English
It is reported from ‘Ali that he saw no harm in performing ablution with nabidh (fermented drink) made from fruits. This opinion was also held by Al-Hasan and Al-Awza‘i. ‘Ikrimah said: "Nabidh is the ablution of one who does not find water." This was mentioned in ‘Umdat al-Qari’.
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٢ - وَعَنْ عَلِيَّ : أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالْوُضُوْءِ بِنَبِيْدِ الثَّمَرِ، وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ وَالْأَوْزَاعِيُّ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ : النَّبِيْذُ وَضُوْءُ مَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ، قَالَهُ فِي عُمْدَةِ الْقَارِي».
اردو
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نبیذ (خرما) سے وضوء کرنے میں کوئی
مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، ایسا ہی حسن بصری رضی اللہ عنہ اور امام اوزاعی نے بھی کہا ہے۔
اور عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ جس کو پانی نہ ملے اس کے لئے نبیذ وضوء کے
لئے کافی ہے۔ (یہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔)