اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7388
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ نے کہا کہ ایک عورت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئی اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ! میرے بیٹے کو جنون لاحق ہو گیا ہے اور وہ ہماری صبح اور ہماری شام اسے متاثر کرتا ہے تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور دعاء فرمائی تو وہ ایک قے کیا(152) اور اس کے
پیٹ سے کتے کے کالے بچے کے مانند ایک چیز دوڑتی ہوئی نکل گئی۔ (دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Darimi 17 (unverified) 35% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 5926 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 5926
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “vomited”: with a tha and emphasized ‘ayn, meaning he vomited. His statement “a vomit”: meaning a single instance of vomiting, as in An-Nihayah: vomiting is the act, and a vomit is one instance. His statement “puppy”: meaning a dog’s offspring. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فتع بالمثلثة والعين المشددة، أي قاء. وقوله: «ثعة» أي قيئة واحدة، ففي النهاية»: الثع: القيء، والثعة: المرة الواحدة. وقوله: «الجرو» أي ولد الكلب. كذا في «المرقاة».
Note 1
(152) قولہ فثع۔ اس میں ثاء اور ع ہے، عین کو تشدید ہے، اس کے معنی ہیں وہ نے قے کیا۔ وقولہ: ثعة۔ یعنی ایک قے کیا، کتاب نہایہ میں ہے ثع کے معنی قے ہے اور ثعة کے معنی ایک مرتبہ قے کرنا۔ وقولہ: الجرو۔ یعنی کتے کا بچہ۔ (مرقات)۔