العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٨٧ - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ أَنَّهُمْ سَارُوا 1 مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَ عَشِيَّةً، فَجَاءَ فَارِسُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي طَلَعْتُ عَلَى جَبَلٍ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ 2أَبِيْهِمْ بِظُعُنِهِمْ 3وَنَعَمِهِمْ اجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَقَالَ: «تِلْكَ غَنِيمَةُ الْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى». ثُمَّ قَالَ: «مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟». قَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْتَدِ الْغَنَوِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «ارْكَبْ». فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ فَقَالَ لَهُ: اسْتَقْبِلْ هَذَا الشَّعْبَ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِلَى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ.
ثُمَّ قَالَ: «هَلْ حَسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَسَسْنَاهُ، فَثُوَّبَ بِالصَّلَاةِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَهُوَ يُصَلِّي يَلْتَفِتُ إِلَى الشَّعْبِ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَكُمْ فَارِسُكُمْ. فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشَّعْبِ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى هَذَا الشَّعْبِ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اطَّلَعْتُ الشَّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «هَلْ نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ؟» قَالَ: لَا ، إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيًّا حَاجَةً. قَالَ رَسُولُ اللهِ : فَلَا 4عَلَيْكَ أَنْ لَا تَعْمَلَ بَعْدَهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ. وَفِي الزَّيْلَعِيَّ» وَشَرْحِ الْمُلْتَقَى لِلْبَاقَانِيّ : أَنَّ الاِلْتِفَاتَ بِبَصَرِهِ مُبَاحُ5 لِأَنَّهُ كَانَ يُلَاحِظُ أَصْحَابَهُ فِي صَلَاتِهِ بَمُوْقِ عَيْنَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2501 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (11)
Note 1
(1) His statement: they traveled, etc.: Meaning at the time of heading to it. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: on the young camels of their fathers: With fatḥa then sukoon, meaning all of them. It is said: The people came with all of them. At-Tibi said: Its origin is that a tribe from the Arabs faced distress, so they packed up entirely, leaving nothing, even the young camel belonging to their fathers they took with them. Whoever saw them said: “They came with their fathers’ young camel,” becoming a proverb for a people coming all together, even without a young camel. (As stated in Al-Lama’at and Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement: with their women: With two ḍammas and sukoon on the second, the men and women who travel, meaning migrate. The commentator said this. Al-Jazari said: Meaning with their women, which is more apparent, as it is the plural of traveler, the woman while in the howdah. It is said: The howdah, whether containing a woman or not, one of the women’s vehicles. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
(4) His statement: there is no blame on you if you do no good after it: Meaning no harm in not doing supererogatory acts after this deed, as you have gained sufficient virtue. Ibn al-Malik said: It is a glad-tiding from him that Allah has forgiven his past and future sins. There is some consideration in it. At-Tibi said: No harm in not doing good deeds after this night, as your deed tonight suffices you with Allah in reward and virtue. He meant supererogatory acts, not obligations, as those do not lapse. It can be interpreted as his jihad effort that day, consoling his heart. (As stated in Al-Mirqat)
Note 5
(5) His statement: permissible: The author of Radd al-Muhtar said: It does not contradict Ad-Durr al-Mukhtar’s “turning his gaze is disliked tanzihiyy due to no need,” or he meant permissible as not prohibited by Shariah, and differing from the first is not prohibited. Al-Tahṭāwī, Mulla Muskīn, and others said: Disliked turning is looking right or left, and the disliked is twisting his neck until his face leaves the qiblah. If he looks with the back of his eyes right or left without turning, it is not disliked, but better to avoid, and by the chest is corrupt. (As stated in Radd al-Muhtar)
Note 1
(۱) قوله : ساروا إلخ : أي وقت توجهه إليه. قاله في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: على بكرة أبيهم: بفتح فسكون، أي بأجمعهم يقال: جاء القوم على بكرة أبيهم. وهذا مثل يريدون به الكثرة. وقال الطيبي: إن أصله أن جميعا من العرب، عرض لهم انزعاج، فارتحلو جميعا ولم يخلفوا شيئًا، حتى أن بكرة كانت لأبيهم أخذوها معهم، فقال: من رآهم جاؤوا على بكرة أبيهم، فصار ذلك مثلا في قوم جاؤوا بأجمعهم، وإن لم يكن معهم بكرة. التقطته من اللمعات» و «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله: بطعنهم بضمتين ويسكن الثاني جماعة الرجال والنساء الذين يظعنون، أي يرتحلون، كذا قاله شارح. وقال الجزري: أي بنسائهم، وهو الأظهر على أنها جمع الظعينة، وهي المرأة ما دامت في الهودج. وقيل: هي الهودج كانت فيها امرأة أو لا، وهو مركب من مراكب النساء. كذا في «المرقاة».
Note 4
(٤).قوله: فلا عليك أي ليس عليك حرج في أن لا تعمل أي من النوافل والفضائل بعدها» أي بعد هذه الخصلة التي فعلتها؛ فإنه قد حصل لك فضيلة كافية. قال ابن الملك وفيه بشارة منه الله بأن الله قد غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، انتهى. ولا يخفى ما فيه من النظر. وقال الطيبي : أي لا بأس عليك بأن لا تعمل بعد هذه الليلة من المبرات والخيرات، فإن عملك الليلة كافية لك عند الله مثوبة وفضيلة، وأراد النوافل والتبرعات من الأعمال لا الفرائض؛ فإن ذلك لا يسقط، ويمكن أن ينزل على ما عليه من عمل الجهاد في ذلك اليوم؛ جبرا لقلبه وتسلية له. كذا في «المرقاة».
Note 5
(٥) قوله : مباح: قال في رد المحتار: ولا ينافيه ما في الدر المختار»: الالتفات ببصره يكره تنزيها بحمله على عدم الحاجة، أو أراد بالمباح ما ليس بمحظور شرعا، وخلاف الأولى غير محظور اهـ. وقال الطحطاوي وملا مسكين وغيره: يكره الالتفات هو النظر إلى اليمين أو الشمال، والمكروه منه أن يلوي عنقه حتى يخرج وجهه من جهة القبلة، ولو نظر بمؤخر عينييه يمنة أو يسرة بغير التولية، فلا يكره، والأولى تركه، وبالصدر مفسد.
Note 1
(104)قوله: ساروا الخ۔ یعنی جب حنین کی طرف نکلے تھے۔ (مرقات)۔ (105)قوله: على بكرة ابيهم۔ با کو زبر (فتحہ اور کاف کو جزم ہے) یعنی وہ سب کے سب۔ کہا جاتا ہے۔ جاء القوم على بكرة ابيهم۔ (قوم آئی اپنے والد کا اونٹ بھی لائی) یہ ضرب المثل ہے اس سے کثرت مقصود ہوتی ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا: اس کی اصل یہ ہے کہ تمام عرب کو ایک مرتبہ خوف لاحق ہوا تو وہ سب کے سب چلے اور کسی چیز کو پیچھے نہیں چھوڑے۔ یہاں تک کہ ان کے والد کی ایک جوان اونٹنی تھی اس کو بھی اپنے ساتھ لے لئے تو ان کو جس شخص نے بھی دیکھا کہا جاءوا اعلى بكرة ابيهم۔ تو یہ ایک کہاوت ہوگئی اس قوم کے لئے جو سب کے سب آجاتے ہیں اگر چیکہ ان کے پاس کوئی اونٹنی نہ بھی ہو۔ (لمعات و مرقات)۔ (106)بظعنهم۔ ظا اور عین کو پیش اور عین پر جزم بھی آتا ہے، ایک شارح نے کہا کہ ظعن مرد اور عورتوں کی سفر کرنے والی جماعت کو کہتے ہیں۔ علامہ جزری نے فرمایا یعنی وہ اپنی عورتوں کو بھی لیکر آگئے ہیں یہ بات قابل ترجیح ہے اس لئے کہ ظعینہ وہ عورت ہے جو اپنے کجاوہ میں ہوتی ہے اور ایک قول میں ظعینہ کجاوہ کو کہتے ہیں خواہ اس میں عورت ہو یا نہ ہو یہ عورتوں کی سواریوں میں سے ایک سواری ہے۔ (مرقات)۔ (107)قوله: وقال تلك۔ اس سے مراد مردوں، عورتوں اور مال و دولت کا مجموعہ ہے۔ و قوله: فركع ركعتين یعنی فجر کی سنت پڑھے۔ (مرقات)۔ (108) وقولہ: فلا علیک۔ یعنی تم پر (تمہارے کام نہ کرنے میں) کوئی گناہ نہیں یعنی نوافل اور فضائل کو ادا نہ کرنے سے، بعدھا سے مراد اس عمل کے بعد جو تم نے کیا ہے، کیونکہ تمہیں ایک ایسی فضیلت حاصل ہوئی ہے جو کافی ہے۔ علامہ ابن ملک نے فرمایا اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کے لئے خوش خبری ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے پہلے اور بعد کے تمام گناہ معاف فرما دیا ہے۔ اس میں غور طلب بات ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا تمہارے لئے کوئی گناہ نہیں اگرچہ کہ آج کی اس رات کے بعد کوئی نیکی اور خیر کے کام نہ کرو کیونکہ آج کی رات کا تمہارا عمل تمہاری فضیلت وثواب کے لئے کافی ہے اور اس سے نوافل اور مستحبات مراد ہیں فرائض مراد نہیں ہیں کیونکہ فرائض ساقط نہیں ہوتے اور ممکن ہے اس دن ان کے دل کو تسلی دینے اور اطمینان کی خاطر ان کے اس عمل کو آج کے دن کے عمل جہاد کے قائم مقام کر دیا گیا ہو۔ (مرقات)۔ (109) قولہ: مباح۔ صاحب ردالمحتار نے فرمایا: یہ الدرالمختار میں جو مذکور ہے کہ آنکھ سے ادھر ادھر دیکھنا مکروہ تنزیہی ہے، یہ اس کے خلاف نہیں ہے کیونکہ اس کو عدم ضرورت پر محمول ہے یا مباح سے مراد وہ ہے جو شرعاً ممنوع نہیں اور خلاف اولیٰ ممنوع نہیں ہوتا، علامہ طحاوی اور ملا مسکین وغیرہ نے فرمایا يكره الالتفات، یعنی سیدھے یا بائیں جانب دیکھنا اور یہ مکروہ اس وقت ہے جب کہ اپنی گردن کو اس طرح موڑے کہ اس کا چہرہ قبلہ کی سمت سے نکل جائے اور اگر دونوں آنکھوں سے سیدھے یا بائیں جانب بغیر گردن موڑے دیکھتا ہے تو یہ مکروہ نہیں ہے البتہ ایسا نہ کرنا بہتر ہے۔ اور سینہ کو ہٹا دینا تو مفسد صلاۃ ہے۔