Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5623

Chapter on the Signs of Prophethood

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Signs of Prophethood

Zujajat al-Masabih 5623Volume 5

English

Ibn Mas‘ud (may Allah be pleased with him) narrated that the moon split into two parts during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), one part above the mountain and the other below it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Bear witness.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٦٢٣ - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) قَالَ: انْشَقَّ1 الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِرْقَتَيْنِ، فِرْقَةً فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَةً دُونَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «اشْهَدُوا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7294
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑوں میں شق ہو گیا(5) ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور ایک ٹکڑا
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2800a (unverified) 94% confidence · Validation similarity: 0.641
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3636 (unverified) 91% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

the moon split,

(1) His statement: “the moon split,” as Al-Zujaj said, some people deviated from the truth and scholarly consensus by claiming its interpretation refers to the moon splitting on the Day of Judgment. The matter is clear in the wording of the verse: “And if they see a sign, they turn away and say, ‘Persistent magic’” (Al-Qamar: 2). How could this refer to the Day of Judgment? Their statement: “persistent magic,” meaning continuous, indicates they had seen other successive signs and miracles before. Imam Fakhr al-Din al-Razi said: The deniers claimed this because the splitting was a tremendous event, and if it had occurred, it would have been widely known and reached the level of tawatur (mass transmission). The response is that the believers transmitted it, and it reached tawatur. As for the opponents, they may have been heedless or mistook it for an eclipse. The Qur’an is the foremost evidence and strongest witness, and its possibility is unquestionable rationally. The truthful one reported it, so its occurrence must be believed. The claim of impossibility regarding splitting and rejoining is the talk of the ignorant. In Nawawi’s commentary on Sahih Muslim, it is said that this splitting occurred at night when most people were asleep, unaware, with doors closed and covered in their garments. Few contemplate or look at the sky. In Sharh al-Sunnah, it is mentioned that this was something specific people requested, as narrated by Anas, and it was shown to them at night when most were asleep or occupied in buildings, deserts, or plains. An eclipse may occur, and many do not notice it. This event may have lasted only a moment, perceivable by sight. If the sign had persisted for all to see and they still did not believe, they would have deserved destruction, as per Allah’s way with past nations: when a prophet brought a clear sensory sign and they disbelieved, they were destroyed, as stated in Al-Ma’idah: “Indeed, I will send it down to you, but whoever disbelieves afterward from among you—then I will punish him with a punishment I have not inflicted upon anyone among the worlds” (Al-Ma’idah: 115). Thus, Allah did not show this sign to the masses for this wisdom, and Allah knows best. The fact that one part was above the mountain and another below it indicates it was hidden from some behind the mountain, let alone the rest of the people of Hijaz or others, given the variation in horizons. Showing a miracle to specific people, as with Salih’s she-camel, does not necessitate its visibility to others. His statement: “Bear witness,” means to testify to my prophethood, (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: انشق القمر : قال الزجاج: زعم قوم عدلوا عن القصد وما عليه أهل العلم أن تأويله أن القمر ينشق يوم القيامة، والأمر بين في اللفظ بقوله تعالى: ﴿ وَإِن يَرَوْا ءَايَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌ ﴾ (القمر : ۲) فكيف يكون هذا يوم القيامة. وقوله: «سحر مستمر أي مطرد يدل على أنهم رأوا قبله آيات أخر مترادفة ومعجزات سابقة. وقال الإمام فخر الدين الرازي: إنما ذهب المنكر إلى ما ذهب؛ لأن الانشقاق أمر هائل، ولو وقع لعم وجه الأرض وبلغ مبلغ التواتر والجواب أن الموافق قد نقله وبلغ مبلغ التواتر، وأما المخالف فربما ذهل أو حسب نحو الخسوف والقرآن أولى دليل وأقوى شاهد وإمكانه لا شك فيه، أي عقلا، وقد أخبر عنه الصادق، فيجب اعتقاد وقوعه، وأما امتناع الخرق والالتئام فحديث اللئام وفي شرح مسلم للنووي، قالوا: إنما هذا الانشقاق حصل في الليل ومعظم الناس نيام غافلون، والأبواب مغلقة وهم متغطون بثيابهم، وقل من يتفكر في السماء وينظر إليها. وفي شرح السنة: هذا شيء طلبه قوم خاص على ما حكاه أنس، فأراهم ذلك ليلا، وأكثر الناس نيام ومستكنون بالأبنية في البراري والصحراء، وقد يتفق أن يكونوا مشاغيل في ذلك الوقت، وقد يكسف القمر، فلا يشعر به كثير من الناس، أي مع أنه قد يمتد وإنما كان ذلك قدرا للحظة التي هي مدرك البصر، ولو دامت هذه الآية حتى يشترك فيها العامة والخاصة، ثم لم يؤمنوا لاستوجبوا الهلاك، فإن من سنه الله تعالى في الأمم قبلنا أن نبيهم كان إذا أتى بآية عامة يدركها الحس فلم يؤمنوا أهلكوا، كما قال تعالى في المائدة: ﴿ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدَ مِنكُمْ فَإِنِّي أَعَذِّبُهُ عَذَابًا لَّا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ﴾ (المائدة: (۱۱۵) فلم يظهر الله هذه الآية للعامة لهذه الحكمة، والله أعلم. قلت: وفي نفس القضية إشارة إلى ذلك حيث شقة منه فوق الجبل وأخرى دونه ولا شك أنه يحجب عن بعض الناس ممن يسكن من وراء الجبل، فكيف بسائر أهل الحجاز، وبقية الناس مع اختلاف المطالع على أن إراءة المعجزة لقوم على ما اقترحوا كناقة صالح لا يستلزم ظهورها لغيرهم. وقوله: «اشهدوا» أي على نبوتي. كذا في «المرقاة».

Note 1

(5) قوله : انشق القمر . (چاند شق ہو گیا) امام نووی نے فرمایا کہ اہل علم کے مسلک سے اور راہ استدلال سے منحرف ایک جماعت نے گمان کیا ہے کہ چاند کا شق ہونا قیامت کے دن ہوگا حالانکہ یہ ایک واضح عمل ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ“۔ (54-سورۃ القمر، آیت نمبر:2) اگر وہ نشانی دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک چلے آنے والا جادو ہے۔ تو یہ قیامت کے دن ہوگا کہنا کیسے درست ہے۔ اور اس کو مستمر جادو کہنا یہ بھی اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے اس جیسی دوسری نشانیاں اور سابق میں معجزات دیکھے ہیں۔ اور امام فخر الدین رازی نے فرمایا اس کے منکرین اس لئے انکار کرتے ہیں کہ چاند کا شق ہونا ایک عظیم معاملہ ہے اگر یہ واقع ہوتا تو یقیناً تمام دنیا میں پھیل جاتا اور حد تواتر تک پہنچ جاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے موافقین اس کو اس قدر نقل کئے ہیں کہ حد تواتر کو پہنچ گیا اور مخالفین نے اس کو نظر انداز کیا یا اس کو چاند گہن کی طرح سمجھا، اور قرآن مجید سب سے بڑی دلیل اور قوی گواہ ہے اور چاند کا شق ہونا عقلاً ممکن ہے، اور رسول صادق صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کی خبر دی ہے تو اس کے وقوع پذیر ہونے کا اعتقاد رکھنا واجب ہے۔ اور اب رہا شق ہونے اور اس کے پھر مل جانے کا انکار کرنا تو یہ کم ظرفوں کی بات ہے۔ (امام نووی کی شرح) صحیح مسلم میں ہے علماء نے کہا چاند کا یہ شق ہونا رات میں ہوا اور اکثر لوگ سو رہے تھے اور غفلت میں تھے اور دروازے بند تھے اور کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے اور کم لوگ تھے جو آسمان میں غور کرتے اور آسمان کو دیکھ رہے تھے، اور کتاب شرح السنہ میں ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان کے مطابق ایک خاص جماعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا مطالبہ کی تھی تو آپ نے رات میں ان کو یہ معجزہ دکھایا جبکہ اکثر انسان سو رہے تھے اور جنگل و صحراء میں رہنے والے بھی اپنے مکانات میں تھے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اس وقت مصروف رہے ہوں اور کبھی چاند گہن ہوتا اور بہت دیر تک بھی رہتا ہے مگر بہت سے انسانوں کو اس کا علم تک نہیں ہوتا، اور یہ چاند کا شق ہونا آنکھ کی نظر کے محض ایک لمحہ کے لئے تھا، اور اگر یہ طویل وقت کے لئے ہوتا یہاں تک کہ خاص و عام سب اس کو دیکھ لیتے پھر ایمان نہ لاتے تو وہ سب ہلاکت کے مستحق ہو جاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے سابقہ امتوں میں ان کے نبی جب ان کو ایک ایسا عام معجزہ دکھاتے جس کو وہ سب دیکھتے اور ایمان نہ لاتے تو ہلاک کر دیئے جاتے تھے، جیسا کہ سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ، فَمَنْ يَكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَّا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ“۔ (5-سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:115) ”اس (مائدہ کے معجزہ) کو تم پر اتاروں گا اس کے بعد تم میں سے جو کوئی کفر کرے گا تو اس کو ایسا عذاب اس کے پیچھے ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم گواہ رہو!۔(متفق علیہ)۔