العربية
Typed, pending editorial approval
٥٧٣٠ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، وَهَذَا1 أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4428 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “this is the time I feel”: At-Tibi said: “Time” can have dammah or fathah; dammah as predicate of the subject, fathah due to attribution to the constructed. This is the preferred, as in the day I was born and the night I was taken on the Journey. The meaning: This is the moment I feel. His statement “my aorta”: with fathah on hamzah and ha between two waws, a vein connected to the heart; if severed, its owner passes away. It is said: The aorta originates from the head and extends to the foot, with arteries connecting to most limbs and body. The one in the head is called “the nape,” extending to the throat as the jugular, to the chest as the aorta, and to the leg as the thigh. The hamzah in “aorta” is added. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: هذا أوان وجدت: قال الطيبي: يجوز في أوان الضم والفتح فالضم؛ لأنه خبر المبتدأ والفتح على البناء الإضافته إلى المبني. قلت: وهذا هو المختار على ما سبق في يوم ولدته وليلة أسري به، والمعنى. وهذا زمان صادفت. وقوله: أبهري بفتح الهمزة والهاء بينهما موحدة، وهو عرق يتعلق به القلب، فإذا انقطع مات صاحبه. وقيل: الأبهر عرق منشؤه من الرأس ويمتد إلى القدم وله شرايين تتصل بأكثر الأطراف والبدن، فالذي في الرأس منه يسمى «النامة»، ويمتد إلى الحلق فيسمى الوريد، ويمتد إلى الصدر فيسمى «الأبهر»، ويمتد إلى الساق فيسمى الصافن»، والهمزة في «الأبهر زائدة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(15) قوله: هذا اوان وجدت. علامہ طیبی نے فرمایا اوان میں پیش اور زبر (فتح) دونوں جائز ہیں۔ پیش اس لئے کہ (حاشیہ صفحہ گزشتہ سے) مبتدا کی خبر ہے اور فتحہ (زبر) اس لئے کہ مبنی کی طرف مضاف ہے میں کہتا ہوں قول مختار فتحہ ہے۔ جیسا کہ يوم ولدته اور ليلة اسرى به میں گزر چکا ہے۔ یعنی میں اس کو اس وقت محسوس کر رہا ہوں۔ قولہ: ابہری ہمزہ اور با دونوں کو زبر (فتحہ) ہے، اور دونوں کے درمیان ہاء ہے اس رگ سے دل کا تعلق ہے جب وہ کٹ جائے تو آدمی مر جاتا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ شہ رگ ہے جو سر سے پاؤں تک پھیلی ہوئی ہے اور اس کی شریانیں (باریک باریک رگیں) ہیں جو اطراف بدن سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں اور ان میں کی جو رگ سر میں ہوتی ہے اس کو نامہ کہتے ہیں اور یہ حلق تک پھیلی ہوئی ہوتی ہے تو اس کو ورید کہتے ہیں اور جو سینہ تک پھیلی ہوئی ہے اس کو ابہر کہتے ہیں اور پیٹھ کی تک پھیلی ہوئی ہے تو اس کو صافن کہتے ہیں ابہر کا ہمزہ زائد ہے۔ (مرقات)