Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5561

Chapter on the Names of the Prophet (ﷺ) and His Attributes (Sifat)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Names of the Prophet (ﷺ) and His Attributes (Sifat)

Zujajat al-Masabih 5561Volume 5

اردو

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت طویل نہیں تھے اور پست قد بھی نہیں تھے(13) اور نہ بہت سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے تھے اور چھلے دار بال والے بھی نہیں تھے اور لمبے بال والے بھی نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا اور آپ مکہ میں دس سال رہے (14) اور مدینہ میں دس سال رہے اور اللہ نے آپ کو ساٹھ (60) سال میں وفات دی اور آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا: کہ آپ قوم میں میانہ قد تھے، طویل قد نہیں تھے اور پست قد بھی نہیں تھے، روشن قد تھے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زلف مبارک دونوں کانوں کے نصف حصہ تک تھے (15)۔ اور ایک روایت میں ہے وہ آپ کے دونوں کانوں اور شانوں کے درمیان تک تھے۔ (متفق علیہ)۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے آپ کا سر مبارک عظیم اور دونوں قدم گوشت سے بھر پور تھے۔ میں آپ کے جیسا نہ آپ سے پہلے دیکھا اور نہ آپ کے بعد دیکھا اور آپ کی دونوں ہتھیلیاں کشادہ تھیں(16)۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ آپ کے دونوں قدم اور دونوں ہتھیلیاں پُرگوشت تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3548 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2347a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (11)

Note 1

neither noticeably tall…

(1) His statement: “neither noticeably tall…”: The sumMaryam (Mary) is that he was of moderate height, leaning toward tallness, as the negation applies to the qualifier of being noticeably tall, affirming a degree of tallness. Thus, compared to the noticeably tall, he was short, which is why the negation of shortness was qualified as hesitant. This is supported by a narration stating he was of medium height leaning toward tallness. This refers to his intrinsic quality, for otherwise, anyone tall would be outdone by him in height. His statement: “neither with tightly curled…”: Meaning his hair was between the two extremes. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

he stayed in Makkah

(2) His statement: “he stayed in Makkah”: Meaning after his prophethood for ten years. The more accurate view is thirteen years, and some say fifteen. This explains the difference in his reported age. Those who said ten rounded to the nearest decade, omitting the remainder, while those who said fifteen included the years of birth and death. Reflect on this. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

the middle of his ears

(3) His statement: “the middle of his ears”: In Majma’ Al-Bihar: The variation in narrations about his hair length is due to different times. When he neglected trimming, it reached the shoulders; when trimmed, it reached the ears. (As stated in Al-Lama’at)

Note 4

his hands were smooth

(4) His statement: “his hands were smooth”: Meaning thick without shortness in the fingers. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ليس بالطويل البائن إلخ والحاصل أنه كان معتدل القامة، لكن إلى الطول أميل، فإن النفي نسب إلى قيد وصف البائن، فثبت أصل الطول ونوع منه فهو بالنسبة إلى الطول البائن قصير، ولذا قيد نفي القصر بالمتردد، ويؤيده أنه جاء في رواية: أنه ربعة إلى الطول. وهذا إنما هو في حد ذاته، وإلا فما ما شاه طويل إلا غلبه في الطول. وقوله: وليس بالجعد إلخ فالمعنى أن شعر رسول الله الله كان وسطا بينهما. التقطته من «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : فأقام بمكة : أي بعد البعثة عشر سنين، والأصح أنه أقام بها ثلاث عشرة سنة. وقيل: خمس عشرة، ومن هذا سرى الاختلاف في عمره ، وقالوا : من ذكر عشرا اقتصر على العقد وترك الكسر ، ومن ذكر خمسة عشر سنة ذكر عامي الولادة والوفاة، فتدبر. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: إلى أنصاف أذنيه: قال في مجمع البحار ووجه اختلاف الروايات في قدر شعره و اختلاف الأوقات، فإذا غفل عن تقصيرها بلغت المكب، وإذا قصرها كانت إلى الأذنين. كذا في اللمعات».

Note 4

قوله

(٤) قوله : وكان سبط الكفين: أي غليظهما هو الذي في أنامله غلظ بلا قصر. كذا في «المرقاة».

Note 1

(13) قوله: ليس بالطويل البائن الخ: خلاصہ کلام یہ ہے کہ آپ میانہ قد کے مائل بہ درازی تھے۔اور ليس بالطويل البائن میں لفظ بائن سے بہت زیادہ لمبے ہونے کی نفی کی گئی ہے مطلق لمبائی کی نفی نہیں ہے بلکہ آپ مائل (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) نہ درازی تھے، پست قد بھی نہیں تھے۔ بغیر کسی قید کے پست قد کی نفی بہت لمبائی کے مقابلہ میں ہے، یعنی آپ میانہ قد تھے، چنانچہ ایک روایت میں صراحت ہے انه ربعة الى الطول۔ آپ میانہ قد مائل بہ درازی تھے، اور آپ اپنی ذات مبارک میں میانہ قد مائل بہ درازی تھے کوئی دراز آدمی آپ کے برابر میں آجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لمبائی میں اس سے بڑے نظر آتے تھے۔ اور قوله وليس بالجعد. یعنی آپ کے زلف مبارک زیادہ چھلے دار نہیں تھے اور نہ بالکل سیدھے لمبے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کی زلف ان دونوں کے مابین درمیانی خوبصورت تھی۔ (ماخوذ از مرقات)۔ (14) قوله: فأقام بمكة. یعنی بعثت کے بعد مکہ مکرمہ میں دس (10) سال رہے لیکن درحقیقت آپ اس میں تیرہ

Note 2

(15) قوله: الى انصاف أذنيه. (آپ کے زلف مبارک دونوں کانوں کے نصف حصہ تک تھے) صاحب مجمع البحار نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسو مبارک کی مقدار میں روایات کا اختلاف دراصل مختلف اوقات کی وجہ سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بالوں کو کم کرنے میں کچھ تاخیر فرماتے تو وہ شانوں کو چھوتے تھے اور جب آپ ان کو کم کرتے تو کانوں تک ہو جاتے تھے۔ (لمعات)۔

Note 3

(16) قوله: و كان سبط الكفين۔ یعنی دونوں ہتھیلیاں کشادہ تھیں، انگلیوں کے پور پُرگوشت اور لمبے تھے۔