Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5628

Chapter on the Signs of Prophethood

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Signs of Prophethood

Zujajat al-Masabih 5628Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7299
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت پیش کی اور آپ کعبۃ اللہ کے سایہ میں چادر(10) کو تکیہ بنائے ہوئے تھے اور ہم کو مشرکین سے سختیاں پہنچی تھیں، اور ہم عرض کئے: کیا آپ اللہ سے دعا نہیں فرمائیں گے؟ تو آپ بیٹھ گئے اور آپ کا چہرۂ انور سرخ ہو گیا، آپ نے فرمایا: تم سے پہلے والوں میں سے کسی بھی شخص کے لئے زمین میں گڑھا کھودا جاتا اور اس کو اس میں اتارا جاتا اور آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھا جاتا اور اسکو دو حصوں میں چیر دیا جاتا اور اسکو یہ چیز اس کے دین سے نہیں ہٹاتی تھی اور اس کے گوشت کے اندر(11) ہڈی اور پٹھوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تو بھی یہ چیز اسکو اس کے دین سے نہیں ہٹاتی تھیں اور اللہ کی قسم یہ معاملہ پورا ہو کر رہے گا یہاں تک کہ شہر صنعاء سے حضرموت تک ایک سوار جائیگا اس کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا اور اپنی بکریوں پر بھیڑیے کا بھی خوف نہیں ہوگا اور لیکن تم جلدی چاہتے ہو۔ (بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3612 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

resting on his cloak,

(1) His statement: “resting on his cloak,” meaning a striped garment used as a pillow under his head.

Note 2

beneath his flesh,

2) His statement: “beneath his flesh,” meaning what is under the flesh of that man, namely bones or nerves. “From” explains “what.” It emphasizes that the combs’ sharpness and strength penetrated the flesh to the bones and nerves attached to them. His statement: “to Hadramaut,” a place at the farthest end of Yemen, with an open mim, an uninflected proper noun. It is said that Salih or Jirjis resided or departed from this world there, as mentioned by the commentator and Ibn al-Malik. In Al-Qamus, Hadramaut, with a damma on the mim, is a place and a tribe. His statement: “fearing only Allah or a wolf,” in some versions uses “and,” which could mean “or,” conjunction, or uncertainty. In any case, it emphasizes the establishment of safety and removal of fear. This refutes the claim that the hadith refers only to safety from human aggression, as in the pre-Islamic era, and not from wolves, which would occur at the end of times with Eesa (Jesus)’ descent. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: متوسد بردة أي كساء مخططا، والمعنى جاعل البردة وسادة له من توسد الشيء جعله تحت رأسه. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: ما دون لحمه أي ما تحت لحم ذلك الرجل من عظم أو عصب «من» بيان لـ«ما». وفيه مبالغة بأن الأمشاط لحدتها وقوتها كانت تنفذ من اللحم إلى العظم وما يلتصفق به من العصب. وقوله: إلى حضرموت موضع بأقصى اليمن، وهو بفتح الميم غير منصرف للتركيب والعلمية حضر فيه صالح عليه ، فمات فيه أو حضر فيه جرجيس، فمات فيه ذكره شارح وتبعه ابن الملك. وفي القاموس»: حضرموت بضم الميم بلد وقبيلة. وقوله: «لا يخاف إلا الله أو الذئب إلخ. وفي نسخة بالواو، وهو يحتمل أن يكون بمعنى أو، أو يكون بمعنى الواو للجمع، أو للشك، وعلى كل تقدير لا يخفى ما فيه من المبالغة في حصول الأمن وزوال الخوف، فاندفع ما قيل من أن سياق الحديث إنما هو الأمن من عدوان بعض الناس على بعض، كما كان في الجاهلية لا من عدوان الذئب، فإن ذلك إنما يكون في آخر الزمان عند نزول عيسى عليه السلام. التقطته من «المرقاة».

Note 1

(10) قوله : متوسد بردة (آپ چادر کو تکیہ بنائے ہوئے تھے) دھاری دار کمبل مطلب یہ ہے کہ آپ کمبل کو اپنا تکیہ بنائے تھے، وسادة کا لفظ توسد الشيء سے ماخوذ ہے (اس نے اپنے سر کے نیچے اسکو تکیہ بنا لیا)(مرقات)۔ (11) قوله : ما دون لحمه (اس کے گوشت کے اندر) یعنی اس شخص کے گوشت کے نیچے جو ہڈی اور رگ پٹھے ہیں اور لفظ من بیانیہ ہے یہ لفظ ”ما“ کا بیان ہے اور اس میں مبالغہ ہے کہ وہ لوہے کی کنگھیاں اسقدر مضبوط اور تیز ہوتی تھیں کہ گوشت کے نیچے ہڈی اور اس سے متصل رگ پٹھوں تک اتر جاتی تھیں۔ وقوله: الى حضر موت (حضر موت) ”حضرموت“ میں میم کو زبر ہے اور یمن کے آخری حصہ میں ایک مقام ہے اور یہ ترکیب اور علمیت دو سبب ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے، ایک شارح نے ذکر کیا ہے کہ اس مقام میں حضرت صالح علیہ السلام تشریف لائے تھے اور وہیں انتقال فرمایا ہے، یا حضرت جرجیس آئے اور ان کا وہیں انتقال ہو گیا اور علامہ ابن ملک نے بھی یہی بات بیان کی ہے، اور قاموس میں ہے حضر موت میم کو پیش ہے اور وہ ایک شہر اور ایک قبیلہ ہے۔ وقوله : لا يخاف الا الله أو الذئب الخ. (اس کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا اور نہ بھیڑیئے کا......) ایک دوسرے نسخہ میں واو کے ساتھ (و للذئب) ہے اور اس میں ”واو“ لفظ ”او“ کے معنی میں ہونے کا احتمال ہے، یا ”او“ لفظ ”و“ کے معنی میں جمع کیلئے ہو یا شک کا ہو، بہرحال اس میں امن قائم ہونے اور خوف کے جاتے رہنے میں مبالغہ مقصود ہے (یعنی یہ ہو کر رہے گا) اس سے یہ اعتراض ختم ہو جاتا ہے کہ یہ حدیث شریف زمانہ جاہلیت کی طرح ایک انسان کا دوسرے انسان پر ظلم سے حصول امن کے بیان کے لئے ہے، بھیڑیئے کے ظلم و زیادتی کے بیان کے لئے نہیں ہے کیونکہ یہ آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ہوگا۔ (ماخوذ از مرقات)۔