Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5534

Chapter on the Virtues of the Master of the Messengers, Blessings and Peace of Allah be upon Him

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Master of the Messengers, Blessings and Peace of Allah be upon Him

Zujajat al-Masabih 5534Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7189
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور میں یہ فخر سے نہیں کہتا(34) اور میرے ہاتھ میں لواء الحمد ہے(35) اور میں فخر سے نہیں کہتا اس دن کوئی بھی اولاد آدم ہوں یا ان کے سوا سب میرے جھنڈے تلے ہوں گے۔ اور میں پہلا ہوں جن کی قبر شریف کی زمین شق ہوگی اور یہ بات میں فخر سے نہیں کہتا ہوں۔ (ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3615 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

without boasting

(1) His statement: “without boasting”: Meaning I do not say this to boast, but to acknowledge His favor, proclaim His blessing, and convey what I was commanded. It is said: I do not boast of this, but my boasting is in the One who granted me this rank. I say: It could mean I do not boast of this leadership, but I boast of servitude and worship to Him, as it brings the best reward and increase. If you say: How is it commendable for a person to praise himself, when it is known to be reprehensible in common experience, to the extent that a wise man was asked, “What is not good even if true?” and he said, “A man praising himself”? We say: It is commendable when alerting the listener to something hidden about his state, like a teacher saying to a student: “Listen to me, for you will not find one like me,” or as Yusuf said: “Appoint me over the storehouses of the land; indeed, I am a knowing guardian” [Yusuf: 55]. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

in my hand is the Banner of Praise

(2) His statement: “in my hand is the Banner of Praise”: At-Tibi said: It could mean that the Banner of Praise on the Day of Resurrection is a real banner called the Banner of Praise. Shaykh At-Turbashti said: No station among the stations of Allah’s righteous servants is higher or loftier than the station of praise, and all other stations lead to it. As our Prophet (ﷺ) is the master of the messengers and the most praised of creation in this world and the Hereafter, he was given the Banner of Praise, under which the first and the last will gather. This is indicated by his statement: “Adam and those below him are under my banner.” His name was derived from praise, so he is called Muhammad and Ahmad. On the Day of Resurrection, he will be established in the Praised Station, and praises will be opened for him that were not opened for anyone before or after him. He endowed his nation with the blessing of the favor granted to him, so his nation was described in the revealed books before him as the praising nation, praising Allah in ease and hardship. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : ولا فخر : أي ولا أقوله تفاخرا، بل اعتدادا بفضله وتحدثا بنعمته وتبليغا لما أمرت به. وقيل: لا افتخر بذلك، بل فخري بمن أعطاني هذه المرتبة. أقول: ويمكن أن يكون المعنى ولا فخر لي بهذه السيادة، بل افتخر بالعبودية له والعبادة؛ فإنه يوجب الحسنى والزيادة. فإن قلت: كيف استحسن مدح الإنسان نفسه، وقد علم في الشاهد استقباحه حتى قيل للحكيم: ما الذي لا يحسن وإن كان حقا ؟ قال مدح الرجل نفسه. قلنا : قد يحسن ذلك عند تنبيه المخاطب على ما خفي عليه من حاله، كقول المعلم للمتعلم: اسمع مني؛ فإنك لا تجد مثلي، وعلى ذلك قول يوسف : اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ ) (يوسف: ٥٥). كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله وبيدي لواء الحمد

(۲) قوله وبيدي لواء الحمد : قال الطيبي: ويحتمل أن يكون الحمده لواء يوم القيامة حقيقة يسمى لواء الحمد، وعليه كلام الشيخ التوربشتي حيث قال: لا مقام من مقامات عباد الله الصالحين أرفع وأعلى من مقام الحمد ودونه ينتهي سائر المقامات، ولما كان نبينا سيد المرسلين أحمد الخلائق في الدنيا والآخرة أعطى لواء الحمد ليأوي إلى لوائه الأولون والآخرون، وإليه الإشارة بقوله : آدم ومن دونه تحت لوائي؛ ولهذا المعنى افتتح كتابه بالحمد، واشتق اسمه من الحمد، فقيل: محمد وأحمد، وأقيم يوم القيامة المقام المحمود، ويفتح عليه في ذلك المقام من المحامد ما لم يفتح على أحد قبله، ولا يفتح على أحد بعده، وأمد أمته ببركته من الفضل الذي آتاه، فنعت أمته في الكتب المنزلة قبله بهذا النعت، فقال: أمته الحمادون يحمدون الله في السراء الضراء. كذا في «المرقاة».

Note 1

(34) قولہ: ولا فخر۔ یعنی یہ بات میں فخر سے نہیں بول رہا ہوں بلکہ اللہ کے فضل کا اظہار اور تحدیث نعمت کے لئے ہے، اور مجھے جس چیز کا حکم دیا گیا ہے اس کی تبلیغ کے لئے کہہ رہا ہوں اور اس کا ایک مطلب یہ بھی کہا گیا ہے کہ میں اس پر فخر نہیں کرتا بلکہ اس ذات پر فخر کرتا ہوں جس نے مجھے یہ مرتبہ عطا فرمایا۔ اور میں کہتا ہوں اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے میں سیادت پر فخر نہیں کرتا بلکہ اس کی بندگی اور اس کی عبادت کرنے پر فخر کرتا ہوں کیونکہ اس سے آخرت کے مراتب حُسنیٰ اور دیدار الٰہی کی زیادتی سے سرفرازی ہوتی ہے۔ اگر تم کہو کہ انسان کا اپنے آپ کی تعریف کرنا کیسے اچھا ہو سکتا ہے جب کہ اس کو برا سمجھا گیا ہے یہاں تک کہ ایک حکیم اور دانشمند کے لئے اگرچیکہ وہ کتنا ہی اچھا اور بہتر ہے اس کا اپنی آپ تعریف کرنا برا ہے۔ تو اس کے لئے ہم کہیں گے کہ کبھی متکلم کی کوئی صفت مخاطب پر پوشیدہ ہوتی ہے، مخاطب کو اس سے باخبر کرنے کے لئے اس کا ذکر کرنا اچھا سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح کہ معلم کبھی متعلم سے کہتا ہے تم یاد رکھو! ”فانک لاتجد مثلی“ تم میرے جیسا نہیں پاؤ گے۔ اسی طرح یوسف علیہ السلام کا قول ہے: ”اجْعَلْنِيْ عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ ، إِنِّيْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ“۔ (12۔ سورۃ یوسف، آیت نمبر:55) تو مجھے زمین کے خزانوں پر امین بنا دے میں حفاظت کرنے والا اور اچھی طرح باخبر ہوں۔ (مرقات)۔ (35) قوله: وبيدي لواء الحمد. علامہ طیبی نے فرمایا: ہوسکتا ہے آپ کی حمد کا قیامت کے دن حقیقت میں کوئی جھنڈا ہو اور اس کا نام لواء الحمد ہو۔ علامہ تورپشتی نے بھی یہی کہا ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کے مقامات میں مقام حمد سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ و ارفع مقام نہیں ہے اور تمام مقامات اس سے کم ہیں اور سب اس کے نیچے ختم ہوجاتے ہیں۔ اور جب ہمارے نبی سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ حمد کرنے والے ہیں اور سب سے زیادہ آپ کی حمد کی گئی ہے، تو لواء الحمد آپ کو سرفراز کیا گیا جس کے تلے اولین و آخرین سب پناہ لیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ”آدم ومن دونه تحت لوائي“ آدم اور ساری خلقت میرے جھنڈے تلے ہے، اس حدیث شریف میں اسی طرف اشارہ ہے اور اسی معنی کی وجہ سے اپنی کتاب کا آغاز حمد سے کیا اور آپ کے نام کو حمد سے مشتق کیا اور آپ کو محمود و احمد کہا گیا۔ اور قیامت کے دن مقام محمود پر فائز کیا گیا اور اس مقام میں آپ پر وہ محامد کھولے جائیں گے جو آپ سے پہلے کسی پر کھولے نہیں گئے، اور آپ کی برکت سے آپ کی امت کو اپنے فضل سے سرفراز کیا اور آپ سے پہلے نازل کردہ کتابوں میں آپ کی امت کی تعریف اسی صفت حمد سے کی گئی اور فرمایا آپ کی امت حمادون ہے وہ راحت و تکلیف اور خوشی و غمی میں بھی اللہ کی تعریف کرتے رہیں گے۔ (مرقات)۔