Abdullah ibn Salam (may Allah be pleased with him) narrated: “It is written 1 in the Torah the attribute of Muhammad and Eesa (Jesus), son of Maryam (Mary), will be buried with him.” Abu Mawdud said: “There remains 2 a place for a grave in the chamber.”
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3617 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
It is written in the Torah
(1) His statement: “It is written in the Torah”: This is the predicate of “the description of Muhammad,” meaning his attributes. The statement “and Eesa (Jesus), son of Maryam (Mary), will be buried with him” is conjoined to the subject, meaning it is also written that Eesa (Jesus) will be buried with him. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
There remains in the chamber
(2) His statement: “There remains in the chamber”: Meaning in Aisha’s chamber, a place for his grave. Sheikh Al-Jazari and others who entered the chamber reported seeing three graves: the Prophet (ﷺ) at the front, Abu Bakr behind him with his head at the Prophet’s back, and Umar similarly behind Abu Bakr with his head at the Prophet’s feet. A place for one grave remains beside Umar. It is reported that Eesa (Jesus), after staying on earth, will perform Hajj and Umrah, die between Makkah and Madinah, be carried to Madinah, and buried in the noble chamber beside Umar, so these two noble companions will be alongside these two great prophets, peace and blessings be upon them, and may Allah be pleased with them until the Day of Resurrection. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله مكتوب في التوراة
(۱) قوله مكتوب في التوراة: خبر قوله: صفة محمد، أي نعته، وجملة قوله: وعيسى بن مريم يدفعن معه عطف على المبتدأ، أي ومكتوب فيها أيضا أن عيسى يدفن معه. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: وقد بقي في البيت أي في حجرة عائشة موضع قبره، فقد قال الشيخ الجزري وكذا أخبرنا غير واحد ممن دخل الحجرة، ورأى القبور الثلاثة على هذه الصفة النبي الله مقدم، وأبو بكر متأخر عنه رأسه تجاه ظهر النبي ، ورأس عمر كذلك من أبي بكر تجاه رجلي النبي ، وبقي موضع قبر واحد إلى جنب عمر، وقد جاء أن عيسى علا بعد لبثه في الأرض يحج ويعود، فيموت بين مكة والمدينة، فيحمل إلى المدينة، فيدفن في الحجرة الشريفة إلى جنب عمر ، فيبقى هذان الصحابيان الكريمان مصحوبين هذين النبيين العظيمين عليهما الصلاة والسلام ورضي الله عنهما إلى يوم القيامة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(47) قولہ: مكتوب في التوراة. ترکیب میں یہ خبر مقدم ہے، اور صفة مُحَمَّد مبتدا ہے، صفت سے مراد آپ
کی نعت شریف ہے، اور عيسىٰ بن مريم يدفن معه (عیسیٰ بن مریم آپ کے بازو میں دفن کئے جائیں گے)
اس جملہ کا صفة محمد پر عطف ہے یعنی اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
ساتھ دفن ہوں گے۔ (مرقات)۔
(48) قولہ: وقد بقى في البيت. یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے، اور
حضرت شیخ جزری نے فرمایا، ہم کو یہ بات بہت سے ان حضرات نے بیان کی ہے جو حجرہ میں داخل ہوئے ہیں، اور
تین قبور کو اس طور پر دیکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقدم ہیں اور حضرت ابوبکرؓ آپ سے ذرا ہٹ کر ہیں ان کا
سر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کے پاس ہے اور اسی طرح حضرت عمرؓ آپ سے ہٹ کر ہیں اور حضرت
عمرؓ کا سر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پائے مبارک کے پاس ہے اور حضرت عمرؓ کے بازو میں ایک قبر کی جگہ
باقی ہے اور حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین میں قیام کے بعد حج کریں گے، اور واپس ہوتے ہوئے مکہ
مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان انتقال فرمائیں گے آپ کو مدینہ منورہ لایا جائے گا اور حجرہ مبارکہ میں حضرت عمرؓ کے
بازو دفن کئے جائیں گے۔ پس یہ دونوں بزرگ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما دو عظیم پیغمبروں علیہما الصلوۃ والسلام کے ساتھ
قیامت تک ان کے درمیان میں ساتھ رہیں گے۔ (مرقات)۔
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: “It is written in the Torah”: This is the predicate of “the description of Muhammad,” meaning his attributes. The statement “and Eesa (Jesus), son of Maryam (Mary), will be buried with him” is conjoined to the subject, meaning it is also written that Eesa (Jesus) will be buried with him. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “There remains in the chamber”: Meaning in Aisha’s chamber, a place for his grave. Sheikh Al-Jazari and others who entered the chamber reported seeing three graves: the Prophet (ﷺ) at the front, Abu Bakr behind him with his head at the Prophet’s back, and Umar similarly behind Abu Bakr with his head at the Prophet’s feet. A place for one grave remains beside Umar. It is reported that Eesa (Jesus), after staying on earth, will perform Hajj and Umrah, die between Makkah and Madinah, be carried to Madinah, and buried in the noble chamber beside Umar, so these two noble companions will be alongside these two great prophets, peace and blessings be upon them, and may Allah be pleased with them until the Day of Resurrection. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله مكتوب في التوراة: خبر قوله: صفة محمد، أي نعته، وجملة قوله: وعيسى بن مريم يدفعن معه عطف على المبتدأ، أي ومكتوب فيها أيضا أن عيسى يدفن معه. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: وقد بقي في البيت أي في حجرة عائشة موضع قبره، فقد قال الشيخ الجزري وكذا أخبرنا غير واحد ممن دخل الحجرة، ورأى القبور الثلاثة على هذه الصفة النبي الله مقدم، وأبو بكر متأخر عنه رأسه تجاه ظهر النبي ، ورأس عمر كذلك من أبي بكر تجاه رجلي النبي ، وبقي موضع قبر واحد إلى جنب عمر، وقد جاء أن عيسى علا بعد لبثه في الأرض يحج ويعود، فيموت بين مكة والمدينة، فيحمل إلى المدينة، فيدفن في الحجرة الشريفة إلى جنب عمر ، فيبقى هذان الصحابيان الكريمان مصحوبين هذين النبيين العظيمين عليهما الصلاة والسلام ورضي الله عنهما إلى يوم القيامة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(47) قولہ: مكتوب في التوراة. ترکیب میں یہ خبر مقدم ہے، اور صفة مُحَمَّد مبتدا ہے، صفت سے مراد آپ کی نعت شریف ہے، اور عيسىٰ بن مريم يدفن معه (عیسیٰ بن مریم آپ کے بازو میں دفن کئے جائیں گے) اس جملہ کا صفة محمد پر عطف ہے یعنی اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن ہوں گے۔ (مرقات)۔ (48) قولہ: وقد بقى في البيت. یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے، اور حضرت شیخ جزری نے فرمایا، ہم کو یہ بات بہت سے ان حضرات نے بیان کی ہے جو حجرہ میں داخل ہوئے ہیں، اور تین قبور کو اس طور پر دیکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقدم ہیں اور حضرت ابوبکرؓ آپ سے ذرا ہٹ کر ہیں ان کا سر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کے پاس ہے اور اسی طرح حضرت عمرؓ آپ سے ہٹ کر ہیں اور حضرت عمرؓ کا سر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پائے مبارک کے پاس ہے اور حضرت عمرؓ کے بازو میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے اور حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین میں قیام کے بعد حج کریں گے، اور واپس ہوتے ہوئے مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان انتقال فرمائیں گے آپ کو مدینہ منورہ لایا جائے گا اور حجرہ مبارکہ میں حضرت عمرؓ کے بازو دفن کئے جائیں گے۔ پس یہ دونوں بزرگ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما دو عظیم پیغمبروں علیہما الصلوۃ والسلام کے ساتھ قیامت تک ان کے درمیان میں ساتھ رہیں گے۔ (مرقات)۔