Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

Hadith 5569

بَابُ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ ﷺ وَصِفَاتِهِ

In this book

Current reading

[كِتَابُ الْفَضَائِلِ]

بَابُ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ ﷺ وَصِفَاتِهِ

Zujajat al-Masabih 5569Volume 5

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٥٦٩ - وَعَنْ أُمَّ سُلَيْمٍ (رضي الله عنها) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ1 عِنْدَهَا، فَتَبْسُطُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ، فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ، فَتَجْعَلُهُ فِي الطَّيبِ، فَقَالَ النَّبِيُّ : «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا ؟». قَالَتْ: عَرَقُكَ، نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطَّيبِ. وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا، قَالَ: «أَصَبْتِ»2. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2331c (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2331b (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6281 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

rest at her place

(1) His statement: “rest at her place”: Because she was the mother of his servant, Anas, and it does not imply unveiling or seclusion. Al-Nawawi said: Umm Haram and Umm Sulaim were aunts of the Prophet (ﷺ), either through nursing or lineage, so he could be alone with them, entering only their homes and no other women’s. Al-Turubishti said: I found in some Hadith books that she was among his mahram relatives, as the Prophet (ﷺ) would not rest in a non-mahram’s house. If there was no blood or marriage tie, it must be through nursing. Since we know the Prophet (ﷺ) was not taken to Madinah as an infant, it must be through his father, Abdullah, as Abdul Muttalib parted from his father, Hashim, and married in Madinah among Banu An-Najjar. Umm Haram and Umm Sulaim, daughters of Milhan, were from Banu An-Najjar. Many narrators reported their Hadiths without clarifying the reason, either due to oversight or lack of knowledge. I wished to clarify this to prevent anyone from assuming leniency due to his infallibility or using it to justify impermissible leniency. I believe, and Allah knows best, I am the first to be guided to this, a pearl I extracted, and I praise Allah for this noble gift. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

You have done well

(2) His statement: “You have done well”: Meaning you did right. This supports seeking blessings from the relics of the righteous. It is said that when Anas ibn Malik neared death, he instructed that some of that perfume be used in his embalming. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فيقيل عندها : أي لأنها كانت أم خادمه، وهو أنس، ولا دلالة فيه على الكشف أو الخلوة. قال النووي: أم حرام وأم سليم كانتا خالتين لرسول الله ﷺ محرمين، إما من الرضاع وإما من النسب، فيحل له الخلوة بهما، فكان يدخل عليهما خاصة، ولا يدخل على غيرهما من النساء. وقال التوربشتي قد وجدت في بعض كتب الحديث أنها كانت من ذوات محارم النبي ، لأنه الله لم يكن ليقيل في بيت أجنبية، وإذا لم يكن بينه وبينها سبب محرم من رحم ووصلة، فلا بد أن يكون ذلك من جهة الرضاع، وإذا قد علمنا أن النبي ﷺ لم يحمل إلى المدينة رضيعا تعين ذلك أن يكون من قبل أبيه عبد الله؛ فإنه ولد بالمدينة، وكان عبد المطلب قد فارق أباه هاشما، وتزوج بالمدينة في بني النجار، وأم حرام وأم سليم بنتا ملحان، كانتا من بني النجار، ولقد وجدنا الجم الغفير من علماء النقل أوردوا أحاديث أم حرام وأم سليم ولم يبين أحد منهم العلة، إما من الغفلة وإما لعدم العلم بها، فأحببت أن أبين وجه ذلك كيلا يظن جاهل أنه كان في سعة من ذلك لمكان العصمة، ولا يتذرع به مستبيح إلى الترخص بما لا رخصة فيه، وأراني - والله أعلم - أول من وفقت لذلك فواها لها من درة كنت مستخرجها، والله أحمد على هذه الموهبة السنية. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(٢) قوله: أصبت أي فعلت الصواب. وفيه استحباب التبرك والتقرب بآثار الصالحين. قيل: لما حضر أنس بن مالك الوفاة أوصى أن يجعل في حنوطه من ذلك الطيب. كذا في «المرقاة».

Note 1

(29) قوله: فيقيل عندها. (آپ ان کے پاس قیلولہ فرماتے) کیونکہ ام سلیم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم حضرت انس کی والدہ تھیں اس میں غیر محرم کے ساتھ تنہائی اور بے پردگی کا مطلب نہیں نکلتا ہے۔ علامہ نووی نے فرمایا: ام حرام اور ام سلیم یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی یا نسبی خالائیں تھیں دونوں محرم تھیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان دونوں کے ساتھ تنہائی اور خلوت میں رہنا جائز تھا۔ اسی لئے آپ ان دونوں کے پاس جاتے تھے دوسری عورتوں کے پاس نہیں جاتے تھے۔ اور علامہ تورپشتی نے فرمایا کہ میں نے حدیث شریف کی بعض کتابوں میں پایا ہے کہ یہ (ام سلیم) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم میں سے تھیں۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی کسی اجنبی خاتون کے گھر میں جس سے آپ کو حرمت کا نسبی یا کوئی اور حرمت کا رشتہ نہیں تھا قیلولہ نہیں کئے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ام سلیم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حرمت کا رضاعی رشتہ تھا۔ اور جب ہم یہ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیر خوارگی کی مدت میں مدینہ منورہ کو نہیں لائے گئے، تو یہ بات متعین ہے کہ یہ رضاعی رشتہ آپ کے والد ماجد حضرت عبداللہ کی جانب سے تھا کیونکہ حضرت عبداللہ کی پیدائش مدینہ منورہ میں ہوئی اور عبدالمطلب نے اپنے والد ہاشم سے الگ ہو کر مدینہ منورہ میں قبیلہ بنی نجار کی خاتون سے شادی کی، اور ام سلیم و ام حرام دونوں جو ملحان کی بیٹیاں ہیں بنی نجار قبیلہ کی ہیں، علماء کی ایک بڑی جماعت نے ام سلیم و ام حرام کی ان روایات کو تو بیان کیا لیکن کسی نے بھی اس کی وجہ بیان نہیں کی۔ یا تو یہ کہ ان سے غفلت ہوئی وہ اس جانب توجہ نہیں کئے، یا اس کا ان کو علم نہیں ہو سکا تھا، مگر میں نے چاہا کہ اس کی وجہ بتا دوں تاکہ کوئی ناواقف یہ خیال نہ کرے کہ آپ معصوم ہونے کی وجہ سے آپ کے لئے اس کی گنجائش تھی، اور کوئی رخصت پیدا اس میں رخصت و اجازت گمان نہ کرے جب کہ اس میں کسی قسم کی اجازت و رخصت نہیں ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میں پہلا شخص ہوں جو اللہ کی توفیق سے اس وجہ کو بیان کر سکا۔ کیا ہی خوش بختی ہے میری کہ اس بے بہا موتی کو نکالا اللہ تعالیٰ کی اس عظیم عطا پر میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ (مرقات)۔

Note 2

(30) قولہ اصبت۔ (تم نے ٹھیک کام کیا) تم نے اچھا کام کیا اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ صالحین کے آثار سے تبرک اور تقرب حاصل کرنا مستحب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو آپ نے وصیت کی کہ میری میت اور میرے کفن کی خوشبو میں اس کو شامل کیا جائے۔