اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7186
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب بیٹھے ہوئے تھے آپ تشریف لائے یہاں تک کہ جب ان سے قریب
ہوگئے تو ان کو آپس میں مذاکرہ کرتے ہوئے سنا ان میں سے بعض نے کہا کہ حضرت ابراہیم کو اللہ نے
خلیل بنایا اور دوسرے صاحب نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام سے اس نے کلام فرمایا اور ایک صاحب نے
کہا عیسیٰ اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، اور ایک صاحب نے کہا کہ آدم کو اللہ نے صفی اللہ بنایا اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تمہاری گفتگو اور تمہارے تعجب کرنے
کو سنا کہ ابراہیم خلیل اللہ ہیں وہ تو ایسے ہی ہیں اور موسیٰ نجی اللہ ہیں، وہ ایسے ہی ہیں اور عیسیٰ اس کی روح
اور اس کا کلمہ ہیں وہ ایسے ہی ہیں اور آدم کو اللہ نے صفی اللہ بنایا ہے وہ ایسے ہی ہیں۔ اور سنو! میں
حبیب اللہ ہوں(31) اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے اور میں قیامت میں لواء الحمد (حمد کا جھنڈا)
کو اٹھایا ہوا ہوں گا اور اس کے نیچے آدم اور ساری خلقت ہوگی اور یہ فخر کی بات نہیں ہے۔ اور میں سب
سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں، اور سب سے پہلے قیامت کے دن میری شفاعت قبول کی جائے گی،
اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں، اور میں سب سے پہلے جنت کی زنجیروں کو ہلاؤں گا اور اللہ تعالیٰ اس کو
کھولے گا، اور مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے(32)، اور اس میں
کوئی فخر نہیں، اور میں اللہ کے پاس اولین و آخرین میں سب سے زیادہ عزت و کرامت والا ہوں، اور
یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔ (ترمذی، دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3616 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: “I am the Beloved of Allah, without boasting”: At-Tibi said: He first affirmed their virtues with “it is so,” then indicated that he is the most virtuous and complete, encompassing what was distributed among them. The Friend, Confidant, and Honored are included in the Beloved. Know that the difference between the Friend and the Beloved is that the Friend is from “khullah,” meaning need, as Ibrahim’s reliance was on Allah, so He took him as a Friend. The Beloved is both the lover and the beloved, while the Friend loves out of need for the one who loves him, but the Beloved loves without purpose. The essence is that the Friend is in the rank of the seeker, the wayfarer, and the requester, while the Beloved is in the rank of the sought, the attracted, and the desired, as Allah said: “He chooses for Himself whom He wills and guides to Himself whoever turns back” [Ash-Shura: 13]. It is said: The Friend acts according to Allah’s pleasure, while Allah acts according to the Beloved’s pleasure, as Allah said: “We will surely turn you to a qiblah with which you will be pleased” [Al-Baqarah: 144], and “Your Lord will surely give you, and you will be satisfied” [Ad-Duha: 5]. It is said: The Friend’s forgiveness is at the level of hope, as Ibrahim said: “And the One I hope will forgive my sin” [Ash-Shu’ara: 82], while the Beloved’s forgiveness is at the level of certainty, as Allah said: “That Allah may forgive for you what preceded of your sin and what followed” [Al-Fath: 2]. The Friend said: “And do not disgrace me on the Day they are resurrected” [Ash-Shu’ara: 87], while about the Beloved, Allah said: “The Day when Allah will not disgrace the Prophet and those who believed with him” [At-Tahrim: 8]. The Friend said: “And make me among the inheritors of the Garden of Bliss” [Ash-Shu’ara: 85], while to the Beloved, Allah said: “Indeed, We have given you Al-Kawthar” [Al-Kawthar: 1]. The clearest evidence of the perfection of his beloved status is the statement of the Majestic and Beautiful: “Say, ‘If you love Allah, then follow me, and Allah will love you’” [Aal-E-Imran: 31]. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “with the poor among the believers”: This is clear evidence that the patient poor are superior to the grateful rich. At-Tibi said: This is evidence of their virtue and honor with Allah, as they earned Allah’s love by following His Beloved and adopting his qualities. Poverty, for the Sufis, is not want or need, but the need for Allah alone, not others, and sufficiency with Him, not with others. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: وأنا حبيب الله ولا فخر : قال الطيبي: قرر أولا ما ذكر من فضائلهم بقوله: هو كذلك». ثم نبه على أنه أفضلهم وأكملهم وجامع لما كان متفرقا فيهم، فالحبيب خليل ومتكلم ومشرف. واعلم أن الفرق بين الخليل والحبيب أن الخليل من الخلة الحاجة، فإبراهيم عنه كان افتخاره إلى الله تعالى، فمن هذا الوجه اتخذه خليلا، والحبيب فعيل بمعنى الفاعل والمفعول، فهو الله محب ومحبوب، والخليل محب لحاجته إلى من يحبه، والحبيب لا لغرض. وحاصله: أن الخليل في منزلة المريد السالك الطالب والحبيب في منزلة المراد المجذوب المطلوب اللهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِى إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ ﴾ (الشورى: (۱۳)، ولذا قيل: الخليل يكون فعله برضا الله تعالى، والحبيب يكون فعل الله برضاه؛ قال تعالى: ﴿ فَلَنُوَلَيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَهَا ﴾ (البقرة: ١٤٤) ﴿ وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى (الضحى : ٥) . وقيل : الخليل مغفرته في حد الطمع، كما قال إبراهيم: ﴿ وَالَّذِي أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِي خطيتي ) (الشعراء: (۸۲) والحبيب مغفرته في مرتبة اليقين كما قال تعالى: ﴿ لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَأْخَرَ ) (الفتح: (٢)، والخليل قال: ﴿ وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ الله (الشعراء: (۸۷) ، والحبيب قال تعالى في حقه : ﴿ يَوْمَ لا يُخْرِى اللهُ النَّبِيِّ وَالَّذِينَ ءَامَنُوا مَعَهُ ﴾ (التحريم: (۸) ، والخليل قال: ﴿ وَاجْعَلْنِي مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ الله (الشعراء: ٨٥)، والحبيب قال له : ﴿ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَر النا) (الكوثر : (١) ، والأظهر في الاستدلال على أن مرتبة محبوبيته في درجة الكمال قول ذي الجلال والجمال: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ﴾ (آل عمران: (۳۱). كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: ومن معي فقراء المؤمنين هذا دليل واضح على أن الفقير الصابر أفضل من الغني الشاكر. قال الطيبي : هذا دليل على فضلهم وكرامتهم على الله تعالى؛ لأنهم استحقوا محبة الله تعالى بمتابعة حبيبه واتصافهم بصفته، وليس الفقر عند الصوفية الفاقة والحاجة، بل الفقر عندهم الحاجة إلى الله تعالى لا إلى غيره، والاستغناء به لا عنه بغيره. كذا في «المرقاة».
Note 1
(31) وانا حبيب الله ولا فخر۔ علامہ طیبی نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے ان پیغمبروں کی جو شان اور فضائل ذکر کئے تھے ان کا اثبات فرمایا اور اس کو مضبوط کیا، پھر بتایا کہ ان پیغمبروں میں جو الگ الگ فضائل ہیں، میں ان سب کے فضائل کا جامع اور میں ان میں افضل و اکمل ہوں، کیونکہ آپ جب حبیب ہیں تو خلیل بھی ہیں کلیم بھی ہیں اور اشرف بھی ہیں اور یاد رکھو! خلیل اور حبیب میں فرق ہے خلیل خلت سے ماخوذ ہے اس کے معنی حاجت و ضرورت کے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی حاجت کو پیش کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو خلیل بنایا۔ اور حبیب محبت سے اسم فاعل اور اسم مفعول کے معنی میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے محب اور محبوب دونوں بھی ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ سے محبت کرتا ہے، اور خلیل محب ہے یعنی وہ محبوب سے اپنی ضرورت کے لئے محبت کرتا ہے اور حبیب اپنے محبوب سے بغیر غرض کے محبت کرتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ خلیل مرید ہے اور سالک و طالب ہے، اور حبیب مراد مجذوب و مطلوب کے مرتبہ میں ہے، اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اپنی طرف کر لیتا ہے، اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کو اپنی طرف بلا لیتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے خلیل وہ ہے جس کا کام اللہ کی رضا کے لئے ہوتا ہے اور حبیب وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی رضا میں ہوتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰهَا“ (2-سورة البقرة، آیت نمبر:144) بس ہم آپ کا رخ اس قبلہ کی طرف کر دیں گے جس سے آپ راضی ہیں ”وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى“۔ (93-سورۃ الضحیٰ، آیت نمبر:5) اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا عطا کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلیل جو مغفرت کی امید کے مقام میں ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا: ”وَالَّذِيْ أَطْمَعُ أَنْ يَّغْفِرَ لِيْ“۔ (26-سورۃ الشعراء، آیت نمبر:82) میں امید رکھتا ہوں کہ وہ میری مغفرت کر دے گا۔ اور حبیب مغفرت کے مقام یقین میں ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ“ (48 سورۃ الفتح، آیت نمبر:2) اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں آپ کے درجات کو بلند کرے گا، حضرت خلیل نے فرمایا: ”وَلَا تُخْزِنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَ“۔ (26-سورۃ الشعراء، آیت نمبر:87) جس دن وہ سب اٹھائے جائیں گے مجھے رسوا نہ کرنا۔ اور حبیب کے حق میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”يَوْمَ لَا يُخْزِي اللّٰهُ النَّبِيَّ وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا مَعَهٗ“۔ (66-سورۃ التحریم، آیت نمبر:8) جس دن اللہ نبی کو اور ان حضرات کو جو ان کے ساتھ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) ایمان لائے ہیں سو انہیں کر دیا۔ خلیل علیہ السلام نے عرض کیا: ”وَاجْعَلْ لِيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِيْنَ“۔ (26۔ سورۃ الشعراء، آیت نمبر:84) بعد والے لوگوں میں میرا ذکر خیر رکھ دے، اور حبیب کے لئے ارشاد ہوا ”وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ“۔ (94۔ سورۃ الم نشرح، آیت نمبر:4) کہ ہم نے آپ کے لئے آپ کے ذکر کو بلند کیا، اور خلیل نے عرض کیا: ”وَاجْعَلْنِيْ مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيْمِ“۔ (26۔ سورۃ الشعراء، آیت نمبر:85) مجھے جنت النعیم کے وارثوں میں سے کر دے، اور حبیب کے لئے ارشاد ہوا ”إِنَّا أَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ“۔ (108۔ سورۃ الکوثر، آیت نمبر:1) ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمایا۔ آپ کی فضیلت کے لئے واضح استدلال ہے کہ محبوبیت کا مرتبہ اور درجہ انتہائی کمال کا درجہ ہے، ان آیات میں اللہ ذوالجلال والجمال کا یہ ارشاد ہے: ”قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ“۔ (3۔ سورۃ آل عمران، آیت نمبر:31) آپ فرما دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو“۔ (مرقات)۔ (32) قولہ: ومعى فقراء المؤمنين۔ یہ واضح دلیل ہے کہ صبر کرنے والا فقیر شکر گزار مالدار سے افضل ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا: کہ فقراء اللہ تعالیٰ کی محبت کے مستحق ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس فقراء کی بزرگی اور کرامت کی دلیل ہے، کیونکہ ان فقراء نے حبیب کی اتباع کر کے اور حبیب کی صفت فقر و صبر سے متصف ہو کر اللہ تعالیٰ کی محبت کے مستحق ہو گئے، صوفیاء کرام کے پاس فقر کے معنی دنیاوی احتیاج و ضرورت کے نہیں ہیں بلکہ فقر سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف محتاج ہونا اور صرف اللہ کا ہو کر رہنا دوسروں سے بے نیاز رہنا ہے۔ (مرقات)۔