English
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (ﷺ) said while in a tent on the day of Badr 1, “O Allah, I beseech You by Your covenant and promise. O Allah, if You will, You will not be worshipped after today.” Abu Bakr took his hand and said, “Enough, O Messenger of Allah, you have pressed your Lord.” He came out leaping 2 in his armor, saying, The assembly will be defeated, and they will turn their backs (Al-Qamar: 45).
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٥٤ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ وَهُوَ1 فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدُ بَعْدَ الْيَوْمِ». فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَثِبُ2 فِي الدَّرْعِ، وَهُوَ يَقُولُ: ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7326
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: جنگ بدر کے دن جب کہ آپ ایک ڈیرہ میں تھے(32) اے اللہ میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرا
وعدہ مانگتا ہوں اے اللہ اگر تو چاہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے تو حضرت ابوبکرؓ آپ کا
دست مبارک پکڑ لئے اور عرض کئے یا رسول اللہ آپ کے لئے کافی ہے آپ نے اپنے پروردگار سے کافی
زاری کے ساتھ دعا مانگی پس آپ نکلے اس طرح کہ آپ اپنے زرہ بکتر میں مستانہ چل رہے تھے(33) اور
فرماتے جاتے تھے یہ کفار کی بھیڑ کو شکست دے دی جائے گی اور وہ پیٹھیں پلٹا دیں گے۔(بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4875 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: while in a tent on the day of Badr: A circumstantial clause between the statement and its content, i.e., “O Allah, etc.” His statement: if You will: Meaning the absence of worship, Islam, or the believers’ destruction, so You will not be worshipped is in the indicative as the response to the condition, meaning no Muslim would remain on earth. If asked: The Prophet (ﷺ) knew Allah best and that Allah would not break His promise, so why this supplication? We say: The principle is that supplication is recommended whether the supplicant knows the outcome or not. Knowledge of Allah entails fear of Him, and prophets are not free from fear despite their assurances of a good outcome. He may have feared an obstacle from himself or his nation preventing the promised victory. Or he was promised victory without a specified time and feared its delay, so he supplicated for it that day. As for his intense supplication, it is best said that his exaggeration in asking, despite his great trust and perfect knowledge, was to encourage the companions and strengthen their hearts, as they knew his supplication was surely answered, especially when intensified. I say: It indicates that one unable or not commanded to fight should supplicate for victory to gain the reward of participation. When he saw his companions turning to creation, he returned to the Absolute Essence, seeking the truth from his Lord. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: leaping: Meaning moving quickly with joy and energy. His statement: in his armor: Meaning while wearing it for protection and intent to fight. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: وهو في قبة يوم بدر والجملة حالية معترضة بين القول ومقوله، وهو قوله: اللهم إلخ. وقوله: «اللهم إن تشأ أي عدم العبادة أو عدم الإسلام أو هلاك المؤمنين لا تعبد بالجزم على جواب الشرط بعد اليوم»؛ لأنه لا يبقى على وجه الأرض مسلم. فإن قيل: كان النبي الله أعلم الناس بالله، وقد علم أن الله سبحانه لم يكن ليعده وعدا فيخلفه، فما وجه هذا السؤال ؟ قلنا : الأصل الذي لا يفارق هذا الحكم هو أن الدعاء مندوب إليه علم الداعي حصول المطلوب أو لم يعلم، ثم إن العلم بالله يقتضي الخشية منه، ولا ترفع الخشية من الأنبياء عليهم بما أوتوا ووعدوا من حسن العاقبة، فيجوز أن يكون خوفه من مانع ينشأ ذلك من قبله، أو من قبل أمته، فيحبس عنهم النصر الموعود. ويحتمل أنه وعد بالنصر ولم يعيّن له الوقت، وكان على وجل من تأخر الوقت، فتضرع إلى الله تعالى لينجز له الوعد في يومه ذلك. وأما ما أظهر من الضراعة، فقيل: الأحسن أن يقال: إن مبالغة رسول الله ﷺ في السؤال مع عظم ثقته بربه و کمال علمه کان به تشجيع للصحابة وتقوية لقلوبهم؛ لأنهم كانوا يعرفون أن دعاءه لا محالة مستجاب لا سيما إذا بالغ فيه. قلت: وفيه إشعار بأن من لم يقدر على المحاربة ولم يؤمر بالمقاتلة، فينبغي له حينئذ أن يدعو بالنصرة ليحصل له ثواب المشاركة؛ فإنه الله لما رأى أصحابه أنهم توجهوا إلى الخلق رجع بنفسه إلى الذات المطلق، وراجع ربه في طلب الحق. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله : وهو يثب: أي يسرع فرحا ونشاطا. وقوله: «في الدرع أي حال كونه في درعه للمحافظة، وعلى نية المقاتلة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(32) قوله : وهو في قبة يوم بدر . یہ جملہ حالیہ ہے اور قول و مقولہ اللهم الخ کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ وقوله: اللهم ان تشأ مراد اس سے عبادت کا نہ کیا جانا۔ اسلام کا نہ ہونا اور مسلمان کا ہلاک ہوجانا اگر تو چاہتا ہے لا تعبد دال کو جزم ہے جواب شرط ہے، بعد اليوم کیونکہ اس کے بعد پھر روئے زمین پر کوئی مسلمان باقی نہیں رہے گا۔ پس اگر یہ سوال کیا جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے تو خلاف نہیں کرتا پھر اس سوال کی حاجت کیا تھی تو ہم اس کا یہ جواب دیں گے کہ وہ قاعدہ جس سے یہ حکم بھی مستثنیٰ نہیں یہ ہے کہ دعاء ہر حال میں مستحب ہے خواہ دعاء کرنے والے کو مطلوب کے حصول کا علم ہو یا نہ ہو۔ نیز بے شک اللہ کی معرفت اس کی خشیت کا تقاضہ کرتی ہے، انبیاء علیہم السلام کو جو سرفرازی ہے اور حسن عاقبت کا ان سے جو وعدہ کیا گیا ہے اس سے ان کی خشیت و خوف ختم نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے ان کا یہ خوف خود ان کی کسی کیفیت کی وجہ سے یا امت کی فکر کی وجہ سے ہو ایسا نہ ہو کہ وعدہ کی ہوئی مدد روک لی جائے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدد کا وعدہ تو ہوا ہے مگر وقت متعین نہیں ہوا تھا اس لئے ہوسکتا ہے اس بات کا خوف ہو کہ کہیں مدد کا وقت مؤخر نہ ہو۔ اس لئے آپ اللہ کی جناب میں گریہ و زاری کرتے رہے تا کہ اللہ تعالیٰ وہ وعدہ آج ہی کے دن پورا کرے۔ اب رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالیٰ پر کمال بھروسہ اور کمال علم کے باوجود مبالغہ کے ساتھ جو گریہ و زاری فرمائی وہ صحابہ کی حوصلہ افزائی اور ان کو تقویت پہنچانے اور ان کی ہمت افزائی کے لئے تھا کیونکہ صحابہ کو یقین تھا کہ آپ کی دعا لا محالہ مقبول ہوتی ہے، خصوصاً ایسے وقت جبکہ آپ دعا میں مبالغہ کرتے ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ اس میں اس بات کا بھی اعلان ہے کہ جو شخص جنگ پر قدرت نہیں رکھتا اور اس کو لڑائی کا بھی حکم نہیں دیا گیا ہے تو اس کو چاہئے کہ ایسے وقت نصرت و کامیابی کے لئے دعا کرے تا کہ اس کو اس میں شرکت کا ثواب بھی مل جائے کیونکہ آپ نے جب دیکھا کہ صحابہ مخلوق کی طرف متوجہ ہیں تو آپ بنفس نفیس ذات مطلق خداوندی کی طرف متوجہ ہوگئے اور طلب حق میں رب کی طرف متوجہ رہے۔(مرقات)۔ (33) قوله: وهو يثب. آپ نشاط وخوشی میں تیز چل رہے تھے۔ وقوله: فى الدرع یعنی اپنی حفاظت اور مقابلہ کی نیت سے اپنا زرہ پہنے ہوئے تھے۔(مرقات)۔