Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5547

Chapter on the Virtues of the Master of the Messengers, Blessings and Peace of Allah be upon Him

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Master of the Messengers, Blessings and Peace of Allah be upon Him

Zujajat al-Masabih 5547Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7203
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے کہا کہ میں عرض کیا یا رسول اللہ آپ کیسے جانے کہ آپ نبی ہیں یہاں تک کہ آپ کو یقین ہوگیا تو آپ نے فرمایا اے ابوذر میرے پاس دو فرشتے آئے اور میں مکہ کی وادی بطحاء کے ایک حصہ میں تھا ان میں سے ایک زمین کی طرف آیا اور دوسرا آسمان وزمین کے درمیان رہا، اور ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کیا یہ وہی ہیں تو اس نے کہا ہاں، اس نے کہا ان کو ایک شخص سے تولو، مجھے اس سے تولا گیا تو میں اس پر بھاری ہو گیا، پھر اس نے کہا دس اشخاص سے تولو، مجھے ان سے تولا گیا تو میں ان پر بھی بھاری ہو گیا پھر اس نے کہا سو(100) سے تولو، تو مجھے ان سے تولا گیا تو میں ان پر بھی بھاری ہو گیا پھر اس نے کہا ہزار(1000) سے تولو، میں ان سے تولا گیا تو میں ان پر بھی بھاری ہو گیا، گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں ان کا پلّہ ہلکا ہو جانے سے وہ مجھ پر گر رہے ہیں(49)۔ تو ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا اگر تم ان کو ان کی ساری امت سے بھی تولتے تو وہ ان پر بھاری ہوجاتے(50)۔(دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Darimi 13 (unverified) 40% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5767 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 5767

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

scattering

(1) His statement: “scattering”: The pronoun refers to the thousand weighed, meaning they fell due to the lightness of that side of the scale. The Hadith indicates that the Prophet (ﷺ) recognized his prophethood through extraordinary signs. The truth is that his knowledge of it was innate in his heart, and these were confirmations and supports. The priMaryam (Mary) purpose is to inform and teach the nation, indicating that he attained this knowledge that day, just as his life aligns with the Torah. (As stated in Al-Lama’at)

Note 2

If you weighed him against his nation, he would outweigh them

(2) His statement: “If you weighed him against his nation, he would outweigh them”: At-Tibi said: This indicates that just as the nation needs extraordinary signs to verify the Prophet’s truthfulness after scrutiny, the Prophet also needs such signs to confirm his prophethood. This also addresses the well-known issue regarding Abraham’s question: My Lord, show me how You give life to the dead [Al-Baqarah: 260]. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ينتثرون على الضمير للألف الموزون أي يتساقطون على من خفة تلك الكفة. وفي الحديث أن للرسول ﷺ استدلالا بالخوارق على معرفة نبوته، والحق أن علمه بذلك ضروري واقع في القلب، وهذه مؤكدات ومؤيدات لذلك على أن الغرض الأصلي من بيان ذلك تعريف الأمة وتعليمهم، والمقصود أنه حصل له العلم منه ذلك اليوم، وهذا كما أن سيرته موافقة للتوراة. كذا في «اللمعات».

Note 2

قوله

(۲) قوله: لو وزنته بأمته لرجحهما قال الطيبي: وفيه أن الأمة كما يفتقرون في معرفة كون النبي صادقا إلى إظهاره خوارق العادت بعد التحري، كذلك النبي يفتقر في معرفته كونه نبيا إلى أمثال هذه الخوارق. قلت: وهذا أيضا يصلحأن يكون جوابا عن الإشكال المذكور المشهور في سؤال إبراهيم : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى (البقرة: ٢٦٠). كذا في «المرقاة».

Note 1

(49) قولہ: ينتثرون۔ کی ضمیر فاعل سے مراد وہ ہزار ہیں جو تولے گئے، اس پلّہ کے ہلکے اور اٹھ جانے کی وجہ سے وہ مجھ پر گر رہے ہیں۔ اور اس حدیث شریف میں آپ کی نبوت کی معرفت پر معجزات کے ذریعہ استدلال ہے، اور حق بات یہ ہے کہ آپ کے نبی ہونے کا علم بدیہی طور پر آپ کے قلب اطہر میں ہوا ہے، اور یہ خوارق اس کی تاکید و تائید کے لئے ہیں۔ سوال کا مقصد یہ تھا کہ دنیا میں آپ کی معرفت کا ذریعہ کیا تھا۔ جواب کا مقصد اصلی بھی یہ بتانا ہے کہ آج کے دن اس کی معرفت کا ذریعہ یہ تھا۔ (ورنہ آپ کو تو ابتداء آفرینش سے ہی اپنی نبوت کی معرفت حاصل ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہا جاتا ہے آپ کی سیرت تورات میں مذکور سیرت کے مطابق ہے۔ (لمعات)۔ (50) قولہ: لو وزنته بأمته لرجحها۔ (اگر تم آپ کو آپ کی پوری امت سے تولتے تو بھی آپ بھاری ہوجاتے)۔ علامہ طیبی نے فرمایا: امت کے لئے جس طرح نبی کے صداقت کی معرفت کے واسطے نبی کی طرف سے معجزات اور خوارق عادات کے اظہار کی ضرورت ہے تو نبی کو بھی معرفت کا نظارہ کرنے کیلئے اس جیسے خوارق و معجزات کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رب تعالیٰ سے جو سوال کیا تھا ” رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَىٰ “۔ (2۔ سورۃ البقرۃ، آیت نمبر:260) پروردگارا! تو مجھے دکھا دے تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے، آپ کے اس سوال پر جو مشہور اعتراض مذکور ہے تو یہ جواب اس کا بھی جواب ہوسکتا ہے، یعنی آپ اس کا نظارہ کرنا چاہتے تھے۔ (مرقات)۔