اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7349
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا ہم آیتوں
(معجزات) کو برکت شمار کرتے تھے (75) اور تم اس کو خوف کی چیز سمجھتے ہو، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی کم ہو گیا تو آپ نے فرمایا: کچھ بچا ہوا پانی تلاش کرو۔ پس وہ
ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا پس آپ نے برتن میں اپنا دست مبارک ڈالا پھر فرمایا آؤ مبا
رک پانی پر اور اللہ کی طرف سے برکت پر اور میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انگلیوں سے
پانی پھوٹ نکل رہا تھا اور ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے حالانکہ وہ کھایا جاتا تھا۔(بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3579 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: we considered the signs as blessings, while you consider them warnings: It is clearer to say: We considered extraordinary events not preceded by a challenge, which bring blessings, as signs and miracles, while you limit extraordinary events to challenged signs entailing fear of punishment. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: كنا نعد الآيات بركة وأنتم تعدونها تخويفا: الأظهر أن يقال : معناه: كنا نعد خوارق العادات الواقعة من غير سابقة طلب مما يترتب عليها البركة آيات ومعجزات، وأنتم تحصرون خوارق العادات على الآيات المقترحة التي يترتب عليها مخافة العقوبة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(75) وقوله: كنا نعد الآيات بركة وأنتم تعدونها تخويفا۔ ظاہراً بات یہ ہے کہ ہم ان کو معجزات سمجھتے تھے جو بغیر مطالبہ کے لئے دکھائے جاتے تھے اور جن میں اس میں برکت ہوتی ہے اور تم صرف ان آیات کو معجزات شمار کرتے ہو جو مطالبہ پر دکھائے جاتے ہیں اور جن پر عذاب کا اندیشہ رہتا ہے۔ (مرقات)۔