اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7369
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا؛ ہم رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ حنین میں شریک رہے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ (113)
پلٹے اور جب کفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آگئے تو آپ خچر سے اتر گئے اور زمین سے
ایک مٹھی مٹی لی پھر اس کو ان کے چہروں کی طرف کر دیا پھر فرمایا شاهت الوجوه یہ چہرے پلٹ گئے
خراب ہوگئے پس اللہ تعالیٰ نے ان سے کسی انسان کو نہیں پیدا کیا مگر اس کی دونوں آنکھوں کو اس مٹھی
کی مٹی سے بھر دیا اور وہ پیٹھ پلٹا کر بھاگ گئے۔ اور اللہ نے ان کو شکست دے دی اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ان کے مال غنیمت کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1777 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: when they overwhelmed: From “rāḍū,” the pronoun for the disbelievers, meaning when they neared overwhelming. His statement: faced with it: Meaning with the dust. His statement: he said: Meaning supplication or information: “May the faces be ruined.” His statement: Allah created none of them a human: Meaning none remained of them, expressing with “what Allah created” for emphasis and restriction emphatically. At-Tibi said: It explains the miracle in two ways: Reaching that handful’s dust to all their eyes, and filling each one’s eye from that small handful, and they were four thousand with their allies from other Arabs. I say: The third is their defeat by it, as indicated by “they turned back fleeing.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فلما غشوا على زنة «رضوا»، والضمير للكفار، أي لما قاربو غشيانه. وقوله: ثم استقبل به أي بالتراب وقوله: «فقال» أي دعاء أو خبر، شاهت الوجوه». وقوله: فما خلق الله منهم إنسانا» أي فما بقي منهم أحد، والتعبير بما خلق الله الإفادة التأكيد وتقرير الحصر على وجه التأكيد. قال الطيبي : فيه بيان المعجزة من وجهين، أحدهما: إيصال تراب تلك القبضة إلى أعينهم جميعا، وثانيهما: أنها بحيث ملأت عين كل واحد منهم من تلك القبضة اليسيرة، وهم أربعة آلاف فيمن ضامهم من إمداد سائر العرب. قلت: والثالث: انهزامهم بذلك كما يشير إليه قوله: «فولوا مدبرين». كذا في «المرقاة».
Note 1
(113) قولہ: فلما غشوا. یہ ’رضوا‘ کے وزن پر ہے اور اس میں ضمیر کا مرجع کفار ہے یعنی جب کفار چھانے کے ارادہ سے قریب آگئے۔ وقوله: ثم استقبل به ضمیر کا مرجع تراب ہے۔ وقوله: فقال. آپ کا فرمان: شاهت الوجوه بطور دعاء ضرر کے یا بطور خبر کے ہے۔ وقوله: فما خلق الله منهم انسانا. یعنی ان میں سے کوئی بھی نہیں بچا۔ اور اس کو بما خلق الله سے تعبیر کرنا تاکید کے لئے ہے۔ اور تاکید کے ذریعہ حصر کرنا ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا اس میں دو معجزے ہیں ایک تو یہ کہ ایک مٹھی مٹی کا سارے کفار کی آنکھوں میں پہنچا دینا، دوسرا یہ کہ اس تھوڑی سی مٹی بھر مٹی کا ان میں سے ہر ایک کی آنکھ کو بھر دینا جب کہ ان کی تعداد چار ہزار تھی۔ میں کہتا ہوں اس میں اس مٹی سے ان کا شکست کھا جانا یہ تیسرا معجزہ ہے جیسا کہ فولوا مدبرين سے اس کا اشارہ ملتا ہے۔ (مرقات)۔