English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: Jibril came to the Prophet (ﷺ) while he was sitting, saddened, and stained with blood from the people of Makkah’s actions. He said: “O Messenger of Allah, do you wish to see a sign?” He said: “Yes.” He looked at a tree behind him and said: “Call it.” He called it, and it came and stood before him. He said: “Order it to return.” He ordered it, and it returned. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “That suffices me 1, that suffices me.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٧٩ - وَعَنْ أَنَسٍ(رضي الله عنه) قَالَ: جَاءَ جبرئيل إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ، وَقَدْ تَخَضَّبَ بِالدَّمِ مِنْ فِعْلِ أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! هَلْ تُحِبُّ أَنْ نُرِيَكَ آيَةً؟ قَالَ: «نَعَمْ». فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَائِهِ فَقَالَ: ادْعُ بِهَا . فَدَعَا بِهَا فَجَاءَتْ فَقَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «حَسْبِي1 حَسْبِي». رَوَاهُ الدَّارِميُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7356
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: حضرت جبرئیل نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ آپ اہل مکہ کے عمل سے خون آلود اور غمگین
بیٹھے ہوئے تھے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو ایک نشانی دکھائیں
آپ نے فرمایا: ہاں! تو انہوں نے اپنے پیچھے کے ایک درخت کی طرف دیکھا اور عرض کیا آپ اس کو
بلائیں تو آپ نے اسے بلایا تو وہ آپ کے سامنے آکھڑا ہوگیا پھر انہوں نے کہا کہ آپ اس کو حکم دیں
کہ وہ واپس چلا جائے تو آپ اس کو حکم فرمائے اور وہ واپس چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا مجھے کافی ہے(90) مجھے کافی ہے۔(دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 5925 (unverified) 50% confidence
- Candidate: Sunan al-Darimi 21 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 5925
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: that suffices me: Meaning it is enough for me. Zayd is for emphasis or indicating repeated extraordinary events by coming and returning. The meaning: This karamah from my Lord suffices to console me for the grief I faced. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: حسبي أي كفاني حسبي» زيد للمبالغة، أو إشارة إلى تكرار خرق العادة بالمجيء والإعادة. والمعنى: كفاني في تسليتي عما لقيته من الحزن هذه الكرامة من ربي. كذا في «المرقاة».
Note 1
(90) قوله: حسبی۔ یعنی مجھے کافی ہے اور دوم مبالغہ کے لئے زیادہ کیا گیا ہے یا اس کے آنے اور جانے کے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) دو معجزے کے لئے تکرار کی گئی ہے یعنی مجھے جو رنج و تکلیف پہنچی تھی اس کی تسلی کے لئے میرے رب کی طرف سے کافی ہے۔ (مرقات)۔