Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5638

Chapter on Miracles

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on Miracles

Zujajat al-Masabih 5638Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7310
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، آپ نے فرمایا: قریش نے ایک رات مکہ مکرمہ میں مشورہ کیا(1) تو ان میں سے بعض نے کہا وہ جب صبح کریں تو ان کو بیڑیوں میں جکڑ دو(2)، ان کی مراد اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ان کو قتل کر دو۔ اور بعض نے کہا بلکہ ان کو نکال دو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع کر دیا اور حضرت علی اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر لیٹے ہوئے گزارے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے یہاں تک کہ غار میں پہنچ گئے۔ اور مشرکین حضرت علی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہوئے پہرہ دیتے رہے اور جب صبح کئے تو ان پر ٹوٹ پڑے اور جب وہ حضرت علی کو دیکھے جبکہ اللہ نے ان کے مکر کو پھیر دیا تو بولے آپ کے صاحب کہاں ہیں تو آپ نے فرمایا میں واقف نہیں ہوں تو وہ آپ کے نشانات قدم پر تلاش کرتے ہوئے چلتے گئے اور جب پہاڑ تک پہنچ گئے تو نشانات قدم ان پر مشتبہ ہوگئے پس پہاڑ پر چڑھ گئے اور غار کے پاس سے گزرے اور اس کے دروازے پر مکڑی کا جالا دیکھتے ہوئے بولے اگر وہ اس میں داخل ہوئے ہوتے تو اس کے دروازے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا اور آپ اس میں تین رات رہے۔ (احمد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Musnad Ahmad 3251 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5951 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 5951

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

I am from Najd. I heard of your gathering, so I came to advise you.

(1) His statement: Quraysh consulted: Allah, the Exalted, informed about this in His saying: And [remember] when those who disbelieved plotted against you to restrain you or kill you or expel you (Al-Anfal: 30). When they heard of the Ansar’s acceptance of Islam and their support, they feared and gathered in Dar al-Nadwah to consult about his matter. Iblis entered upon them in the form of an old man and said, “I am from Najd. I heard of your gathering, so I came to advise you.” Abu al-Bakhtari said, “My opinion is to imprison him in a house.” The old man said, “A bad opinion; his people will come and free him.” Hisham ibn Amr said, “Expel him from your land.” He said, “A bad opinion.” Abu Jahl said, “I suggest you take a young man from each tribe to kill him together, so his blood is spread among the tribes, and Banu Hashim cannot wage war against Quraysh.” They agreed to compensate for it, and he said, “This youth has spoken the truth,” so they dispersed on his opinion. (As stated in Al-Mirqat) (2) His statement: bind him: With a fatha on the hamza and kasra on the ba’, meaning tie him. His statement: with chains: With a fatha on the first letter, meaning what is used to bind. His statement: referring to the Prophet (ﷺ): Meaning they intended him with the hidden and apparent pronouns; it is most likely that binding him meant imprisoning him. His statement: Allah informed His Prophet of this: Meaning Jibril came and informed him of the news and ordered him to migrate. His statement: left: Meaning with Abu Bakr to the cave. His statement: they rushed: With a tha’ and alif, meaning they leapt. His statement: toward him: Meaning toward the one on the bed, thinking it was the Prophet (ﷺ). His statement: they followed: With tashdid on the sad, meaning they tracked. His statement: his tracks: Meaning the traces of his footsteps. His statement: when they reached the mountain: Meaning Mount Thawr. His statement: became unclear to them: Meaning the tracks became confused. His statement: they passed by the cave: Meaning the cave above that mountain, and they thought he was in it. His statement: If he had entered, etc.: It is said that when he entered the cave, Allah sent two pigeons to lay eggs at its base, and a spider wove over it. It is narrated that the polytheists climbed above the cave such that if they looked at their feet, they would have seen them. Abu Bakr feared for the Messenger of Allah (ﷺ), so he said, “What do you think of two, with Allah as their third?” Allah blinded them to the cave, so they circled around it but did not see them. His statement: he stayed: With damma or fatha on the kaf, meaning he remained. His statement: in it for three nights: Meaning then he proceeded to Madinah. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: تشاورت قريش: وقد أخبر الله سبحانه عنه بقوله: ﴿ وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ﴾ (الأنفال: (۳۰)، وذلك أنهم لما سمعوا بإسلام الأنصار ومتابعتهم خافوا واجتمعوا في دار الندوة متشاورين في أمره، فدخل عليهم إبليس في صورة شيخ، قال: أنا من نجد، سمعت اجتماعكم فحضرتكم لأنصحكم في رأيكم. قال أبو البختري رأيي أن تحبسوه في بيت، فقال الشيخ: بئس الرأي، يأتيكم قومه ويخلصه منكم. وقال هشام بن عمرو أن تخرجوه من أرضكم، فقال: بئس الرأي. وقال أبو جهل: أنا أرى أن تأخذوا من كل بطن غلاما، فيقتلوه دفعة واحدة، فيتفرق دمه في القبائل، فلا يقوي بنو هاشم على حرب قريش، فعقلناه، فقال: صدق هذا الفتى فتفرقوا على رأيه. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله فأثبتوه بفتح همز وكسر موحدة، فاربطوه. وقوله

(۲) قوله فأثبتوه بفتح همز وكسر موحدة، فاربطوه. وقوله: بالوثاق بفتح أوله، وهو ما يشد به. وقوله: «يريدون النبي ﷺ أي يعنونه بالضميرين المستتر والبارز، والأظهر أن المراد بإثباته به حبسه. وقوله: «فاطلع الله نبيه على ذلك أي بأن جاءه جبريل وأخبره بالخبر وأمره بالهجرة. وقوله: خرج أي مع أبي بكر الله إلى الغار. وقوله: ثاروا بمثلثة بعدها ألف، أي وثبوا. وقوله: «عليه» أي على من على المرقد ظنا أنه النبي عليه. وقوله: «فاقتصوا» بتشديد الصاد المهملة، أي تتبعوا. وقوله: «أثره أي آثار قدمه. وقوله: «فلما بلغوا الجبل» أي جبل ثور. وقوله: اختلط عليهم أي اشتبه أمر الأثر. وقوله: «فمروا بالغار أي بالكهف الذي فوق ذلك الجبل، فظنوا أنه فيه وقوله: «لو دخل إلخ) وقيل : لما دخل الغار بعث الله حمامتين فباضتا في أسفله، والعنكبوت فنسجت عليه، وروي أن المشركين طلعوا فوق الغار بحيث لو نظروا إلى أقدامهم لرأوهما، فأشفق أبو بكر له على رسول الله ﷺ، فقال علي: ما ظنك باثنين الله ثالثهما فأعماهم عن الغار، فجعلوا يترددون حوله، فلم يروه. وقوله: «فمكث بضم الكاف وفتحه، أي لبث. وقوله: «فيه ثلاث ليال أي ثم توجه إلى المدينة. التقطته من «المرقاة».

Note 1

(1) قوله: تشاورت قريش (قریش نے مشورہ کیا)، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ وحی نازل فرمائی: ”وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ“۔ (8۔ سورۃ الانفال، آیت نمبر:30) اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باخبر کر دیا۔ اور وہ اس لئے کہ قریش نے جب انصار کے اسلام لانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے کی خبر سنا تو خوف زدہ ہو گئے اور آپ کے معاملہ میں مشورہ کرنے کے لئے دار الندوہ میں جمع ہوئے اور شیطان بھی ایک بزرگ کی شکل میں داخل ہوا اور کہا: میں نجد سے آیا ہوں اور تمہارے اجتماع کے بارے میں سنا تو تمہارے پاس آ گیا تا کہ تمہارے مشورہ کے بارے میں خیر خواہی کروں، مشورہ شروع ہوا تو ابو البختری نے مشورہ دیا میری رائے یہ ہے کہ تم ان کو کسی کمرے میں قید کر دو۔ تو شیخ نجدی نے کہا: یہ کیا ہی بری رائے ہے، کیونکہ ان کی قوم تمہارے پاس آئے گی اور تم سے ان کو چھڑا کر لے جائے گی۔ اور ہشام بن عمرو نے کہا تم انہیں اپنی سر زمین سے نکال دو اس نے کہا یہ بھی کیا ہی بری رائے ہے اور ابو جہل نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ہر خاندان میں سے تم ایک طاقتور نوجوان کا انتخاب کرو اور وہ سب مل کر ان کو ایک ہی دفعہ میں شہید کر دیں پھر یہ خون مختلف قبائل میں تقسیم ہو جائے گا تو بنی ہاشم کو پورے قریش سے جنگ کرنے کی قوت نہیں رہے گی اور ہم سب مل کر ان کی دیت دیدیں گے تو اس نے کہا اس نوجوان نے ٹھیک بات کہی ہے اور اسی رائے پر متفق ہو کر سب چلے گئے۔ (مرقات)۔ (2) قوله: فَأَثْبِتُوهُ. ہمزہ کو زبر (فتحہ) اور باء کو زیر (کسرہ) ہے یعنی ان کو باندھ دو جکڑ دو۔ قوله: والوَثاق. واو پر زبر (فتحہ) ہے، ایسی چیز جس سے باندھا جاتا ہے۔ قوله: يريدون النبي صلى الله عليه وسلم. اذا اصبح اور اثبتوه میں دونوں ضمیریں منتشر اور بارز سے ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور اثبتوه میں اثبات سے ان کی مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرنا ہے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وقوله: فاطلع الله نبيه صلى الله عليه وسلم ذلك. یعنی جبریل امین آئے اور آپ کو اس کی خبر دیئے اور ہجرت کا حکم لائے۔ وقوله: خرج: یعنی آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غار کی طرف تشریف لے گئے۔ قوله: ثاروا: میں ث کے بعد الف ہے اس کے معنی ہیں وثبوا آپ پر ٹوٹ پڑے۔ وقوله: عليه اي على رضى الله عنه من على المرقد ظنا انه النبي صلى الله عليه وسلم. یعنی ان پر جو بستر پر تھے اس خیال میں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ وقوله: فمروا بالغار اي بالكهف الذى فوق ذلك الجبل فظنوا انه فيه. اور اس غار کے پاس سے گزرے جو پہاڑ کے اوپر تھا اور خیال کئے کہ آپ اس میں ہیں۔ وقوله: اثره. یعنی آپ کے نشان قدم پر چلے۔ وقوله: فلما بلغوا الجبل. جب وہ ثور پہاڑ پر پہنچے۔ وقوله: اختلط عليهم. یعنی نشان قدم ان پر مشتبہ ہو گئے۔ وقوله: لَوْ دخل الخ. کہا گیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے دو کبوتریوں کو بھیجا وہ دونوں اس کے نیچے کے حصہ میں انڈے دیئے اور مکڑی کو بھیجا اور وہ جالا بُن دی اور روایت میں آیا ہے کہ مشرکین اس طرح غار کے اوپر چڑھے اگر وہ اپنے پاؤں کے نیچے کی طرف دیکھتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کو دیکھ لیتے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فکر مند ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماظنك باثنين، الله ثالثهما۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو غار دیکھنے سے اندھا کر دیا اور غار کے اطراف گھومتے رہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکے۔ قولُه: فمكث. ک کو پیش اور زبر دونوں طرح آیا ہے، یعنی آپ ٹھہرے رہے۔ وقوله : فيه ثلث ليال. اس میں تین رات۔ پھر مدینہ کی طرف چلے۔ (ماخوذ از مرقات)۔