اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7395
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب جنگ(5)
احد کا وقت آیا تو میرے والد نے مجھے رات میں بلایا اور کہا میں یہ سمجھتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کے صحابہ میں جو شہید ہوں گے، ان میں سب سے پہلے میں شہید ہوں گا، اور میں اپنے پیچھے تم سے ز
یادہ کوئی عزیز شخص نہیں چھوڑ رہا ہوں، سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک کے، اور مجھ
پر کچھ قرض ہے سو تم اسے ادا کر دینا اور اپنی بہنوں کے ساتھ بھلائی کرنا، سو جب ہم نے صبح کی تو سب
سے پہلے شہید ہونے والے وہی تھے، میں نے انہیں(6) ایک اور دوسرے شخص کے ساتھ ایک ہی قبر
میں دفن کیا(بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1351 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) His statement “when Uhud approached”: meaning its battle. His statement “except the soul of the Messenger of Allah (ﷺ)”: meaning he was more beloved to him than his own soul. His statement “enjoin good for my sisters”: meaning accept my bequest for them, and they were nine. “Good” is in apposition to the object, meaning seeking the best. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “I buried him with another in a grave”: Ibn al-Malik said: It is evidence for the permissibility of burying two in one grave. (As stated in Al-Mirqat) The apparent meaning is when there is necessity. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: لما حضر أحد أي حربه. وقوله: غير نفس رسول الله ﷺ أي فإنه أعز علي حتى من نفسي. وقوله: واستوص بأخواتك أي اقبل وصيتي فيهن، وهن كن تسعا، ثم انتصاب قوله: «خيرا على المصدر، أي استيصاء خير. التقطته من المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: دفنته مع آخر في قبر : قال ابن الملك: فيه دليل على خواز دفن الاثنين في قبر واحد، انتهى. والظاهر أن محله إذا كان ضرورة. كذا في «المرقاة».
Note 1
اور صاحب ردالمحتار نے کہا کہ صرف ضرورت کے وقت ہی دو میتوں کو ایک قبر میں دفن کیا جا سکتا ہے، یہ ابتداء کی بات ہے اور بعد میں اسی طرح ہوا۔
Note 2
(5) قوله: لما حضر أحد. یعنی جب احد کی جنگ ہوئی۔ وقوله: غير نفس رسول الله صلى الله عليه وسلم. (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کے علاوہ) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ وقوله: واستوص بأخواتك یعنی اپنی بہنوں کے بارے میں میری وصیت قبول کرو اور وہ نو تھیں، اور خیراً کو نصب (زبر) مصدر یعنی مفعول مطلق کی بنا پر ہے۔ استیصاء خیر یعنی ان کے ساتھ خوب بھلائی کرنا۔ (مرقات)۔ (6) قولہ : دفنته مع آخر في قبر. (میں نے ان کو ایک دوسرے شخص کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا) علامہ ابن الملک نے فرمایا: اس (روایت) میں قبر میں دو حضرات کو دفن کرنے کے جائز ہونے پر دلیل ہے۔(انتہی)۔ اور راجح بات یہ ہے کہ ایسا کرنا صرف ضرورت کے وقت ہی جائز ہے۔(مرقات)۔