العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٨٤ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه)ٍ أَنَّ يَهُودِيَّةً مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً1 ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللَّهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ وَ الدَّرَاعَ، فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلَ رَهْطُ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : «ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ». وَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا، فَقَالَ: «سَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ؟». قَالَتِ الْيَهُودِيَّةُ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ فِي يَدِي لِلذَّرَاعِ ، 2قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: إِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَنْ يَضُرَّهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ، فَعَفَا عَنْهَا 3رَسُولُ اللهِ ﷺ وَلَمْ يُعَاقِبْهَا وَتُوُفِّيَ أَصْحَابُهُ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ، وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ ﷺ عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ حَجَمَهُ أَبُو هِنْدِ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ، وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِميُّ.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) His statement: roasted: With fatḥa on mim, kasra on lām, and tashdid on tā’, meaning grilled. It is said: She put much poison in the shoulder and arm, knowing they were the Messenger of Allah’s (ﷺ) favorite parts of the sheep. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: the shoulder: The lām is for clarification or meaning “about,” like “He said to Zayd: He did not do it,” meaning he said about the shoulder that it informed me. It is said: The lām means “to,” meaning he said that, pointing to it. (As stated in Al-Lama’at)
Note 3
(3) His statement: he pardoned her: At-Tibi said: There is a difference, as the narration states he ordered her killed, and she was killed. The reconciliation: He pardoned her initially, but when Bishr ibn al-Bara’ ibn Ma’rur (may Allah be pleased with him) departed from this world from what he swallowed, he ordered her killed in his place. In Al-Mawahib: It is said she embraced Islam and was not killed. Some verifiers said: “He pardoned her” means he left her initially, as he did not seek revenge for himself, but when Bishr ibn al-Bara’ ibn Ma’rur (may Allah be pleased with him) departed from this world, he ordered her killed as qisas. It is possible he left her because she embraced Islam, then ordered her killed as qisas for Bishr. His statement: his companions: Meaning some of them, Bishr. His statement: on his shoulder: With kasra on hā’, meaning between his shoulder blades. His statement: with the horn and lancet: With fatḥa then sukoon, meaning the cupping horn and the broad knife for incision. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : مصلية بفتح الميم وكسر اللام وتشديد التحتية، أي مشوية. قيل: وأكثرت السم في الكتف والذراع لما بلغها أنهما أحب أعضاء الشاة إلى رسول الله ﷺ. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: للذراع اللام للبيان أو بمعنى «عن»، نحو: قال لزيد: إنه لم يفعل أي قال عن الذراع أنها أخبرتني. وقيل: اللام بمعنى «إلى» أي قال ذلك مشيرا إليها. كذا في «اللمعات».
Note 3
(۳) قوله: فعفا عنها قال الطيبي فيه اختلاف؛ إذ الرواية وردت بأنه أمر بقتلها فقتلت، ووجه التوفيق بينهما: أنه عفا عنها في أول الأمر، فلما مات بشر بن البراء بن معرور من الأكلة التي ابتلعها أمر بها، فقتلت مكانه. وفي المواهب»: وقيل : أسلمت ولم تقتل. وقال بعض المحققين: قوله: «فعفا عنها» أي تركها أولا ؛ لأنه كان لا ينتقم لنفسه، ثم لما مات بشر بن البراء بن معرور، أمر بقتلها قصاصا. ويحتمل أن يكون تركها؛ لكونها أسلمت، ثم أمر بقتلها قصاصا لقتل بشر. وقوله: وتوفي أصحابه أي بعضهم، وهو بشر. وقوله على كاهله بكسر الهاء، أي بين كتفيه. وقوله: «بالقرن والشفرة بفتح فسكون أي كانت المحجمة قرنا والمبضعة السكين العريض. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(97) قوله مصلية۔ میم کو زبر اور لام کو زیر (کسرہ) اور یا کو تشدید ہے یعنی بھنی ہوئی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بکری کے شانے اور دست میں زہر زیادہ ملا دی تھی کیونکہ اس کو معلوم ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری کے تمام اعضاء میں یہ زیادہ پسند تھا۔ (مرقات)۔ (98) قوله للذراع۔ اس میں لام بائیہ ہے باء کے معنی میں ہے جیسے قال لزيد انه لم يفعل ہے (اس نے زید کے بارے میں کہا کہ وہ نہیں کیا ہے) یعنی آپ نے ذراع (دست) کے متعلق فرمایا کہ اس نے مجھے بتایا ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ لام بمعنی میں الی کے ہے یعنی آپ نے یہ بات اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ (مشيرا اليها) (لمعات)۔ (99) قوله: فعفا عنها۔ علامہ طیبی نے فرمایا اس میں اختلاف ہے کیونکہ روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ نے اس کے قتل کا حکم فرمایا لہذا وہ قتل کر دی گئی ان دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق کی صورت یہ ہے کہ آپ نے شروع میں اس کو معاف فرمایا مگر جب بشر بن براء بن معرور اس لقمہ کی وجہ سے انتقال کر گئے جس کو انہوں نگل لیا تھا تو ان کے قصاص میں اس کو قتل کیا گیا اور مواہب میں ہے کہ وہ اسلام لائی اور قتل نہیں کی گئی بعض محققین نے فرمایا: فعفا عنها۔ کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے شروع میں تو اس کو چھوڑ دیا کیونکہ آپ اپنی ذات کے لئے انتقام نہیں لیتے تھے، پھر جب حضرت بشر بن براء بن معرور کا انتقال ہو گیا تو آپ نے قصاص میں اسے قتل کرنے کا حکم فرمایا اور (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس کے اسلام لانے کی وجہ سے اس کو چھوڑ دیئے تھے پھر حضرت بشر کے قتل ہونے کی وجہ سے اس کے قتل کا حکم فرمایا ہے۔ وقوله: وتوفى اصحابه۔ یعنی آپ کے ایک صحابی حضرت بشر شہید ہوئے۔ قوله: على كاهله۔ ماوکنڈری (کمرہ) یعنی آپ کے دونوں شانوں کے درمیان۔ وقوله: بالقرن والشفرة۔ شین کو زبر اور فاء کو جزم ہے۔ یعنی پچھنا لگانے کا آلہ سینگھی اور چھوٹی چھری تھی۔ (ماخوذ از: مرقات)۔