العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٩١ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ حُنَيْنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ لِرَجُلٍ1 مِمَّنْ مَعَهُ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ: هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ». فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ مِنْ أَشَدَّ الْقِتَالِ، وَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الَّذِي تُحَدَّت أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ قَدْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللهِ مِنْ أَشَدَّ الْقِتَالِ، فَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ». فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ يَرْتَابُ، فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ إِذْ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى كِنَانَتِهِ، فَانْتَزَعَ مِنْهَا سَهْمًا فَانْتَحَرَ بِهَا، فَاشْتَدَّ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ قَدِ انْتَحَرَ فُلَانٌ وَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : اللهُ أَكْبَرُا أَشْهَدُ أَنَّيْ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُوْلُهُ، يَا بِلَالُ: قُمْ فَأَذَّنْ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَإِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ2 هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6606 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: to a man: Meaning regarding him and his affair. Al-Nawawi said: The man’s name is Qurman. Al-Khatib al-Baghdadi said this, and he was a hypocrite. In Jami’ al-Usul: “This is from the people of the Fire” is the quoted speech. His statement: the wounds: With kasra on jīm, plural of wound. His statement: he killed himself with it: The point: He died a disbeliever due to his evil interior or a sinner by suicide. His statement: no one enters Paradise except a believer: Pure caution against hypocrites or a complete believer; the intent is entering with the successful without preceding punishment. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: Allah supports this religion with the wicked man: Meaning the hypocrite or sinner who acts for show or mixes sin, perhaps with a bad end, we seek refuge in Allah. The sentence could be under the adhan or a new explanation for differing speakers. Like one who compiles, teaches, learns, calls adhan, leads, follows, or builds a mosque, school, or corner for corrupt purpose and bad intent that organizes religion and maintains Muslims, its owner among the deprived—may Allah make us of the sincere. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : لرجل : أي في حقه وشأنه، فقال النووي: اسم الرجل قرمان. قاله الخطيب البغدادي، وكان من المنافقين. كذا في جامع الأصول». هذا من أهل النار مقول للقول». وقوله: «الجراح» بكسر الجيم جمع الجراحة، على ما في القاموس». وقوله: «فانتحر بها». والحاصل : أنه مات كافرا لخبث باطنه أو فاسقا بقتل نفسه. وقوله: «لا يدخل الجنة إلا مؤمن أي خالص احتراز عن المنافقين أو مؤمن كامل، فالمراد دخولها مع الفائزين دخولا أوليا غير مسبوق بعذاب. كذا في المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: وإن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر : أي المنافق أو الفاسق ممن يعمل رياء، أو يخلط به معصية، وربما يكون عملا به سوء الخاتمة، نسأل الله العافية، والجملة يحتمل أن تكون داخلة تحت التأذين، أو استئناف بيان لاختلاف أحوال القائلين. ومن نظائره من يصنف أو يدرس أو يعلم أو يتعلم أو يؤذن أو يؤم أو يأتم، وأمثال ذلك كمن يبني مسجدا أو مدرسة أو زاوية لغرض فاسد و قصد كاسد مما يكون سببا لنظام الدين وقوام المسلمين، وصاحبه من جملة المحرومين جعلنا الله تعالى من المخلصين. كذا في «المرقاة».
Note 1
(118) قوله: لرجل۔ یعنی اس سے متعلق اور اس کی حالت سے متعلق امام نووی نے فرمایا کہ اس شخص کا نام قزمان تھا اور خطیب بغدادی نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے اور وہ منافقین میں سے تھا۔ (جامع الاصول) هذا من اهل النار یہ قول کا مقالہ ہے۔ وقوله: الجراح۔ جیم کو زیر (کسرہ) ہے اور یہ جراحہ کی جمع ہے۔ (قاموس)۔ وقوله: فانتحر بها۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ کافر مرا کیونکہ اس کے باطن میں خبث تھا یا وہ فاسق مرا کیونکہ اس نے اپنے آپ کو قتل کر لیا۔ وقوله: لا يدخل الجنة الا مؤمن۔ یعنی ایمان میں اخلاص والا اس میں منافقین سے احتراز ہے یا مراد مومن کامل ہے جو بغیر کسی عذاب کے اول وقت جنت میں داخل ہونے والوں کے ساتھ جانے والا ہے۔ (مرقات)۔ (119)قولہ: وان الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر. یعنی منافق یا فاسق ان لوگوں میں سے ہے جو دکھاوے کے لئے عمل کرتے ہیں۔ یا عمل میں معصیت کو بھی ملا دیتے ہیں، اور کبھی یہ سوء خاتمہ کا سبب بنتا ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلبگار ہیں اور یہ جملہ ہوسکتا ہے تاذین کے تحت ہو یعنی اس بات کا اعلان کردو کہ فاجر آدمی سے اس دین کی تائید کرلیگا۔ یا ہوسکتا ہے کہ یہ نیا جملہ ہو جو قاتلین کے احوال کے اختلاف کا بیان ہو، اور اس کی بعض مثالیں یہ ہیں کہ کوئی تصنیف کرتا ہے، کوئی درس دیتا ہے، کوئی تعلیم دیتا ہے، کوئی علم حاصل کرتا ہے، یا اذان دیتا ہے، یا امامت کرتا ہے، یا اقتداء کرتا ہے، اور اس جیسی مثالوں میں سے کوئی مسجد بناتا ہے کوئی مدرسہ بناتا ہے یا خانقاہ بناتا ہے اور ان سے ان کی غرض فاسد ہوتی ہے اور مقصد غلط ہوتا ہے مگر وہ دین کے نظام کا سبب بنتا ہے اور مسلمانوں کے فائدہ کا سبب بنتا ہے تاہم ایسا شخص محروم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مخلصین بلکہ مخلصین میں سے بنائے آمین۔(مرقات)۔