العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٧ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ ﷺ1 يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ حُوْمِ الْحُمُرِ، وَرِخَّصَ فِي حُوْمِ الْخَيْلِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : نَهَى النَّبِيُّ ﷺ عَنْ حُوْمِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ يَوْمَ خَيْبَرَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4219 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5520 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "The Prophet ﷺ prohibited..." The evidence regarding the permissibility or prohibition of its meat conflicts. Additionally, there was disagreement among the companions about its purity and impurity. It was narrated from Ibn Abbas that it is pure, and from Ibn Umar that it is disliked. This raised doubt about its saliva. The most correct approach, as mentioned in "Al-Bahr" and "Al-Binayah" and others, is to be uncertain in the case of necessity. This is because the donkey is tied in homes and courtyards, and it drinks from vessels. Necessity has an effect in relieving impurity, as in the case of the saliva of a cat or a mouse. However, the necessity for the donkey is less than that for the cat or mouse, because they enter the narrow parts of the house, unlike the donkey. If necessity were not established at all, as in the case of dogs and wild animals, the ruling would have been impurity without any doubt. If the necessity were like that of the cat or mouse, the ruling would have been to relieve impurity without any doubt. Since necessity was established in some aspects and not others, and the reasons for impurity and purity were equal, they canceled each other out due to the conflict. Thus, the original ruling must be followed. Here, the two original rulings are: purity with respect to water and impurity with respect to saliva, so the matter remains uncertain. This is the essence of what is mentioned in "Al-Sayah".
Note 1
(۱) قوله : نهى النبي ﷺ إلخ : تعارضت الأدلة في إباحة لحمه وحرمته. وأيضًا اختلف الصحابة في نجاسته وطهارته، فروي عن ابن عباس طهارته، وروي عن ابن عمر كراهته، فأوجب الشك في سؤره. والأصح في التمسك على ما في «البحر» و«البناية» وغيرهما، هو التردد في الضرورة؛ فإن الحمار تربط في الدور والأفنية، ويشرب من الأواني. وللضرورة أثر في إسقاط النجاسة، كما في سؤر الهرة والفأرة، إلا أن الضرورة في الحمار دون الضرورة فيهما؛ لدخولهما مضايق البيت دونه، ولو لم تكن الضرورة ثابتة أصلا كما في الكلب والسبع، لَوَجَبَ الحكم بالنجاسة بلا إشكال. ولو كانت الضرورة فيه كضرورة الفأر والهرة، لَوَجَبَ الحكم بإسقاط النجاسة بلا إشكال. فلما ثبتت الضرورة من وجه دون وجه، واستوى موجب النجاسة والطهارة، تساقطا للتعارض، ووجب المصير إلى الأصل، والأصل ههنا شيئان: الطهارة في جانب الماء، والنجاسة في جانب اللعاب، فبقي الأمر مشكلا، هذا حاصل ما في «السعاية».
Note 1
ف: گدھے کا گوشت کھانے کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے، اس کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ اس کے گوشت کے حلال ہونے اور حرام ہونے کے متعلق دلائل میں خود اختلاف ہے اور خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی گدھے کے ناپاک ہونے اور پاک ہونے کے متعلق اختلاف کیا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ گدھا پاک ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مکروہ ہے، اس اختلاف نے گدھے کے جھوٹے کے متعلق شک پیدا کردیا کہ اس کا حکم کیا ہے، اس بارے میں صحیح ترین استدلال جو بحر اور بنایہ وغیرہ میں مذکور ہے یہ ہے کہ گدھے کے جھوٹے کی ضرورت کے بارے میں تردد اور شک ہے کہ کیا کہا جائے ضرورت اس لئے کہ گدھا گھر کے کنارے میں باندھا جاتا ہے اور گھر کے برتنوں سے پانی پی جاتا ہے اور یہ مسلّم ہے کہ ضرورت اور حاجت اس بات کی داعی ہوتی ہے کہ ناپاک ہونے کا حکم نہ دیا جائے اسی وجہ سے بلی اور چوہے کے جھوٹے کو ناپاک نہیں قرار دیا گیا، مگر گدھے کی ضرورت کم ہے اور بلی اور چوہے کی ضرورت زائد ہے، کیونکہ بلی اور چوہے گھر کے تنگ مقامات میں گھس جایا کرتے ہیں اس لئے ان سے بچنا مشکل ہے اور گدھے سے بچنا آسان ہے، اور اگر بالکلیہ ضرورت نہ ہوتی تو گدھے کے جھوٹے کے متعلق بلا اشکال یہ حکم دیا جاتا کہ وہ نجس ہے جس طرح کتے اور دوسرے درندوں کا حکم ہے، اور اگر گدھے کی ضرورت اس طرح ہوتی جس طرح کہ بلی اور چوہے کی ضرورت درپیش ہوتی ہے تو گدھے کے جھوٹے کا حکم بالکل بلا اشکال وہی دیا جاتا جو بلی اور چوہے کا ہے کہ ان کا جھوٹا بھی ناپاک نہیں ہے، پس جب ایک حیثیت سے ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ وہ گھروں میں باندھا جاتا ہے اور برتنوں سے پانی پی جاتا ہے اور دوسری حیثیت سے ضرورت ثابت نہیں ہوتی ہے یعنی وہ بالکل بلی اور چوہے کی طرح ہر تنگ مقام تک نہیں جایا کرتا تو اس کے لئے دونوں باتیں برابر ہوگئیں، ایک ناپاکی اور دوسرے پاکی، اور یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے معارض اور مخالف ہونے کی وجہ سے ساقط ہوگئے۔ اس طرح ان دونوں باتوں میں کسی کا بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا، اس لئے اصل کی جانب لوٹنا ضروری ہوا، اور یہاں اصل دو چیزیں ہیں: ایک تو پانی کہ وہ پاک ہے اور دوسرے گدھوں کا تھوک کہ وہ ناپاک ہے اس لئے کہ اس کا گوشت حرام ہے، اگر پانی کو دیکھا جائے تو گدھے کے جھوٹے کو پاک کہنا پڑتا ہے اور اس کے تھوک کا لحاظ کیا جائے تو اس کے جھوٹے کو ناپاک کہنا پڑتا ہے اسی لئے گدھے کے جھوٹے کا قضیہ معرض اشکال میں ہونے کی وجہ سے فقہاء نے گدھے کے جھوٹے کو مشکوک کہا ہے۔ گدھے کے جھوٹے کی دو حیثیتیں ہیں: ایک حیثیت خود اس کے پاک ہونے کی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے، البتہ دوسری حیثیت جس میں شک ہے وہ یہ کہ کیا وہ پاک کرنے والا بھی ہے یعنی طاہر تو ہے کیا مطہر بھی ہے؟ تو اس کے مطہر ہونے میں شک کی بناء پر پانی ملنے کی صورت میں اس کو استعمال نہیں کرنا چاہئے، اگر پانی نہ ملے تو گدھے کے جھوٹے پانی سے وضوء بھی کرنا چاہئے اور تیمم بھی۔ (یہ عبارت سعایہ اور ردالمحتار کا حاصل ہے۔)