English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: I was walking with the Messenger of Allah (ﷺ), who was wearing a Najrani cloak with a thick hem. A Bedouin caught up with him and pulled his cloak forcefully 1. The Prophet (ﷺ) turned toward the Bedouin’s chest until I saw the side of the Messenger of Allah’s shoulder marked by the cloak’s hem due to the force of the pull. Then he said: “O Muhammad, order for me from the wealth of Allah that you have.” The Messenger of Allah (ﷺ) turned to him, laughed, and ordered a gift for him. [Agreed Upon]
Ali Al-Qari (may Allah have mercy on him) said: It appears 2 that he was among those whose hearts were to be won over, so he acted as he did, addressing him by name harshly, contrasting with the sea of kindness.
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٥٧٥ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه)قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَعَلَيْهِ بُرْدُ نَجْرَانِي غَلِيظٌ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيُّ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْدَةً شَدِيدَةً ، وَرَجَعَ1 نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيَّ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَدْ أَثَرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْدَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي عِنْدَكَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ ﷺ ثُمَّ ضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَقَالَ عَلِيُّ الْقَارِي رَحِمَهُ اللهُ الْبَارِيْ: وَالظَّاهِرُ2 أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُؤَلَّفَةِ، فَلِذَلِكَ فَعَلَ مَا فَعَلَهُ، ثُمَّ خَاطَبَهُ بِاسْمِهِ قَائِلًا عَلَى وَجْهِ الْعُنُفِ مُقَابِلًا لِبَحْرِ اللُّطْفِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7242
ان ہی سے روایت ہے فرمایا: میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
ساتھ پیدل جا رہا تھا آپ پر موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر تھی، ایک بدوی آپ کے پاس آ پہنچا
اور بڑی شدت سے آپ کی چادر پکڑ کر کھینچا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعرابی کے سینہ تک پہنچ(2) گئے
یہاں تک کہ میں نے سختی سے کھینچے جانے کی وجہ سے آپ کی گردن مبارک کے کنارے پر دیکھا چادر
نے نشان چھوڑا ہے، پھر اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے پاس جو اللہ کا مال ہے اس میں
سے کچھ میرے لئے بھی حکم دیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف چشم التفات فرمائی
مسکرادیا، پھر اس کو عطا کرنے کا حکم فرمایا۔ (بخاری، مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3149 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1057a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) His statement: “turned toward the Bedouin’s chest”: or toward his chest, due to the force of his pull. At-Tibi said: He faced his chest completely, which aligns with the statement: “When he turned, he turned fully.” This indicates he was unaffected and unperturbed by his bad manners. His statement: “from the wealth of Allah, etc.”: meaning not from your effort in giving. It is said this refers to zakat wealth, as some was given to those whose hearts were to be won over. His statement: “ordered a gift for him”: This shows the desirability of a leader enduring harm from his people and giving wealth to preserve men’s honor. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “It appears that he was among those whose hearts were to be won over”: meaning among the disbelievers. Thus, in a narration, he said: “Not from your wealth or your father’s wealth,” otherwise, it would be apostasy to insult the Messenger of Allah (ﷺ). (As stated in Al-Lama’at)
Note 1
(۱) قوله : ورجع نبي الله الله في نحر الأعرابي أو في صدره ومقابله من شدة جذبه. قال الطيبي : أي استقبل نحره استقبالا تاما، وهو معنى قوله : وإذا التفت التفت معا. وهذا يدل على أنه لم يتغير ولم يتأثر من سوء أدبه. وقوله: «من مال الله إلخ» أي من غير صنيع لك في إعطائك. قيل: المراد به مال الزكاة؛ فإنه كان يصرف بعضه إلى المؤلفة. وقوله: ثم أمر له بعطاء وفيه استحباب احتمال الوالي من أذى قومه. وفيه دفع المال حفظا على عرض الرجال. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله والظاهر أنه كان من المؤلفة قلت: أي من الكفار؛ لذلك قال في رواية: لا من مالك ولا من مال أبيك وإلا ارتد بإهانة رسول الله .
Note 1
ملا علی قاری رحمہ اللہ الباری نے فرمایا: ظاہر ہے کہ (3) یہ شخص ان لوگوں میں سے تھا جن کے ساتھ تالیف قلوب کا معاملہ کیا جاتا ہے، اسی لئے اس نے وہ حرکت کی جو اس نے کی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر سخت کلامی کرتے ہوئے آپ کے بحر کرم کی طرف متوجہ اور مخاطب ہوا۔
Note 2
(2) قوله: و رجع نبى الله صلى الله عليه وسلم فى نحر الاعرابى (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعرابی کے سینہ تک پہنچ گئے) شدت سے اس قدر شدت سے آپ کو کھینچا گیا آپ اس کے سینہ کے پاس یا اس کے مقابل ہوگئے، امام طیبی نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف مکمل پلٹ گئے اور یہ معنی اس حدیث شریف کے مفہوم کے مطابق ہے کہ جب آپ پلٹتے تو پورے طور پر پلٹتے، اس معنی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس کی بے ادبی کی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نہ متغیر ہوئے نہ آپ متاثر ہوئے۔ قوله من مال الله الذى (آپ کے پاس جو اللہ کا مال ہے) یعنی آپ کے عمل کے بغیر رب نے جو آپ کو عطا کیا ہے، ایک قول کے مطابق اس سے زکوٰۃ کا مال مراد ہے کیونکہ اس میں سے کچھ مال تالیف قلوب کے لئے صرف کیا جاتا۔ قوله ثم امر له بعطاء (پھر اس کو عطا کرنے کا حکم فرمایا) اس سے معلوم ہوتا ہے قوم کی طرف سے والی قوم کو دی گئی تکلیف برداشت کرنا مستحب ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عزت کی حفاظت و صیانت کے لئے مال دینا درست ہے۔ (3) قولہ: و الظاهر انه كان من المؤلفة (ظاہر ہے کہ یہ شخص ان لوگوں میں سے تھا جن کے ساتھ تالیف قلوب کا معاملہ کیا جاتا ہے) میں کہتا ہوں کہ وہ کفار سے تھا کیونکہ ایک روایت میں اس کے یہ کلمات مذکور ہیں: نہ آپ کا مال ہے، نہ آپ کے والد گرامی کا، اگر وہ مومن تھا تو توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے اسی وقت مرتد و بے دین ہو گیا۔