العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٦٤ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ ﷺ وَ عَرُوسًا1 بِزَيْنَبَ، فَعَمَدَتْ أُتَيْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَصَنَعَتْ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ ،2 فَقَالَتْ: يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ فَقُلْ: بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْكَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «ضَعْهُ». ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبْ فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا -رِجَالًا سَمَّاهُمْ - وَادْعُ لِيْ مَنْ لَقِيتَ».
فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ، فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصُّ بِأَهْلِهِ، قِيلَ لِأَنَسٍ: عَدَدَكُمْ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: زُهَاءَ ثَلَاثِ مِائَةٍ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى تِلْكَ الْخَيْسَةِ، وَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةٌ عَشَرَةً، يَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَقُولُ لَهُمْ: اذْكُرُوا اسْمَ اللهِ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ». قَالَ: فَأَكَلُوْا حَتَّى شَبِعُوا، فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ، حَتَّى 3 أَكَلُوا كُلُّهُمْ، قَالَ لِي: «يَا أَنَسُ ارْفَعْ». فَرَفَعْتُ، فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1428a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) His statement: newlywed: An adjective used for both masculine and feminine, meaning a new husband with Zaynab, due to her. His statement: dried yogurt: With fatḥa then kasra, meaning dried, hard milk, as in An-Nihayah. In Al-Qamus: Something made from churned sheep’s milk. She made hays, which is a combination of the three. This Hadith indicates it. (As stated in Al-Mirqat) In Al-Lama’at: Hays, with fatḥa on the ḥā’, is a mixture, referring to dates mixed with ghee and dried yogurt, kneaded thoroughly.
Note 2
(2) His statement: in a vessel: With a yā’ above, then wāw, then rā’, a container like a bowl. His statement: men he named: Meaning three men he specified by name and lineage, expressed as so-and-so, so-and-so, so-and-so. His statement: men he named: From Anas’s words, replacing so-and-so, etc., or implying “meaning.” Allah knows best. His statement: full of people: With tashdīd on the ṣād, meaning filled with them. It appears the house means the dwelling, or possibly the entrance, indicating another miracle as it accommodated many people. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement: until they all ate: It is said: The Hadith suggests Zaynab’s wedding feast was from the hays sent by Umm Sulaym. The well-known narrations state he held a feast for her with bread and meat, and no multiplication of food was mentioned. It was answered that the hays may have coincided with the bread and meat. Denying the multiplication of food in the bread and meat story is surprising, as Anas says he held a feast for her with a sheep, feeding the Muslims—about a thousand—bread and meat. I say: There is no indication that the hays was the feast; it was sent as a gift. Then, either later that day or another day, he held a feast with a sheep, feeding a thousand with bread and meat, so there is no contradiction. (As stated in Al-Lama’at)
Note 1
(۱) قوله عروسا هو نعت يستوي فيه المذكر والمؤنث، والمعنى زوجا جديدا بزينب أي بسببها. وقوله: «أقط» بفتح فكسر، أي لبن مجفف يابس شحجر على ما في النهاية». وفي القاموس» شيء يتخذ من المخيض الغنمي فصنعت حيسا، فالحيس مجموع الثلاثة. وهذا الحديث يدل عليه التقطته من المرقاة». وقال في «اللمعات»: والحيس بفتح الحاء المهملة الخلط ويطلق على تمر يخلط بسمن وأقط، فيعجن عجنا شديدا.
Note 2
(۲) قوله: في تور بمثناة فوقية فواو ساكنة فراء إناء كالقدح. وقوله: «رجالا أي ثلاثة سماهم» أي عينهم بأسمائهم ونسبتهم، فعبرت عنهم بفلانا وفلانا وفلانا، فقوله: رجالا سماهم من كلام أنس بدل من فلانا إلخ» أو بتقدير «أعني» أو «يعني». والله أعلم. وقوله: غاص بأهله تشديد الصاد المهملة، أي ممتلئ بهم، والظاهر أن المراد بالبيت هو الدار. ويحتمل أن يكون على بابه، ويكون فيه معجزة أخرى حيث وسع خلقا كثيرا. التقطته من «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله: حتى أكلوا كلهم وقيل : ظاهر الحديث أن الوليمة لزينب كانت من الحيس الذي أهدته أم سليم، والمشهور من الروايات أنه أولم عليها بخبز ولحم، ولم يقع في القصة تكثير الطعام، وأجيب بأنه يجوز أن يكون حضور الحيس صادف حضور الخبز واللحم، وإنكار وقوع تكثير الطعام في قصة الخبز واللحم عجيب؛ فإن أنسا يقول: أولم عليها بشاة، وأنه أشبع المسلمين خبزا والحما، هم يومئذ نحو الألف. قلت: لا دلالة فيه على أن الحيس وليمة، وإنما وقع إرساله هدية، ثم إما في آخر ذلك اليوم، وإما في يوم آخر أولم عليها بشاة، وأشبع الألف خبزا ولحما، فلا منافاة بين القضيتين. كذا في «اللمعات».
Note 1
(49) وقوله: عروسا۔ یہ صفت ہے اس میں مذکر و مؤنث دونوں برابر ہیں مطلب یہ ہے کہ آپ نوشاہ تھے بزینب یعنی زینب سے شادی کے سبب۔ وقوله. اقط۔ ہمزہ کو زبر پھر ق کو زیر (کسرہ) کے ساتھ ہے یعنی خشک دودھ جو پتھر کی طرح سخت بن جاتا ہے (نہایہ) اور قاموس میں ہے اقط ایک ایسی چیز ہے جو بکری کے پٹھوں سے بنایا جاتا ہے۔ فصنعت حيسا۔ حیس (حلوا) تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اور یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ اور صاحب لمعات نے فرمایا حیس حاء بزبر (فتح) کے ساتھ ایک مخلوط حلوا ہے ایسے کھجوروں پر بولا جاتا ہے جن کو گھی اور پنیر سے ملا کر خوب گوندا جاتا ہو۔ (50) وقوله: في تور. شروع میں تاء پھر واو ساکن پھر راء ہے پیالی کی طرح ایک برتن ہوتا ہے۔ وقوله. رجالا۔ یعنی تین آدمی سماہم یعنی ان کے ناموں اور کنیتوں کے ساتھ ذکر فرمائے اور میں ان کی تعبیر فلاں فلاں اور فلاں کے ساتھ کیا ہوں کچھ لوگ جن کا آپ نے نام لیا انس کا قول: رجالا سماهم سے بدل ہے یا لفظ اعنی یا لفظ یعنی محذوف ہے۔ واللہ اعلم۔ وقوله: غاص باهله. اس میں صاد کو تشدید ہے یعنی لوگوں سے بھر گیا اور ظاہر بات ہے کہ بیت سے مراد دار ہے (اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دروازہ) اور اس میں ایک دوسرا معجزہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ تھوڑا حلوا کثیر مخلوق (بڑی تعداد) کے لئے کافی ہوا۔ (ماخوذ از مرقات)۔ (51) و قولہ: حتی اکلوا کلہم۔ ظاہر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زینب کا ولیمہ اس حلوے سے ہوا تھا جو ام سلیم نے ہدیہ بھیجا تھا مگر مشہور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب کا ولیمہ روٹی اور گوشت سے کیا تھا۔ اور اس قصہ میں کثرت طعام کا ذکر نہیں ہے تو اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ ایک اتفاقی صورت ہوگئی گوشت اور روٹی سے ولیمہ کے موقعہ پر ام سلیم کا حلوہ بھی آگیا ہو۔ اور اس روٹی گوشت کے واقعہ میں تکثیر طعام کے وقوع کا انکار عجیب ہے۔ کیونکہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب کا ولیمہ ایک بکری سے کیا اور مسلمان گوشت اور روٹی سیر ہو کر کھائے اور ان کی تعداد نو نفر یا ایک ہزار کی تھی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ اس میں اس حلوے سے ولیمہ کرنے کی کوئی دلالت نہیں۔ صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ام سلیم نے حلوہ کا ہدیہ بھیجا تھا یا تو اس دن کے آخر میں بھیجا ہو یا دوسرے دن بھیجا ہو۔ اور زینب کا ولیمہ بکری سے کیا گیا ہو اور ایک ہزار آدمی روٹی اور گوشت پیٹ بھر کر کھائیں ہوں اور دو واقعوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔ (لمعات)۔