وہ دو تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کے بارے میں ہیں، تیسرے میں خود آپ کے لئے فائدہ ہے اور آپ کی زوجہ کی حفاظت بھی ہے۔ (مرقات)۔ 2 قوله وقال۔ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بات سے متعلق فرمایا: جو آپ نے فرمایا کہ ”یہ میری بہن ہے“ اس سے اسلامی بہن مراد ہے۔ 1 قولہ لیس علی وجہ الارض مومن غیری وغیرک. (روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے) اس میں ایک اشکال یہ ہے کہ اس وقت حضرت لوط علیہ السلام ایمان میں ان دونوں کے ساتھ شریک تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ، (29 العنکبوت، آیت:26) پس اس پر لوط ایمان لائے تھے اس کے جواب میں علامہ عسقلانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ اس سرزمین کی بات ہے جس میں یہ واقعہ پیش آیا اس وقت وہاں لوط علیہ السلام نہیں تھے، پھر اس ظالم کے معاملہ سے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ اس کے سیاسی قوانین میں یہ تھا کہ وہ ظالم شوہر والی خواتین کے درپے ہوتا تھا، کیونکہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ جب وہ شوہر کو اختیار کرتی ہے تو نے اپنے آپ کو بادشاہ روکنے کا حق نہیں ہے بلکہ بادشاہ اس کے لئے اس کے شوہر سے زیادہ حقدار ہے اب رہی وہ عورتیں جن کے شوہر نہیں ہیں تو وہ عورتیں جب تک راضی نہ ہوں ان پر اس کا حق نہیں ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے آپ کی مراد یہ ہو کہ اگر اس کو یہ (کہ تم میری بیوی ہو) معلوم ہو جائے تو طلاق دینے کے لئے مجھے مجبور کرے گا یا تم پر حرص ہو کر مجھے قتل کر دینے کا ارادہ کرے گا۔ اور اس سے متعلق یہ بھی کہا گیا ہے، بادشاہ کے دین میں پیغمبروں کے رشتہ دار خواتین سے شادی کرنا یا ان سے کسی قسم کا تمتع کرنا جائز نہیں تھا (اسی لئے آپ نے فرمایا: یہ میری بہن ہے) (مرقات)۔ 2 قولہ ذهب يتناولها بيده (ان کو اپنے ہاتھ سے پکڑنے گیا) آپ سے کوئی سوال و جواب کے بغیر ہی یا سوال و جواب کو سننے کے بعد آپ کے نہایت حسن و جمال کی وجہ سے آپ کی جانب میلان کا غلبہ ہونے سے پکڑنے گیا۔ (مرقات)۔ 1 قوله يا بني ماء السماء. (اے آسمان کے پانی کے بچو) علامہ قاضی نے فرمایا: ان سے سارا عرب مراد ہے، کیونکہ یہ بارش کے پانی کی تلاش کرتے اور اسی سے زندگی گزارتے تھے اور عرب اگرچہ سارے کے سارے سیدہ بی بی ہاجرہ کے بطن سے نہیں تھے لیکن اس میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کو دوسروں پر غلبہ دیا گیا ہے اور یہ بھی قول ہے کہ ان سے انصار مراد ہیں، کیونکہ وہ عامر بن حارثہ ازدی کی اولاد ہیں جو حسان بن منذر کے دادا ہوتے ہیں اور وہ ماء السماء آسمان کے پانی سے ملقب تھے ان کے وسیلے سے بارش طلب کی جاتی تھی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بنی ماء السماء سے حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی کی اولاد مراد ہو اور بارش کے پانی کی پاکیزگی کی طرح ان کے نسب کی پاکیزگی اور آباء و اجداد کی شرافت و بزرگی کی وجہ سے بنی ماء السماء (آسمان کے پانی کے بچے) کہا گیا ہے۔ علامہ ابن الملک نے فرمایا: ان کو بنی ماء السماء اس لئے بھی کہا گیا ہے وہ سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی اولاد سے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے زمزم کو کھینچ دیا تھا اور وہ آسمان سے آیا ہوا پانی ہے (والله سبحانه تعالى أعلم)۔ علامہ طیبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر تم کہتے ہو: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صادق و مصدوق نے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دامن سے ان کی براءت کی ہے تو پھر۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ --- باقی حاشیہ --- سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام نے حدیث شفاعت میں کیوں فرمایا: اني كذبت ثلاث كذبات (مجھ سے تین خلاف واقعہ باتیں سرزد ہوئیں) اور ان کو ذکر کیا خلیل اللہ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا نفسي نفسي نفسي حالانکہ یہ معاریض و توریہ ہیں مگر بظاہر خلاف واقعہ معلوم ہونے کی وجہ سے ان باتوں کو کذب کا نام دیا گیا، میں کہتا ہوں اگرچہ ہمارے پاس باعتبار توریہ یہ کذب نہیں ہیں پھر بھی بظاہر اس میں سیدھی بات سے ہٹی ہوئی بات معلوم ہوتی ہے اسی لئے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نامناسب امر سے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کی براءت کا ارادہ فرمایا: حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کی وہاں مرتبہ شفاعت پر نظر تھی کہ یہ مرتبہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے اس لئے اپنے معاریض و توریہ کو کذب سے تعبیر فرمایا۔ 1 نحن احق بالشك من ابراهيم۔ علامہ ابن ملک نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان عالی سے مراد یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے جو عمل صادر ہوا ہے وہ کسی شک کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ مزید طلب علم کے لئے تھا اور میں اس کا زیادہ حق دار ہوں کیوں کہ مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وقل رب زدني علما آپ کہئے اے میرے رب مجھے علم اور زیادہ عطا فرما، اور اس میں شک کا ذکر بطور مشاکلت ہے، اور امام مزری نے اس کا معنی یہ بتایا ہے کہ اگر آپ کو شک آتا تو مجھے اس کا زیادہ حق ہوتا اور تمہیں معلوم ہے کہ مجھے کوئی شک نہیں ہے تو تم اس بات کا یقین کر کہ وہ بھی ایسے ہی ہیں یعنی ان کو بھی کوئی شک نہیں تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اوپر جو ترجیح دی ہے وہ بطور تواضع ہے یا آپ کا یہ فرمان اس وقت سے پہلے کا ہے جب کہ آپ سارے بنی آدم سے افضل ہیں، کا علم ابھی نہیں اتارا گیا تھا، اب رہا سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا سوال کرنا علم الیقین سے عین الیقین کی طرف ترقی کرنے کے لئے تھا یا اس لئے تھا کہ آپ نے جب مشرکین کے خلاف یہ استدلال فرمایا تھا کہ آپ کا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے تو آپ نے چاہا کہ اس کی کھلی (آنکھوں دیکھی) دلیل مل جائے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ صیغہ نحن (جمع متکلم) تعظیم کے لئے نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ عذر پیش کیا جائے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لئے آپ نے بطور تواضع کے فرمایا ہے بلکہ اس کے معنی --- بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر --- ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔ یہ ہیں، ہم یعنی میں اور میری امت مردوں کو زندہ کرنے کے بارے اللہ تعالیٰ کی قدرت میں کوئی شک نہیں کرتے بلکہ تمام امتوں میں سے، ہم خاص طور پر مردوں کو زندہ کرنے پر اس کی قدرت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام تو مرتبہ توحید اور مقام تفرید میں اکمل الانبیاء ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کی سیدھی راہ اور سیدھے طریقے کی اتباع کا حکم فرمایا تو ان کی نسبت شک کرنے کا کیسے تصور کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کے لئے جبکہ وہ معصومین اور مشہودین میں سے ہیں شک جائز ہوتا تو ہمارے لئے جب کہ ہم بعد میں آنے والوں میں سے ہیں بدرجہ اولی جائز ہوتا، خلاصہ یہ ہے کہ اس سے مراد زبردست دلیل کے ذریعہ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام سے شک کی نفی کرنا اور یہ بتلانا ہے کہ وہ مقام طمانینت اور مشاہدہ کی کیفیت سے سرفراز ہیں۔ (مرقات)۔ 1 لقد كان ياوى الى ركن شديد (وہ رکن شدید کی پناہ لیتے تھے) اس سے مراد طاقتور خاندان ہیں، اس کا معنی اللہ بہتر جانتا ہے، یہ ہے کہ آپ بعض ضروری امور میں بشری تقاضے کے مطابق طاقتور خاندان کی مدد طلب کرنے کی طرف مائل تھے اور، ہم نعوذ باللہ رب الارباب پر اعتماد اور بھروسہ رکھتے ہوئے اس جیسے مقامات میں ارباب کمال کی اتباع کرنے کے مامور ہیں یعنی اسباب کو اختیار کرنا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا ہے اور اللہ تعالیٰ صحیح بات کو بہتر جاننے والا ہے۔ (مرقات)۔ 2 قوله لو لبثت فى السجن الخ۔ (اگر میں قید میں ٹھہرا رہتا) علامہ تورپشتی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر اور قید خانہ میں اگرچہ مدت دراز ہو گئی تھی مگر اس سے نکلنے میں جلدی نہ کرنے کے قابل تعریف ہونے کا بیان ہے انہوں نے فرمایا: پھر اس کے ضمن میں یہ بات بھی بتانا ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے پاس اس مقام پر ہیں کہ اس مرتبہ میں کوئی شخص ان کے برابر نہیں ہوتا، اور وہ بشر ہیں، بشریت کے تقاضے کے مطابق جو احوال بشر پر طاری ہوتے ہیں ان پر بھی طاری ہوتے ہیں تو اسے تم ان کے لئے نقص شمار مت کرو اور اس کو برا مت سمجھو۔ اور علامہ ابن الملک نے فرمایا: اس میں ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قلت صبر اور بے قراری کی کوئی بات نہیں بلکہ اس میں یوسف علیہ السلام کے صبر کی تعریف اور قید خانہ سے نکلنے میں جلدی نہ کرنے کا ذکر ہے تاکہ آپ پر جو برائی کی تہمت لگائی گئی تھی وہ بادشاہ کے دل سے نکل جائے اور بادشاہ آپ کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھے۔ (مرقات)۔ 1 قوله عرض عَلَيَّ الانبياء (میرے پاس انبیاء علیہم السلام پیش کئے گئے) یہ واقعہ معراج کی رات مسجد اقصیٰ میں ہوا یا جیسا کہ اس کے بعد والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے آسمانوں پر ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی ارواح دنیا میں جس شکل میں تھیں اسی شکل و صورت میں وہاں پیش ہوئے ہیں ہمارے علماء میں سے شارحین نے اسی طرح بیان کیا ہے، اور علامہ ابن ملک نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے اور واضح بات ہے، علامہ قاضی نے فرمایا: ہوسکتا ہے ان کی ارواح کی یہ صورتیں بنائی گئی ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی صورتیں اسی طرح ہوں یا یہ ان کے جسم کی صورتیں آپ کے لئے خواب میں یا بیداری میں ظاہر کی گئی ہوں۔ (مرقات) 2 قوله ضرب من الرجال یعنی کم گوشت اور ہلکے بدن کے تھے۔ (مرقات)۔ 3 قوله رجل مضطرب (سیدھے دراز قد چھریرے بدن) علامہ قاضی اور دیگر شارحین فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سیدھے دراز قد کے تھے اور چھریرے جسم اقدس کے تھے۔ کیونکہ حاد کا معنی لچکدار اور حرکت کرنے والا ہے گویا اس میں جنبش ہے اور جو نیزہ طویل، سیدھا ہوتا ہے اسکو رمح مضطرب کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرز جاتے تھے اور یہ انبیاء علیہم السلام اور صدیقین کی صفت ہوتی ہے جیسا کہ روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تو آپ کے قلب میں دیگچی کے کھولنے کی آواز ہوتی تھی۔ (مرقات)۔ 1 قولہ احدھما لبن (ان میں سے ایک میں دودھ تھا) علامہ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: عالم حسی (دنیا) کے کاملوں کو عالم قدسی میں صورتیں اور شکلیں عطا ہوتی ہیں تاکہ غیر محسوس اور معنوی امور کا ادراک حاصل ہو، عالم حسی میں بچہ کی سب سے پہلی غذا اور تربیت دودھ سے ہوتی ہے تو فطرت کو جس سے روحانی قوت کامل ہوتی اور انسانی خصوصیات ابھرتی ہیں اس کو دودھ کی شکل میں دکھایا گیا۔ (مرقات)۔ 2 قولہ فاخذت اللبن فشربته (میں دودھ لیا اور اس کو پیا) جب پینے کا حکم دیا گیا تو اس سے پینے کا جواز خود بخود معلوم ہوتا ہے، کیونکہ حکم کا مقصود یہی ہوتا ہے اور آپ پر ان دونوں چیزوں کو پیش کرنا اور اختیار دینا فرشتوں کو آپ کی فضیلت بتانے کے لئے تھا کہ آپ نے امت کے لئے بہترین چیز کو اختیار کیا ہے۔ (مرقات)۔ 3 قولہ لو اخذت الخمر غوت امتك (اگر آپ شراب کو لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی) اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ نبی، عالم، بادشاہ جو کہ مقتدا ہیں ان کا ہدایت پر رہنا ان کے پیروکاروں کی استقامت کا سبب ہے، کیونکہ یہ حضرات اس درجہ میں ہیں جس طرح دیگر اعضاء کے لئے دل ہے۔ (مرقات)۔ 1 قوله الدجال فى آيات اراهن الله اياه. (اللہ نے جو نشانیاں دکھائیں ان میں دجال کو بھی دیکھا) یعنی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نشانیوں کے ساتھ جو اللہ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائیں دجال کو بھی دیکھا اور ان کو بھی جو آپ نے بیان کیا۔ اور حدیث شریف میں یوں فى آيات اراهن الله اياه (ان نشانیوں میں جو اللہ نے آپ کو بتائیں) راوی کا قول ہے راوی نے سامعین کے استبعاد کو دور کرنے کے لئے ان کے دلوں میں کھٹکنے والے خیال کو نکالنے کے لئے اپنی اس عبارت کو داخل کیا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ جو ارشاد فرمایا: لقد رأى من آيات ربه الكبرى سے مراد یہی نشانیاں ہیں، کیونکہ اگر یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہوتا تو اراهن الله اياى (مجھے جو نشانیاں اللہ نے دکھائیں) ارشاد ہوتا۔ بعض شارحین نے ایسا ہی ذکر کیا ہے ظاہر ہے کہ ضمیر کا مرجع دجال ہے اور ”آیات“ سے وہ خرق عادت امور مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے دجال کے حق میں بطور استدراج اور بندوں کے حق میں امتحان و آزمائش کے لئے رکھے ہیں۔ واللہ اعلم۔ (مرقات)۔ 2 قوله: فَلَا تَكُنْ فِىْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهِ (تم ان سے ملاقات کے بارے میں شک میں نہ ہوں) علامہ مظہر نے فرمایا: فلا تكن کا خطاب عمومیت کے ساتھ قیامت تک آنے والے اس حدیث کے تمام سامعین سے عام ہے اور لقائه میں ضمیر کا مرجع دجال ہے۔ یعنی جب اس کا نکلنا وقت مقررہ پر ہے تو اس کی ملاقات میں شک مت کرو۔ اور دوسرے حضرات نے کہا کہ ضمیر کا مرجع ما ذكر یعنی مذکورہ امور ہیں مطلب یہ ہے کہ قیامت کی جو نشانیاں دکھائی گئی ہیں ان میں شک مت کرو۔ (مرقات)۔ 1؎ قوله عليه جبّة صوف (ان پر اونی جبہ ہے) یہ تواضع اور زہد کی بناء پر تھا اور یہی صوفیہ کرام اور ان کی راہ پر چلنے والے علماء کرام جیسے علامہ کسائی وغیرہ کا ماخذ ہے، اور ہوسکتا ہے اس وقت آپ اس کو عام طریقہ سے ہٹ کر پہنے ہوں یا ان کی شریعت میں محرم کے لئے جبہ اور اس جیسا لباس پہننا مطلقاً جائز ہوگا۔ (واللہ تعالیٰ اعلم) (مرقات)۔ 2؎ قوله مارا بهذا الوادى ملبيا. (اس میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حج شعائر اللہ میں سے ہے اور انبیاء علیہم السلام کا شعار ہے خواہ وہ حیات ظاہری میں ہوں یا بعد وصال کی زندگی میں اور اس میں حج کے مقصد کی اور اس کے متعلقات جیسے تلبیہ کی رغبت دلاتا ہے جو توحید پر دلالت کرتے ہیں۔ اور احرام کی حالت کا شوق دلاتا ہے جس میں تجرید و تفرید کا اعلان ہے۔ (والله سبحانه وتعالى اعلم)۔ علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر کہا جائے وہ کیسے حج کرتے ہیں اور تلبیہ کہتے ہیں جب کہ وہ دنیوی مدت گزار چکے ہیں اور آخرت دار العمل نہیں ہے، اس کے چند جوابات ہیں، ایک یہ کہ وہ شہداء کی طرح ہیں بلکہ شہداء سے افضل ہیں اور شہداء کرام اپنے رب کے پاس زندہ ہیں تو یہ بات بعید نہیں کہ حج کریں نماز ادا کریں اور اپنی استطاعت کے مطابق اعمال کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں، کیونکہ وہ اگرچہ اپنی دنیوی مدت پوری کر چکے ہیں تاہم اسی دنیا میں ہیں جو دار العمل ہے یہاں تک جب اس کی مدت ختم ہوگی اور اس کے پیچھے آخرت آئے گی جو دار الجزاء ہے تو عمل منقطع ہو جائے گا۔ 1 ۞قوله لا تخيروني. (دوسروں کی تنقیص کے بطور میری بزرگی کا ذکر مت کرو) آپ نے یہ بطور تواضع فرمایا یا یہ منع اس شخص کے لئے ہے جو اپنی رائے سے بولتا ہے، جو شخص دلیل سے بولتا ہے اس کے لئے منع نہیں ہے یا اس شخص کے لئے منع ہے جو اس طرح بیان کرتا ہے جس سے مفضول کی تنقیص ہوتی ہے یا اس کی وجہ سے کسی قسم کا جھگڑا یا تنازع پیدا ہوتا ہے یا اس منع سے مراد یہ ہے کہ میرے تمام فضائل اس طرح مت بیان کرو کہ مفضول کے لئے کوئی فضیلت باقی نہ رہے۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ فضیلت کو بیان کرنے سے جو منع کیا گیا ہے وہ نفس نبوت کے بارے میں ہے یعنی نبوت پر ایمان لائے جانے کے اعتبار سے سب برابر ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ“ (البقرۃ، آیت:285) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ یہ منع انبیاء علیہم السلام کی شخصیات اور ان کی رسالت کی عمومی شان سے متعلق نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ“ (البقرۃ، آیت:253) (ان رسولوں کو ہم نے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے) اور علامہ حلیمی نے کہا ہے کہ جن احادیث شریفہ میں تخییر یعنی دوسرے انبیاء علیہم السلام پر فضیلت بیان کرنے کی ممانعت آئی ہے وہ صرف اہل کتاب سے بحث کرتے وقت ہے کیونکہ جب دو دین والوں کے درمیان بحث کا موضوع بنے گا تو کوئی ایک دوسرے پر عیب لگانے سے محفوظ نہیں رہ سکے گا اور یہ بات کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ (ماخوذ از فتح الباری و کتاب التنقیح)۔ 2 ۞قوله فلا ادري كان فيمن صعق فافاق قبلي او كان فيمن استثنى الله. (میں نہیں جانتا کہ وہ بیہوش ہونے والوں میں سے ہیں اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا ان حضرات میں سے ہیں جن کو اللہ نے (بے ہوشی سے) مستثنیٰ کیا ہے)۔۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔صاحب مرقات نے فرمایا: اس حدیث شریف میں بیہوش ہونے کا ذکر ہے۔ وہ دوبارہ اٹھائے جانے سے پہلے خوف کے نفخہ کے وقت کا ذکر ہے اب رہا دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت اس میں ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی کو تقدم حاصل نہیں، اور اس فضیلت کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت انہیں ان پر مقدم نہیں کرتی جو کئی ایک فضائل اور بہت سارے مناقب کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت رکھتے ہیں۔ صاحب لمعات نے فرمایا ہے: اس حدیث شریف میں صعقہ بے ہوشی کے صور سے مراد فزع کا صعقہ (ہیبت و جلال کی وجہ سے بے ہوش ہونا) ہے جو دوبارہ اٹھائے جانے سے پہلے ہوگا، جس سے سب بے ہوش ہو جائیں گے حضرت موسیٰ علیہ السلام بے ہوش نہیں ہوں گے، کوہ طور پر وہ جو بے ہوش ہوئے تھے اس کو اس کے حساب میں لگا لیا جائے گا۔ اور صاحب فتح الباری نے فرمایا: اگر اس سے پہلا صور مراد ہے جس میں سب پر موت آ جائے گی اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تردد نہیں فرمایا آپ نے قطعی طور پر فرمایا: موسیٰ علیہ السلام وصال فرما گئے ہیں اس لئے اس سے فزع کا صعقہ مراد ہے، موت کا صعقہ مراد نہیں ہے۔ 1 قوله: وما ينبغى لعبد ان يقول انى خير من يونس بن متى . (کسی بندے کو سزاوار نہیں وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں) دیگر انبیاء علیہم السلام میں سے خاص طور پر حضرت یونس بن متی کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یونس علیہ السلام کا جو ذکر فرمایا کہ وہ اپنی قوم کے پاس سے چلے گئے اور قوم آپ کی دعوت کو قبول نہیں کی تھی آپ ان سے دل برداشتہ ہوگئے اور تحمل نہیں کئے اور جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولا تكن كصاحب الحوت آپ مچھلی والے صاحب کی طرح نہ ہو جائیے اور فرمایا: وہ اپنے آپ کو ملامت کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ امت کے وہ لوگ جن کا باطن ضعیف ہے کہیں حضرت یونس علیہ السلام کی تنقیص شان کریں اس لئے آپ نے ان کو بتادیا کہ یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جو فضیلت عطا فرمائی ہے یہ بات ان کے لئے عیب کی نہیں ہے، اور اس کے باوجود بھی یقیناً وہ تمام انبیاء و مرسلین کی طرح شان رکھتے ہیں۔ اس باب میں جس قدر وضاحتیں کی گئی ہیں ان سب میں یہ جامع بیان ہے اس میں تمہارے لئے سب سے اچھی بات کی طرف رہنمائی ہے۔ اور یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد انا سيد ولد آدم ولا فخر (میں تمام انسانوں کا سردار ہوں اور یہ فخر کی بات نہیں) کے مخالف نہیں ہے، کیونکہ یہ آپ نے مخلوق پر اپنے فخر اور تعلی کے لئے نہیں فرمایا: بلکہ تحدیث نعمت اور شکر گزاری کے طور پر فرمایا: اور انا سيد ولد آدم سے روز قیامت آپ کی شفاعت سے مخلوق کی حاجت روائی ہے مراد ہے۔ (والله تعالىٰ اعلم)(ماخوذ از مرقات)۔ 2 قوله فلطم موسى عين ملك الموت ففقاها (موسیٰ علیہ السلام نے فرشتے کی آنکھ پر طمانچہ مارا اور آنکھ کو پھوڑ دیا) فرشتے انسانی شکل و صورت اختیار کرتے ہیں اور ان۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ کے لئے یہ صورتیں انسانوں کے لباس کی طرح ہیں اور طمانچہ کا اثر انسانی صورت کی آنکھ پر ہوا اور ملکی آنکھ پر نہیں، کیونکہ ملکی آنکھ طمانچہ وغیرہ سے متاثر نہیں ہوتی اور ایک شارح نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو طمانچہ اس لئے مارا کہ وہ اختیار سنانے سے پہلے ہی روح قبض کرنے کا اقدام کر رہے تھے کیونکہ آخر میں انبیاء علیہم السلام کو اپنے لئے وفات یا حیات منتخب کرنے کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے اختیار دیا جاتا ہے۔ علامہ مازری کہتے ہیں بعض ملحدین نے اس حدیث شریف کا انکار کیا اور یہ کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کے لئے ملک الموت کی آنکھ پھوڑ دینا کیسے جائز ہے، اس کا علماء نے جواب دیا ہے، ایک تو یہ کہ موسیٰ علیہ السلام یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ ملک الموت ہیں بلکہ وہ یہ خیال کئے کہ ایک شخص ہے جو ان کی جان چاہتا ہے تو آپ اس کی مدافعت کئے اور یہ مدافعت ان کی آنکھ کے پھوٹنے کا سبب بنی، آپ فی الواقع آنکھ پھوڑنے کا ارادہ نہیں کئے تھے۔ اور امام ابوبکر بن حزم اور دیگر متقدمین نے یہ فرمایا ہے: موسیٰ علیہ السلام جب دیکھے وہ انسانی شکل میں ہے اور روح قبض کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے تو یہ سمجھے کہ وہ جھوٹا ہے اور اس پر غصہ ہوئے اور طمانچہ مار دیئے۔ علامہ قاضی عیاض نے اسی کو اختیار کیا ہے، اور ان بزرگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ دوسری مرتبہ وہ ایسی علامت کے ساتھ آئے جس سے معلوم ہو گیا کہ وہ ملک الموت ہیں آپ نے اپنے آپ کو حوالے کر دیا، برخلاف پہلی مرتبہ کے وہ اس وقت اس طرح نہیں آئے تھے۔ اور علامہ ابن الملک نے شرح المشارق میں فرمایا: اگر یہ کہا جائے کہ اس طرح کا عمل حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیسے صادر ہوا تو اس کے جواب میں کہا گیا ہے یہ متشابہات میں سے ہے اس کو اللہ تعالیٰ کے علم کے تفویض کیا جاتا ہے۔ اور کتاب شرح السنہ میں ہے ہر مسلمان پر واجب ہے اس پر ایسا ہی ایمان لائے جیسا احادیث میں آیا ہے اس میں انسانی طور طریق کا اعتبار نہ کرے ورنہ وہ شک وشبہات میں پڑ جائے گا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حکمت سے صادر ہونے والے امور ہیں، اور یہ ملک کریم اور نبیٔ کلیم کے درمیان مباحثہ ہے، ان میں سے ہر ایک کی ایک خاص صفت ہے اور یہ اپنی خصوصی صفت کی بناء پر عام بشری حکم اور عام انسانی عادات اور ان کے طور طریق سے خارج ہیں، دوسروں کے احوال پر ان کے احوال کا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 1؎ انك ارسلتني الى عبدلك الخ. (تو نے مجھے اپنے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے) علامہ طیبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر تم یہ کہو کہ کیا فرق ہے فرشتے کے قول میں اس نے عبدلك کہا اور عبد کو نکرہ لایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں کہا عبدی اپنے طرف نسبت کی ہے، تو میں کہتا ہوں کہ اس میں فرق یہ ہے کہ فرشتے نے عبد کو نکرہ لا کر ایک قسم کا طعن کیا کہ وہ موت نہیں چاہتے ہیں۔ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کا رد کرتے ہوئے عبدی کہہ کر عبد کی نسبت اپنے طرف کی اور آپ کی شان کی بلندی اور مرتبہ کی عظمت کو بیان کیا۔ (مرقات)۔ 2؎ قوله مَهْ (اس کے بعد کیا ہوگا) امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مہ میں ہا سکتہ کی ہے اور ما استفہامیہ ہے یعنی پھر کیا ہوگا حیات یا وفات؟۔ (مرقات)۔ 3؎ قوله رب أَدْنِنِي من الارض المقدسة (اے میرے رب! مجھے ارض مقدسہ سے قریب کر دے) ممکن ہے اس وقت آپ میدان تیہ میں تھے، آپ کا ارادہ ہوا کہ یہاں سے رب تعالیٰ کے گھر بیت المقدس کے قریب ہو جائیں اگرچہ مقام دعا سے تھوڑا فاصلہ ہی کیوں نہ ہو قریب ہو جائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدس مقامات مبارک مقامات اور دیندار حضرات کے مزارات کے قریب موت کا آنا اور وہاں دفن ہونا مستحب ہے۔ (مرقات)۔ 1؎ ما تستر هذا الستر الا من عيب (وہ اس قدر پردہ نہیں کرتے مگر جلد میں کسی عیب کی وجہ سے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور حضرات صالحین کو کم عقل اور جاہلوں کی طرف سے آزمائش اور تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اس پر صبر کرتے ہیں۔ اور قولہ ففر الحجر بثوبه۔ (پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگا) اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دو معجزے ہیں، ان میں سے ایک پتھر کا آپ کے کپڑے لے کر بھاگنا ہے۔ اور دوسرا آپ کے مارنے سے پتھر میں نشان قائم ہو جانا ہے، اور اس واقعہ سے جمادات میں تمیز کرنے اور شناخت کرنے کی قوت بھی معلوم ہوتی ہے اور یہ حدیث شریف علماء کرام کے اس اصول کا ماخذ ہے ان ضرر الخاص يتحمل لنفع العام یعنی عام فائدہ کے لئے خاص کا ضرر برداشت کیا جائے گا۔ (واللہ تعالیٰ اعلم بالمرام)۔ پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھ اس پتھر کو اٹھا کر لے چلنے کا حکم فرمایا: یہاں تک کہ جب آپ میدان تیہ میں تھے تو اپنے عصا سے ایک یا ایک سے زائد مرتبہ اس پر ضرب لگایا تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے قولہ طفق بالحجر ضربا یعنی پتھر کو مارنے لگے یہ پتھر پر مارنا آپ کے غصہ کی وجہ سے تھا، کیونکہ وہ پتھر بھاگا تھا اور ادب کا لحاظ نہیں رکھا تھا اور یہ بھی ہو سکتا ہے اس پتھر کا مامور ہونا آپ سے ذہول ہو گیا ہو یا یہ کتاب (توراة) میں لکھا ہوا تھا۔ قولہ والله ما بموسى من باس (خدا کی قسم موسیٰ (علیہ السلام) میں کوئی عیب نہیں ہے)۔ انبیاء علیہم السلام مخلوق میں پائے جانے والے نقائص سے اور وہ اپنی صورت و سیرت میں ہر عیب سے پاک ہوتے ہیں، اور حق یہ ہے کہ وہ گھناؤنی بیماریوں اور عیبوں سے بھی پاک ہوتے ہیں وہ صرف آزمائش کے لئے آتی ہیں۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 1 فخلا يوما وحده ليغتسل (آپ ایک دن غسل کرنے کے لئے تنہائی میں گئے) امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے تنہائی میں برہنہ نہانے کا جواز معلوم ہوتا ہے اگرچیکہ ستر عورت افضل ہے، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ نے یہی فرمایا ہے، اور علامہ ابن ابی لیلیٰ نے ان سے اختلاف کیا ہے جب کہ پانی ٹھہرا ہوا ہو، میں کہتا ہوں ہمارے امام اعظم بھی جمہور کے ساتھ ہیں اور علامہ ابن ابی لیلیٰ کا اختلاف بظاہر پانی میں داخل ہونے سے متعلق ہے۔ (مرقات)۔ 2 بينا ايوب يغتسل عريانا (اس دوران کہ حضرت ایوب علیہ السلام زائد لباس اتارے ہوئے غسل کر رہے تھے) ہو سکتا ہے آپ تہبند باندھے ہوئے ہوں جیسا کہ آنے والی عبارت يحثى فى ثوبه (اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے) سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ تہبند پہنے ہوئے ہوں گے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح آپ بھی سارے کپڑے نکالے ہوئے ہوں اور یہ ان دونوں انبیاء کی شریعت میں جائز ہو، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مولیٰ تعالیٰ سے حیاء کے تقاضے کی بناء پر ستر کے ساتھ غسل کرنا اولیٰ و بہتر ہے، کیوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکارم اخلاق کو پورا کرنے کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں۔ (مرقات)۔ 1 قوله ”لا غنى بي عن بركتك“ (آپ کی برکت سے بے نیازی نہیں ہوسکتی) یعنی تیری نعمتوں کی کثرت اور تیری رحمت کی زیادتی سے استغناء اور بے نیازی نہیں ہوسکتی، اور ایک روایت میں ہے من يشبع من رحمتك او من فضلك تیری رحمت یا تیرے فضل سے کون شکم سیر اور بے نیاز ہوسکتا ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال مال کی زیادتی کی حرص جائز ہے ایسے شخص کے لئے جس کو اپنے اوپر بھروسہ ہو کہ وہ اس کا شکر ادا کرے گا اور رب تعالیٰ کی پسند کے اور اس کی رضا و خوشنودی کے کاموں میں اس کو خرچ کرے گا تو یہ حکم ایسے ہی شخص کے لئے ہوگا۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حلال طریقہ سے آنے والے مال کو اس کے اچھے نتیجہ اور اس کے اچھے فوائد کی بناء پر برکت کا نام دیا جاسکتا ہے۔ علامہ طیبی رحمہ اللہ نے فرمایا: حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس طرح مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ آپ یہ مال مجھ سے زیادہ محتاج کو عطا فرمائیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو جواب میں فرمایا: تم جب مال کی طرف نظر لگائے ہوئے نہ ہوں اور اس کا سوال بھی نہ کررہے ہوں تو اس کو لے لو اور جب ایسا نہ ہو تو اس کے پیچھے اپنے کو مت لگاؤ۔ (مرقات)۔ 2 قوله الخضر۔ خ کو زبر (فتحہ) اور ض کو زیر (کسرہ) کے ساتھ اور ایک نسخے میں خ کے زیر (کسرہ) اور ض کو سکون کے ساتھ ہے، امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جمہور علماء کے پاس خصوصاً صوفیہ کرام اور اہل صلاح و اہل معرفت حضرات کے پاس خضر علیہ السلام زندہ ہیں اور ہمارے درمیان موجود ہیں اور ان کو دیکھنے اور ان سے ملاقات کرنے اور ان سے اخذ کرنے اور ان سے سوال و جواب اور مبارک مقامات اور خیر کے مجالس میں ان کی تشریف آوری کے واقعات شمار سے زیادہ ہیں اور شیخ ابو عمرو بن صلاح نے بھی اس کی صراحت کی ہے اور محققین میں اس کا انکار کرنے والے بہت کم ہیں۔ شیخ حمیری مفسر اور ابو عمرو نے فرمایا کہ وہ نبی ہیں البتہ ان کے رسول ہونے میں اختلاف ہے، اور امام قشیری اور بہت سے حضرات نے فرمایا۔۔۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔کہ وہ ولی ہیں اور جو حضرات ان کے نبی ہونے کے قائل ہیں وہ ان کے اس قول سے استدلال کرتے ہیں ما فعلته عن امري میں نے یہ کام اپنے امر سے نہیں کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر وحی آتی ہے اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ جاننے والے ہیں اور یہ بات ممکن نہیں کہ ولی نبی سے زیادہ علم والے ہوں، دوسرے علماء نے اس کا جواب دیا ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ بطور الہام ہو اور ان پر الہام کیا جاتا ہو جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کو الہام کیا گیا تھا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ۞إِذْ أَوْحَيْنَا إِلٰى أُمِّكَ مَا يُوحٰى . اَنِ اقْذِفِيهِ ۞ (تمہاری ماں پر ہم نے وحی بھیجی کہ تم ان کو دریا میں ڈال دو) اس بارے میں میں کہتا ہوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف وحی آئی تھی وہ بچے کے معاملے میں مجبوری کی حالت میں بچے کو بچانے کی تدبیر تھی، لیکن لڑکے کے (قتل) کے حکم کو ایک ولی پر الہام ہونے پر محمول کرنا درست نہیں ہے، ایک پاک جان کو بغیر کسی قتل ناحق کے وحی الہامی پر اعتماد کر کے کہ وہ کافر پیدا ہوا ہے قتل کر دینا کسی بھی ولی کے لئے جائز نہیں اور امام ثعلبی مفسر نے فرمایا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی ہیں ان کی بڑی عمر ہے وہ لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں اور آپ نے فرمایا ان کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ آخر زمانہ میں جب قرآن مجید اٹھا لیا جائے گا اس وقت تک آپ انتقال نہیں کریں گے، میں کہتا ہوں یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ دجال آپ کو شہید کرے گا، پھر انہوں نے بہت سے اقوال ذکر کئے کہ وہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کے زمانے سے ہیں یا اس کے تھوڑا بعد یا ان کے بہت بعد زمانے کے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ روایت میں ہے کہ آپ آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)۔ اور جامع صغیر میں حارث کی حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خضر علیہ السلام سمندر میں ہیں، اور الیاس علیہ السلام خشکی میں ہیں، اور حضرت ذوالقرنین نے جو یاجوج و ماجوج اور عام انسانوں کے درمیان دیوار اور سد بنائی تھی وہاں یہ دونوں حضرات روزانہ رات میں ملاقات کرتے ہیں اور ہر سال حج و عمرہ کرتے ہیں اور اس قدر زمزم پیتے ہیں کہ وہ آئندہ سال تک کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ اور فتاویٰ حدیثیہ میں ہے کہ ابن عدی نے اکمال میں روایت کی ہے کہ حضرت الیاس و حضرت خضر علیہما الصلوٰة والسلام ہر سال حج کے موقع پر ملاقات کرتے ہیں ان میں سے ہر ایک دوسرے کا حلق کرتے ہیں اور جاتے وقت یہ کلمات پڑھتے ہیں: بِسْمِ اللّٰهِ مَاشَاءَ اللّٰهُ لَا يَسُوقُ الْخَيْرَ إِلَّا اللّٰهُ . بِسْمِ اللّٰهِ مَاشَاءَ اللّٰهُ، لَا يَصْرِفُ السُّوْءَ إِلَّا اللّٰهُ۔ مَاشَاءَ اللّٰهُ مَا كَانَ مِنْ نِعْمَةٍ ۔۔۔۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ فَمِنَ اللّٰهِ۔ مَاشَاءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔ بھلائی کو صرف اللہ تعالیٰ ہی لاتا ہے، برائی کو صرف اللہ تعالیٰ ہی دور کرتا ہے۔ ماشاء اللہ ہر نعمت صرف اللہ کی طرف سے ہے۔ ماشاء اللہ برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ سے ہے۔ (مرقات)۔ 1 طبع کافرا (وہ کافر پیدا ہوا) یعنی وہ لڑکا پیدا ہو کر کفر کو اختیار کرے گا اور یہ اس حدیث شریف ”کل مولود یولد علی الفطرة“ (ہر پیدا ہونے والا فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے) کے خلاف نہیں ہے؛ کیونکہ فطرت سے مراد قبول اسلام کی صلاحیت لیکر پیدا ہونا ہے اور اپنی جبلت میں وہ شقی ہو تو یہ اس حدیث کے خلاف نہیں ہے۔ حضرت قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں اہل سنت و جماعت کے مذہب کے صحت کی دلیل ہے کہ کسی بھی بندے کو اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور اس کی تیسیر کے بغیر کسی کام کی قدرت نہیں۔ اس میں معتزلہ کا اختلاف ہے وہ کہتے ہیں بندہ اپنی ذات سے کسی کام کو کرنے کی اور ہدایت و گمراہی کی قدرت رکھتا ہے اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جن لوگوں کے لئے دوزخ کا فیصلہ ہو چکا ہے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، ان کے آگے پیچھے سد و رکاوٹ کر دی گئی یا پوشیدہ پردہ دلوں پر ڈال دیا گیا اور ان کے کانوں میں ڈاٹ اور ان کے قلوب میں بیماری ڈال دی گئی ہے۔ ان کے پاس اللہ کا فیصلہ آ گیا اور اس کا کلمہ نافذ ہوگا، اس کے حکم کو کوئی روکنے والا نہیں اور اس کے امر اور فیصلہ کو کوئی پیچھے ہٹا نہیں سکتا۔ جو حضرات کافروں کے بچوں کے لئے دوزخ کے قائل ہیں وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس میں تفصیل مناسب ہے جن پر کفر کی مہر لگ گئی ہے وہ دوزخ میں جائیں گے اور جو اسلام پر پیدا ہوئے ہیں وہ جنت میں جائیں گے۔ اس سے ائمہ کے تمام اقوال کے درمیان توفیق ہو جاتی ہے اور سب سے زیادہ راجح قول توقف کا قول ہے جس کو ہمارے امام اعظم رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے۔ (واللہ تعالیٰ اعلم) (مرقات)۔ 2 قوله لأرهق ابويه طغيانا و كفرا (اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا) یعنی ان کو گمراہ کرنے کا سبب بن جائے گا، خلاصہ یہ ہے کہ اس کے قتل کئے جانے کا سبب دو چیزوں سے مرکب ہے (1) وہ کافر پیدا ہوا ہے (2) اور اگر فرض کر لیا جائے کہ وہ زندہ رہے گا تو گمراہ کرنے والا اور بدکار ہوگا۔ علامہ ابن الملک نے فرمایا: اگر تم یہ کہو کہ کسی کا آخر میں کافر۔۔۔۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ ہو جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو قتل کر دینا حلال نہیں ہوتا، تو حضرت خضر علیہ السلام اس کے کفر کے اندیشہ کی بناء کیسے قتل کئے؟ تو اس کے جواب میں میں یہ کہتا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ان کی شریعت میں جائز ہو۔ اور میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے بیان میں اور موسیٰ علیہ السلام کے بیان میں بھی اس کی صراحت موجود ہے بلکہ اس جیسی بات ہماری شریعت میں بھی جائز ہے جب کہ قطعی طور پر معلوم ہو جائے کہ وہ کافر پیدا ہوا ہے جیسا صاحب شریعت علیہ السلام نے اس حدیث شریف میں بیان فرمایا ہے، پس ایسی صورت میں اس لڑکے کے مسلمان ہونے کی بات غلط ہے؛ کیونکہ کسی مسلمان کو بغیر وجہ کے قتل کرنا ایسی صورت میں بالاتفاق جائز نہیں ہے، آپ نے فرمایا: پھر ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ یہ علم لدنی، بغیر وسیلے واسطے کے آیا ہوا علم ہے اور اس کا مشرب، مقررہ طریقوں سے ہٹ کر ہے اس لئے ہم اس کی کیفیت میں مشغول نہیں ہوں گے، میں یہ کہتا ہوں کہ طریقت میں شریعت اور حقیقت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے جو شخص اس میں فرق کرتا ہے وہ مرتبہ جمع تک نہیں پہنچا ہے وہ زندیق و بے دین ہوگا، پھر یہ کہ یہ معاملہ دو چیزوں میں کسی ایک سے خالی نہیں؛ کیونکہ خضر علیہ السلام اگر نبی ہیں تو ان کا کام شریعت کے مطابق ہونا ضروری ہے اور اگر وہ ولی ہیں تو ان جیسے بڑے فقیہ اور بڑے مسئلہ میں انہیں اپنے لدنی اور الہامی، غیبی علم پر اعتماد کرنا درست نہیں اور اس حدیث شریف میں خضر علیہ السلام کا لڑکے کو قتل کرنے کی حکمت کی صراحت ہے گویا اس میں ان کے قتل کرنے کا عذر بیان کیا گیا ہے برخلاف آیت کریمہ کے اس میں اس جانب اشارہ ملتا ہے۔ 1 خفف على داؤد القرآن (حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور کا پڑھنا ہلکا کر دیا گیا) علامہ تورپشتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن سے مراد زبور ہے اس کو قرآن اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کو پڑھنا داؤد علیہ السلام کا معجزہ تھا، اور حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں ۔۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔ سے جس کے لئے چاہتا ہے طی مکان کی طرح طی زمان بھی کر دیتا ہے (وقت اور زمین کو سمیٹ دیتا ہے) اور یہ ایک ایسا عنوان ہے جو فیض ربانی کے بغیر سمجھ میں نہیں آسکتا۔ میں کہتا ہوں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ خرق عادت ہے اس میں اختلاف یہ ہے کہ یہ بسط زمان ہے یا طی لسان ہے اور پہلی صورت زیادہ واضح ہے اور اللہ تعالیٰ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے معراج کی شب طی مکان اور بسط زمان سننے اور بولنے کی مناسبت سے کامل طور پر تھوڑے سے وقت میں کرادیا اور آپ کی اتباع کرنے والے صالحین کو بھی اس شان مبارک کا ایک حصہ ملا ہے جیسا کہ مروی ہے، سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سواری کا ارادہ فرماتے تو قرآن مجید کی خارج وصفات کا خیال کرتے ہوئے اور معانی و مفاہیم کو سمجھتے ہوئے تلاوت شروع کرتے اور جب اپنا قدم دوسرے رکاب میں رکھتے تو درمیانی وقفہ میں قرآن مجید ختم کر دیتے تھے۔ حضرت مولانا نور الدین بن عبدالرحمن جامی قدس اللہ سرہ السامی اپنی کتاب نفحات الانس فی حضرات اصحاب القدس میں بعض مشائخ کرام کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ حجر اسود کے استلام کے وقت قرآن مجید کی تلاوت شروع کرتے اور کعبۃ اللہ کے دروازے کے سامنے آنے تک قرآن مجید کو ختم کر دیتے تھے، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمہ اللہ کے صاحبزادے نے اپنے والد کریم سے اتنے سے وقفہ میں ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف شروع سے آخر تک سنا ہے اللہ تعالیٰ ان کی باطن کی پاکیزگی میں برکت دے اور ان کے انوار کی برکت سے ہم کو نفع پہنچائے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ ”فقضى به للكبرى“ (آپ نے اس کا فیصلہ بڑی کے حق میں دیا) یہ فیصلہ آپ نے اس لئے دیا کہ شرعی قاعدہ ہے قبضہ جس کا ہوتا ہے، وہی اس کا زیادہ حق دار ہوتا ہے یا ۔۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ علم قیافہ کے اعتبار سے وہ لڑکا اس عورت سے زیادہ مشابہت رکھتا تھا جیسا کہ اس کے متعلق امام شافعی نے فرمایا اور اس کا اعتبار ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ ”فقضى به للصغرى“ (آپ نے اس کا فیصلہ چھوٹی کے حق میں دیا) ایک شارح نے کہا ہے کہ دونوں کا فیصلہ حق ہے کیونکہ دونوں مجتہدین ہیں اور اس مسئلہ میں دونوں کے فیصلہ کی بنیاد قرینہ ہے لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام نے جس قرینہ کی بناء پر فیصلہ دیا وہ ظاہری طور پر زیادہ قوی ہے، اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے والد محترم حضرت داؤد علیہ السلام کے فیصلہ کو کس طرح توڑا؟ تو اس کا جواب چند وجوہ سے دیا گیا ہے منجملہ ان کے ایک وجہ یہ ہے کہ دونوں کے پاس اولویت کا اعتبار کرتے ہوئے قوی تر قرینہ موجود تھا اور اگر بڑی کا یہ اقرار ہو کہ وہ بچہ چھوٹی کا ہے تو بہرحال کوئی اشکال نہیں ہوتا کیونکہ ہماری شریعت میں بھی فیصلہ کے بعد بھی اقرار درست ہے جس طرح اگر وہ شخص جس کے خلاف فیصلہ ہوا ہے وہ فیصلہ کے بعد اقرار کرے کہ حق، فریق مخالف کا ہی ہے تو درست ہے۔ (اور اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے)(مرقات)۔ 2 قولہ تاتي بفارس يجاهد في سبيل الله (وہ ایک ایک شہسوار کو پیدا کرے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا) یہ اچھی نیت ہے مگر اس میں ان شاء اللہ نہیں کہا گیا ہے قولہ فلم يقل (ان شاء اللہ نہیں فرمایا) دل میں جو (اللہ کی مشیت کے مطابق کرنے کا ارادہ ہے) اسی پر اکتفا کیا، اس کو زبان سے نہیں فرمایا۔ قولہ لو قال ان شاء الله لجاهدوا (اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو وہ مجاہدین پیدا ۔۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ ہوتے) حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے جو شخص کوئی کام کرنا چاہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میں فلاں کام کروں گا تو مستحب ہے اس کے ساتھ ہی ان شاء اللہ کہے۔ اس سے اس کام میں برکت بھلائی اور آسانی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَا تَقُولَنَّ لِشَايْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا. إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ (18-الکہف، آیت:23)۔ (تم کسی کام کو کل کروں گا کہو تو ان شاء اللہ کہو)(مرقات)۔ 1 قولہ کان زکریا نجارا (حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے تھے) اس حدیث شریف سے اور حضرت داؤد علیہ السلام سے متعلق سابق حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ کسب کرنا (معیشت کے لئے محنت کرنا) انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے، اور یہ ترک اسباب کر کے توکل کرنے کے منافی نہیں ہے، جیسا بعض انبیاء علیہم السلام اور اولیاء واصفیاء کی ایک جماعت نے کیا ہے، ان دونوں میں افضل کیا ہے اس میں علماء کرام کے پاس اختلاف ہے اس کی تحقیق کتاب احیاء العلوم میں موجود ہے۔ (مرقات)۔ 2 قولہ انا اولى الناس بعيسى بن مريم (میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے تمام انسانوں میں زیادہ قریب ہوں) علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آپ عیسیٰ علیہ السلام سے زیادہ قریب اسلئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی تھی (ياتى من بعدى اسمه احمد) یعنی آپ نے بشارت سنائی تھی کہ میرے بعد خاتم المرسلین جن کا نام نامی احمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے تشریف لائیں گے) چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سید المرسلین ہی ہیں اور آپ دونوں حضرات کے درمیان کوئی نبی نہیں ہیں۔ اس میں اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد: إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهٰذَا النَّبِيُّ (3-آل عمران، آیت:68)(حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ قریب ان کی اتباع کرنے والے ہیں اور یہ نبی ہیں) ان دونوں میں کوئی منافات نہیں ہے، کیونکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے قرب باعتبار اقتداء وموافقت کے ہے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے قرب بہ اعتبار زمانہ ہے۔ (مرقات)۔ 3 قولہ: ”فى الاولى والآخرة“ (پہلے اور آخر میں) ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔ اس سے مراد دنیا و آخرت مراد ہو یا پہلی حالت اور دوسری حالت دونوں صورتیں مراد ہوسکتے ہیں، پہلی حالت یعنی جب آپ نے سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشخبری سنائی اور دوسری حالت سے مراد جب آپ (دوبارہ آکر) دین کی مدد کریں گے اور اس کو طاقت عطا کریں گے۔ (مرقات)۔ 1 الانبياء اخوة من علات وامهاتهم شتى (حضرات انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں اور ان کی مائیں علیحدہ علیحدہ ہیں) علماء نے کہا ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی تشریف آوری کا مقصد مخلوق کی ہدایت کرنا ان کو راہ حق دکھانا ہے اسی لئے دین کے اصول اور قواعد کو والد سے تشبیہ دی گئی ہے اور ان کی شریعتوں کو جو بظاہر الگ الگ ہیں اور مقصد میں قریب قریب ہیں ماؤں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ قوله دينهم واحد (ان کا دین ایک ہے) یعنی ان کی شریعتیں الگ الگ ہونے کے باوجود ان کے دین کی بنیاد توحید و طاعت ایک ہی ہے۔ میرے لئے سب قریب ہیں مگر عیسیٰ علیہ السلام زیادہ قریب ہیں۔ (لمعات)۔ 2 قوله يطعن الشيطان (شیطان ٹھونسا مارتا ہے) یعنی شیطان چھوتا ہے، و قوله في جنبيه باصبعيه (دونوں بازوؤں میں دو انگلیوں سے چبھتا ہے) یعنی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے سے چھونا مراد ہے۔ قوله غير عيسى (عیسیٰ علیہ السلام کے سوا) یہ ان کی والدہ کے حق میں دادی کی دعا کی وجہ سے ہے انہوں نے کہا تھا میں نے ان کا نام مریم رکھا اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود سے۔ قوله فطعن في الحجاب (پس وہ پردہ میں ٹھونسا مارا) یعنی اس کی انگلی بچہ دانی کو جس میں بچہ ہوتا ہے لگی اس کے چھونے سے عیسیٰ علیہ السلام کو کچھ اثر نہیں ہوا۔ (مرقات)۔ 1 قوله ولم يكمل من النساء الا مريم بنت عمران وآسية (عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئیں) علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: ان کمال کو ان دونوں خواتین میں حصر کرنے کی وجہ سے استدلال کیا گیا وہ دونوں نبی ہیں، کیونکہ انسانوں میں سب سے بڑھ کر کامل انبیاء علیہم السلام ہیں، پھر صدیقین، شہداء اور اولیاء کرام ہوتے ہیں اور اگر یہ نبی نہیں ہیں تو اس حصر سے یہ ثابت ہوگا کہ ان دونوں کے سوا عورتوں میں کوئی ولیہ، صدیقہ اور شہیدہ نہیں ہے اور علامہ کرمانی نے فرمایا: لفظ کمال سے ان کا نبی ہونا لازم نہیں آتا؛ کیونکہ لفظ کمال کسی چیز کے پورا پورا ہونے اور اس میں اپنی انتہا کو پہنچنے پر بھی بولا جاتا ہے۔ اس لئے یہاں ان دونوں کا کمال کو پہنچنے سے عورتوں کے لئے جو فضائل ہیں ان کی انتہا کو پہنچنا مراد ہے۔ میں کہتا ہوں اس توجیہ سے اشکال دور نہیں ہوتا، یعنی نبوت کا ثبوت لازم نہیں آتا، ایسی صورت میں کمال سے نبوت لازم نہیں ہوتی بلکہ اس کے کمال کے لئے ولایت کے درجہ تک پہنچنا کافی ہے۔ ان دو بزرگ خواتین کا بطور حصر ذکر کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ صفت کمال کی ان دونوں کے ساتھ ان کے زمانہ کی عورتوں کے درمیان میں ہے اور ان سے پہلے زمانہ کی عورتوں میں بھی یا مطلق کسی زمانہ کی عورت ہو کوئی بھی صفت کمال میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہے اور علماء سے اجماع منقول ہے کہ عورتوں میں نبوت نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی ہے ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا﴾ (اور ہم نے آپ سے پہلے مرد حضرات کے سوا کسی کو رسول نہیں بنایا) لیکن امام اشعری سے منقول ہے حضرت حواء، سارہ، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ، بی بی ہاجرہ، آسیہ اور بی بی مریم نبی ہیں اور یہ قول اس وقت درست ہوسکتا ہے جب نبی اور رسول میں فرق ہو۔ اور علامہ ابن الملک نے کتاب شرح المشارق میں اس اعتراض کے جواب میں فرمایا ہم کہتے ہیں کہ کسی چیز کے کمال کو حاصل کرنا کمال کی اہلیت والے کے لئے ہی ہوتا ہے اور عورتوں کے لئے منصب نبوت کی اہلیت نہیں؛ کیونکہ منصب نبوت عورتوں کے لئے مناسب ہی نہیں ہے، نبوت کی بنیاد ظہور اور دعوت پر ہے اور عورتوں کی حالت تو پردے میں رہنے کی ہے، عورتوں کے حق میں کمال کے معنی نبوت کے نہیں ہوسکتے بلکہ عورتوں کے حق میں کمال کے معنی صدیقیت کے ہیں اور اس کا درجہ نبوت کے بعد ہے، ---- بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر --- ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ اور یہ بات مخفی نہیں کہ یہ جواب اس وقت مکمل ہوسکتا ہے جب کہ نبی اور رسول مترادف یعنی ہم معنی ہوں اور اگر دونوں میں فرق کریں جیسا کہ جمہور علماء فرق کرتے ہیں کہ رسول تبلیغ پر مامور ہیں برخلاف نبی کے اس لئے نبی کے لئے عدم تستّر یعنی پردہ کرنا لازم نہیں ہے جب کہ ستر یعنی پردہ میں رہنا رسالت کے بھی منافی نہیں ہے۔ (اور اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے) (مرقات)۔ 1 قوله فضل عائشة على النساء. (حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر) یعنی جنس عورت پر جس میں دنیا کی تمام عورتیں داخل ہیں یا ان عورتوں پر ہے جن کا پہلے ذکر آیا ہے یا جنت کی عورتوں پر یا آپ کے زمانہ کی عورتوں پر یا اس امت کی عورتوں پر یا ازواج مطہرات پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فضیلت ہے، علامہ طیبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت عائشہ کا لفظ (بالباء) آیہ پر عطف نہیں کیا گیا بلکہ ان کی فضیلت کے لئے مستقل جملہ لایا گیا ہے، یہ اس امر کو بتانے کے لئے ہے کہ حضرت عائشہ کو اپنے فضائل میں دیگر خواتین پر امتیاز حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد حبب الى من الدنيا ثلاث الطيب والنساء وجعل قرة عيني في الصلوة میں بھی یہی اسلوب ہے دنیا میں سے تین چیزیں مجھے محبوب کردی گئیں خوشبو، عورتیں اور میری آنکھ کی ٹھنڈک صلوٰة میں ہے (صلوٰة کے امتیاز کو بتانے کے لئے اس کا ذکر مستقل جملہ میں کیا گیا ہے) (مرقات)۔ 1 قوله كفضل الثريد على سائر الطعام (جیسے ثرید کو سارے کھانوں پر فضیلت ہے) علامہ تورپشتی رحمہ اللہ نے فرمایا یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثرید کی مثال اس لئے بیان فرمائی ہے کہ ثرید عرب کے سارے کھانوں میں افضل ہوتا ہے، وہ سیر شکمی کے لئے اس سے بڑھ کر کسی کھانے کو نہیں سمجھتے اور یہ کہا گیا کہ عرب حضرات ثرید کو گوشت میں پکائے جانے کی وجہ سے اس کی تعریف کرتے ہیں؛ کیونکہ روایت میں ہے گوشت کھانوں کا سردار ہے گویا جس طرح گوشت سارے کھانوں پر فضیلت رکھتا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اسی طرح تمام خواتین پر فضیلت حاصل ہے اس میں سر لطیف یہ ہے کہ ثرید جب گوشت کے ساتھ پکایا جاتا ہے تو اس میں غذائیت ہے، لذت ہے اور قوت ہے، کھانے میں آسانی ہے، چبانے میں مشقت کم ہے، حلق سے تیزی سے اتر جاتا ہے، تو اس کی مثال جو دی گئی یہ بتانے کے لئے ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسی طرح حسن صورت، حسن سیرت، شیرینی گفتار، فصیح زبان، عمدہ طبیعت، فکر اور عقل کی پختگی اور خاوند کے پاس محبوب ہونا جیسی صفات سے سرفراز کی گئی ہیں اور وہ اس لائق ہیں، کہ ان کی زوجیت اختیار کی جائے ان سے گفتگو کی جائے ان سے انسیت حاصل کی جائے اور۔۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ ان کی بات کو کان لگا کر سنا جائے، اور ان کی فضیلت کے لئے تمہارے لئے یہ بات کافی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی تمام باتوں کو سمجھا اور یاد رکھا ہے جس کو دوسری عورتیں نہیں سمجھ سکیں اور اس قدر روایتیں بیان کیں کہ مرد حضرات سے اس کے مثل روایتیں نہیں ہیں۔ اور سیدتنا عائشہ، سیدتنا خدیجہ اور سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن اجمعین کے درمیان فضیلت سے متعلق علماء کے درمیان اختلاف ہے، علامہ کسل نے فرمایا کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ تمام عالمین کی عورتوں میں حضرت سیدتنا خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بعد حضرت سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا افضل ہیں، میں کہتا ہوں کہ اس میں حضرت سیدتنا خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں کے برابر ہونے کا احتمال ہے، کیونکہ پہلی خاتون یعنی سے سیدتنا خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اہل معرفت سوابق میں سے ہیں اور دوسری خاتون حضرت سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اہل فضیلت لواحق میں سے ہیں۔ (مرقات)۔ اور علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، بالاجماع سیدتنا خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے افضل ہیں ان کے بعد حضرت سیدتنا خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، پھر سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔ (مرقات)۔ ☸ ☸ ☸ الحمدللہ رب العالمین جامع المصابیح کی چوتھی جلد اور اس کے حاشیہ کا ترجمہ مکمل ہوا، اس کے بعد جلد پنجم شروع ہوگی ان شاء اللہ اور اس کی ابتداء سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و التابعین لہم باحسان الی یوم الدین اجمعین کے فضائل سے ہے۔ وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى وَسَلَّمَ عَلٰى خَيْرِ خَلْقِهِ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَمُحِبِّيْهِ وَمَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ اَجْمَعِيْنَ۔ تاریخ 7؍ ربیع الثانی 1430ھ م 4؍ اپریل 2009ء شنبہ بعد نماز مغرب