English
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: On that day, while a Muslim was pursuing 1 a polytheist ahead of him, he heard a whip’s strike above and a rider’s voice saying, “Advance, Hayzum.” He looked at the polytheist ahead, who fell on his back. He saw his nose wounded and face split as if by a whip’s strike, all turning green. The Ansari came and told the Messenger of Allah (ﷺ), who said, “You have spoken the truth. 2 That was from the aid of the third heaven.” 3 They killed seventy and captured seventy that day.
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٥٦ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ1 فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ يَقُولُ: أَقْدِمْ حَيْزُومُ إِذْ نَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ، خَرَّ مُسْتَلْقِيًّا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ، وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ السَّوْطِ، فَاخْضَرَّ ذَلِكَ أَجْمَعُ، فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَحَدَّثَ بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ: «صَدَقْتَ2 ذَلِكَ3 مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ». فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7328
اور انہیں سے روایت ہے فرمایا: اس اثناء میں کہ مسلمانوں میں سے ایک
صاحب اس دن ایک مشرک آدمی کے پیچھے دوڑ رہے تھے(35) جو ان کے سامنے تھے، اچانک انہوں
نے اس کے اوپر کوڑے مارنے کی اور ایک گھڑ سوار کی آواز سنی یہ کہتے ہوئے کہ حیزوم آگے بڑھ پھر
اچانک انہوں نے دیکھا کہ مشرک ان کے سامنے چت گرا پڑا ہے اور دیکھا کہ اس کی ناک زخمی ہوگئی
ہے اور منہ پھٹ گیا ہے کوڑے کی مار کی طرح اور وہ پورا ہرا ہوگیا تو وہ انصاری آ کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے بیان کئے تو آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا(36) یہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے ہے(37)
پس مسلمانوں نے اس دن ستر(70) کو قتل کیا اور ستر(70) کو گرفتار کر لیا۔(مسلم)۔
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) His statement: pursuing: Meaning hastening and running. His statement: a whip’s strike: Meaning the sound of a whip’s strike above the polytheist. His statement: Hayzum: The name of the angel’s horse. His statement: Advance: Al-Nawawi said: With a cut hamza and kasra on dal, a command to urge the horse. I say: It seems to order advancing, as it lacks understanding of speech. For an angel’s horse, it may be literal or a breach of norm, supported by addressing it by name, and Allah knows best. His statement: his nose wounded: Meaning his nose was injured. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: You have spoken the truth: This indicates a karamah for the companion, and a follower’s karamah is akin to the miracle of the one followed, especially occurring in his presence due to his blessing. Or, the trustworthy companion narrated a true report of an angel’s descent to aid, and the Truthful One confirmed it, making it a miracle. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement: from the aid of the third heaven: Indicating aid came from all heavens, this specifically from the third. The reference is to the angel, the subject, with what follows as its predicate. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: يشتد أي يسرع ويعدو. وقوله: «ضربة أي صوت ضربة بالسوط فوقه أي فوق المشرك. وقوله: حيزوم» اسم فرس الملك. وقوله: «أقدم» قال النووي: هو بهمزة قطع مفتوحة وبكسر الدال من الأدام، قالوا: وهي كلمة زجر للفرس. أقول : فكأنه يؤمر بالإقدام؛ فإنه ليس له فهم الكلام، وأما بالنسبة إلى فرس الملك، فيمكن حمله على الحقيقة، أو على خرق العادة، ويؤيده النداء باسمه، والله أعلم. وقوله: قد خطم أي جرح أنفه. التقطته من «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله صدقت فيه أن هذا الكشف كرامة للسحابي، وكرامة الاتباع بمنزلة معجزة المتبوع، لا سيما وقوعه في حضرته وحصوله لأجل بركته، أو يقال : أخبر الصحابي، وهو ثقة بنقل صحيح عما يدل على نزول الملك للمعاونة وقد صدقه الصادق المصدوق في هذه المقالة فيصح عده من المعجزة. كذا في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله: ذلك من مدد السماء الثالثة: تنبيه على أن المدد كان من السماوات كلها. وهذا من الثالثة خاصة، فالإشارة إلى الملك في ذلك، وهو مبتدأ خبره ما بعده. كذا في «المرقاة».
Note 1
(35) قوله: يشتد. یعنی تیزی سے دوڑ رہے تھے۔ وقوله: ضربة. یعنی مار کی آواز بالسوط فوقه یعنی مشرک کے اوپر، وقوله: حيزوم. فرشتے کے گھوڑے کا نام تھا۔ وقوله: ”اقدم“ امام نووی نے فرمایا: یہ ہمزہ قطعی ہے، اور مفتوح ہے، اور دال کو زیر (کسرہ) ہے، باب افعال یعنی اقدام سے ہے۔ اور علماء نے کہا ہے کہ یہ کلمہ گھوڑے کو ڈانٹنے کا ہے، میں کہتا ہوں کہ اس کے ذریعہ گویا گھوڑے کو آگے بڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے کیونکہ گھوڑے کو فہم کلام نہیں ہے البتہ فرشتے کے گھوڑے کی نسبت سے اس کو اس کے حقیقی معنی پر محمول کر سکتے ہیں یا یہ خرق عادت ہے اور گھوڑے کو اس کے نام کے ساتھ آواز دینا اس کی تائید کر رہا ہے۔ وقوله: قد خطم. یعنی اس کی ناک زخمی ہوگئی۔(ماخوذ از: مرقات)۔ (36) قوله : صدقت . یہ کشف صحابی کی کرامت ہے اور اتباع کی کرامت متبوع کے معجزہ کے درجہ میں ہے، خاص طور پر جب کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہوا ہے اور صحابی کو اس کرامت کا حاصل ہونا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی وجہ سے ہے، بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے صحابی نے جو قصہ بیان اس کی خبر دی جس سے معاونت کے لئے فرشتہ کا نزول (اتر کر آنا) معلوم ہوتا ہے اور صادق مصدوق نے اس کی تصدیق بھی فرمائی ہے لہذا اس کو معجزہ میں شمار کرنا درست ہے۔(مرقات)۔ (37) قوله : ذلك من مدد السماء الثالثة. اس میں اس بات پر آگاہ کیا گیا ہے کہ مدد سارے آسمانوں سے آئی ہے اور یہ مدد خاص طور پر تیسرے آسمان سے آئی ہے اور ذلک سے فرشتہ کی طرف اشارہ ہے اور یہ مبتداء ہے اور اس کے بعد کا جملہ اس کی خبر ہے۔(مرقات)۔