English
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: Al-Harith ibn Hisham (may Allah be pleased with him) asked the Messenger of Allah (ﷺ): “O Messenger of Allah, how does revelation come to you?” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Sometimes 1 it comes to me like the ringing of a bell, which is the hardest on me, then it ceases, and I retain what it said. Sometimes the angel appears to me as a man and speaks to me, and I understand what he says.” Aisha said: “I saw revelation descend upon him on a very cold day, and when it ceased, his forehead was dripping with sweat.”
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2333a (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “Sometimes it comes to me like the ringing of a bell, etc.”: At-Turubishti said: This Hadith is misused by the misguided to mislead the masses and cast doubt, but it is a clear truth and a radiant light from a blessed tree, almost glowing without being touched by fire. Only those blinded in heart err in it. The essence is that the Prophet (ﷺ) was appointed to convey, entrusted with the Book, unveiled hidden knowledge, and privileged with intimate communion. He shared with the community according to their capacity. When asked about revelation, a profound and unfamiliar matter, he used examples from the tangible world to explain the unseen. As the Companion asked about the nature of revelation, a complex issue, he likened it to a rapid sound heard but not understood, indicating that its messages reach the heart in majesty and grandeur. The awe of the address seizes the heart, and he feels the weight of the words without grasping them fully. When it subsides, he finds the revealed words settled in his soul, as if heard. This is the meaning of “it ceases, and I retain.” “Ceases” means the distress of revelation lifts, likened to fever leaving the sick or rain stopping. This type of revelation resembles what is revealed to angels, as narrated by Abu Huraira from the Prophet (ﷺ): “When Allah decrees a matter in the heavens, the angels beat their wings in submission to His command, like a chain on a rock. When fear is lifted from their hearts, they say, ‘What did your Lord say?’ They say, ‘The truth, and He is the Most High, the Great’ [Saba: 23].” This Hadith from Aisha states that revelation came in two forms, the first harder, as it transitioned him from human nature to angelic states, like revelation to angels, as in Abu Huraira’s Hadith, which is sound. The other form, where the angel appears as a man, was easier. At-Tibi said: It is possible there was a real sound containing meanings, overwhelming the soul due to its unfamiliarity, but the heart, suited to it, absorbs its meaning. When the sound subsides, the soul awakens, receiving from the heart what was conveyed, retaining it. The nature of this is a secret beyond human comprehension. In Nawawi’s commentary on Muslim: Qadi Iyad said: Such matters are taken at face value. Their nature and form are known only to Allah and those He informs among His angels and messengers. Only those weak in insight and faith reinterpret or reject their apparent meaning, as they are supported by Sharia and reason does not negate them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : أحيانا يأتيني مثل صلصلة الجرس إلخ : قال التوربشتي: هذا حديث يغالط فيه أبناء الضلالة ويتخذونه ذريعة إلى تضليل العامة وتشكيكهم، وهو حق أبلج، ونور يتوقد من شجرة مباركة، يكاد زيتها يضيء، ولو لم تمسسه نار، لا يغلط فيه إلا من أعمى الله عيني قلبه، وجملة القول في هذا الباب أن نقول كان النبي ﷺ معينا بالبلاغ، مهيمنا على الكتاب مكاشفا بالعلوم الغيبية، مخصوصا بالمسامرات القلبية، وكان يتوفر على الأمة حصتهم بقدر الاستعداد، فإن أراد أن ينبئهم بما لا عهد لهم به من تلك العلوم صاغ لها أمثلة من عالم الشهادات ليعرفوا مما شاهدوه ما لم يشاهدوه، فلما سأل الصحابي عن كيفية الوحي، وكان ذلك من المسائل الغويصة والعلوم الغريبة التي لا يكشف نقاب التعري عن وجهها لكل طالب ومتطلب وعالم ومتعلم ضرب لها في الشاهد مثلا بالصوت المتدارك الذي يسمع ولا يفهم منه شيء، تنبيها على أن أنباءها يرد على القلب، في لبسة الجلال وأبهة الكبرياء، فتأخذ هيبة الخطاب حين ورودها بمجامع القلب، ويلاقي في ثقل القول ما لا علم له بالقول مع وجود ذلك، فإذا سري عنه وجد القول المنزل هنا ملقى في الروع، واقعا موقع المسموع. وهذا معنى قوله: فيفصم عني وقد وعيت، ومعنى يفصم يقلع عني كرب الوحي شبهه بالحمى إذا فصمت عن المحموم، ويقال: أفصم المطر، أي أقلع. وهذا الضرب من الوحي شبيه بما يوحى إلى الملائكة على ما رواه أبو هريرة عن النبي ، قال: إذا قضى الله في السماء أمرا ضربت الملائكة بأجنحتها خضعانا لقوله، كأنها سلسلة على صفوان، فـ إذا فزع عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ ﴾ (سبا: (۲۳) هذا وقد سبق لنا من حديث عائشة أن الوحي كان يأتيه على صفتين، أولهما أشد من الأخرى، وذلك لأنه كان يرد فيها من الطباع البشرية إلى الأوضاع الملكية، فيوحى إليه كما يوحى إلى الملائكة على ما ذكر في حديث أبي هريرة، وهو حديث حسن صحيح، والأخرى يرد فيها الملك إلى شكل البشر وشاكلته، فكانت هذه أيسر. وقال الطيبي : لا يبعد أن يكون هناك صوت على الحقيقة متضمن للمعاني مدهش للنفس لعدم مناسبتها إياه، ولكن القلب للمناسبة يشرب معناه، فإذا سكن الصوت أفاق النفس، فحينئذ يتلقى النفس من القلب ما ألقي إليه، فيعيي على أن العلم بكيفية ذلك من الأسرار التي لا يدركها العقل. في شرح مسلم. قال القاضي عياض: إن ما جاء مثل ذلك مجرى على ظاهره وكيفية ذلك وصورته مما لا يعلمه إلا الله سبحانه ومن اطلعه الله على شيء من ذلك من ملائكته ورسله ما يتأول هذا ويحيله عن ظاهره إلا ضعيف النظر والإيمان؛ إذ جاءت به الشريعة ودلائل العقول لا تحيله. كذا في المرقاة».
Note 1
(26) قوله: أحياناً يأتيني مثل صلصلة الجرس الخ. (بعض اوقات وہ میرے پاس گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے) علامہ تورپشتی نے فرمایا: گمراہ لوگ اس حدیث شریف سے غلط مضمون لیتے ہیں اور عام لوگوں کو گمراہ کرنے اور انہیں شک میں مبتلا کرنے کے لئے اس حدیث کو ذریعہ بنا لیتے ہیں حالانکہ یہ ایک روشن حق ہے اور ایک ایسا نور ہے جو مبارک درخت سے روشن ہے جس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے اگرچہ آگ اُسے مس نہ کرے، اس میں وہی شخص غلطی کرتا ہے جس کے دل کی آنکھوں کو اللہ تعالیٰ اندھا کردے۔ ہم اس بات میں خلاصہ کلام کے طور پر کہیں گے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ پر معین اور اللہ کی کتاب کی حفاظت کرنے والے اور امور غیبیہ بتانے والے اور قلبی مناجات کے لئے مخصوص تھے اور امت کو اس کی حسب استعداد اس کا حصہ سرفراز کرتے تھے اور ان امور میں سے کوئی بات بتلانا چاہتے جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں تو اس کے لئے عالم شہادت کی مثالیں بیان فرماتے کہ وہ اپنے مشاہدہ کے امور کے ذریعہ ان امور کو سمجھ سکیں جن کا انہوں نے مشاہدہ نہیں کیا۔ صحابی رضی اللہ عنہ نے جب وحی کی کیفیت سے متعلق دریافت کیا اور یہ اُن گہرے مسائل اور نادر علوم سے ہے جس کے چہرے سے ہر طالب علم اور علم چاہنے والے کے لئے ہر عالم اور سیکھنے والے کیلئے نقاب ہٹایا نہیں جاسکتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے عالم شہادت میں ایسی مسلسل آواز سے تشبیہ دی جس کو سنا جاسکتا ہے مگر اس سے کچھ سمجھا نہیں جاسکتا، اس بات پر متنبہ کرنے کے لئے اس کی خبر جلال و کبریائی کے لباس قلب پر اترتی ہیں اور جس وقت وہ قلب پر اترتی ہیں تو خطاب کی ہیبت دل کے سارے مقامات کو گرفت میں لے لیتی ہے اور اس قول کے ثقل وزن سے ایک کیفیت لاحق ہوجاتی ہے کہ اس قول کے موجود ہونے کے باوجود اُسے (حاشیہ پچھلے صفحے سے) گفتگو کا جامہ نہیں پہنایا جا سکتا اور جب وہ کیفیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو جاتی ہے تو وہ نازل شدہ قول دل میں موجود اور قابل سماعت کلام کے درجہ میں پایا جاتا ہے اور آپ کا ارشاد فيفصم وقد وعيت کا یہی مفہوم ہے، یفصم کے معنی وحی کی شدت کا ختم ہونا ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تشبیہ دی ہے بخار زدہ شخص کی حالت سے جب اس کا بخار ختم ہو جاتا ہے۔ اور افصم المطر بھی کہا جاتا ہے جب بارش ختم ہو جاتی ہے اور وحی کی یہ قسم فرشتوں پر آنے والی وحی کے مشابہ ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آسمان میں جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کی اطاعت کرنے کے لئے اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے ہیں گویا چٹان پر زنجیر کھینچی گئی اور جب ان کے قلوب سے وہ کیفیت دور ہو جاتی ہے تو کہتے ہیں تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا: تو کہتے ہیں حق ہے اور وہی بلند و بالا ہے اس بات کو یاد رکھو۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو طریقہ سے وحی آتی تھی، اور پہلا طریقہ دوسرے سے سخت ہوتا تھا وہ اس لئے کہ اس طریقہ میں بشری طبیعت سے ملکوتی کیفیت کی طرف لوٹنا ہوتا تھا اور اس حالت میں فرشتوں پر وحی نازل ہونے کی طرح نزول وحی ہوا کرتا تھا، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے اور یہ حدیث حسن اور صحیح ہے اور دوسرے طریقہ میں فرشتہ بشری شکل میں آتا تھا اور یہ طریقہ آسان ہوتا تھا، علامہ طیبی نے فرمایا یہ بات بعید نہیں کہ وہ حقیقت میں ایسی آواز ہو جو معانی کو شامل ہو اور نفس کو اس سے مناسبت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لئے دہشت ناک ہو، لیکن دل کو اس سے مناسبت کی وجہ اس میں اس کا معنی پیدا کیا جائے اور جما دیا جائے اور جب وہ آواز ختم ہو جائے تو نفس ہوش میں آ جائے پھر نفس دل سے وہ معنی جو دل میں ڈالے گئے ہیں حاصل کر لے اور اس کو یاد کر لے اور سمجھ لے باوجودیکہ اس کیفیت کا علم ان اسرار میں سے ہے جس کو عقل ادراک نہیں کر سکتی۔ اور شرح مسلم میں ہے قاضی عیاض نے فرمایا اس جیسے جو امور آئے ہیں انہیں اپنے ظاہر پر رکھا جاتا ہے اور اس کی کیفیت اور اس کی صورت ان امور میں سے ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا اور پھر وہ فرشتے یا رسول جان سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان امور سے کسی چیز پر واقف کیا ہو۔ اور کفر و نظر و فکر اور کفر و ایمان والا ہی اس کی تاویل کرتا ہے اور اسے اس کے ظاہر سے ہٹاتا ہے کیونکہ اس کو شریعت نے بیان کیا اور عقلی دلائل اسے اپنے معنی سے نہیں ہٹا سکتے۔ (مرقات)۔ (27) قوله: قالت عائشة. (حضرت عائشہ نے فرمایا) علامہ کرمانی نے فرمایا ہے: ہوسکتا ہے کہ یہ روایت سابق سند میں داخل ہو خصوصاً اس وقت جب کہ عطف میں حرف عطف کو حذف کرنا جائز ہو۔ اور اگر وہ اس سابق سند میں داخل نہ ہو تو اس کے لئے دوسری نئی سند ہوگی امام بخاری نے اس کو شدت کے معاملہ کی تائید و تاکید کے لئے بطور تعلیق ذکر کیا ہوگا اور علامہ عسقلانی نے فرمایا: یہ حدیث اس سے پہلے والی سند کے ساتھ ہے اگرچہ کہ حرف عطف کے بغیر ہے۔ (مرقات)۔