English
Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: I said, “Oh, my head!” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If that were to happen while I am alive, I would seek forgiveness for you and pray for you.” Aishah said: “Oh, my loss! By Allah, I think you want me to die. If that happened, you would spend the rest of your day consummating with one of your wives!” The Prophet (ﷺ) said: “Rather, it is I who says, ‘Oh, my head!’ I intended or wanted to send for Abu Bakr and his son to make a bequest, lest some sayers say or wishers wish otherwise. But then I said: Allah refuses, and the believers refuse—or Allah refuses, and the believers push back.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٧٣٢ - وَعَنْ عَائِشَةَ(رضي الله عنها) أَنَّهَا قَالَتْ : 1وَا رَأْسَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرَ لَكِ وَأَدْعُوَ لَكِ». فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَا تُكْلِيَاهُ 2 وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي، فَلَوْ كَانَ ذَاكَ لَظَلِلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعَرِّسًا 3 بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: بَلْ أَنَا وَا رَأْسَاهُ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ، وَأَعْهَدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَأْبَى اللهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ أَوْ يَدْفَعُ اللَّهُ وَيَأْبَى الْمُؤْمِنُونَ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7420
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں(24) نے فرمایا:
ہائے میرا سر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر ایسا ہو جب کہ میں ہوں تو میں تمہارے
لئے مغفرت طلب کروں گا اور تمہارے حق میں دعا کروں گا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ہائے(25)
ہلاکت، قسم بخدا کیا میں یہ گمان کروں گی کہ آپ میری موت چاہتے ہیں اور اگر ایسا ہی ہوا تو آپ
اپنے اس دن کے آخر میں اپنی کسی اور زوجہ مطہرہ کے پاس آرام (26) فرمائیں گے تو نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میرے سر میں تکلیف ہے، یقیناً میں نے سوچا ہے یا فرمایا میں نے ارادہ کیا ہے
کہ ابوبکر اور ان کے صاحبزادے کو بلاؤں اور ان کے لئے خلافت کا عہد لے لوں کہ کہیں کہنے والے
کہنے لگیں اور تمنا کرنے والے تمنا نہ کریں پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ اس کا انکار کرے گا اور مسلمان اس کو
دفع کریں گے یا فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کو دفع کرے گا اور مسلمان اس کا انکار کریں گے۔(بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5666 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) Her statement “Oh, my head!”: due to a severe headache, she lamented her head, alluding to the signs of departure. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) Her statement “Oh, my loss!”: with fathah or dammah on the ta, meaning the signs of departure, destruction, or loss of a loved one or child. The literal meaning is not intended; rather, it is an expression used in moments of distress or calamity. (As stated in Al-Lama’at)
Note 3
(3) Her statement “consummating”: with dammah on the mim, then sukoon, then kasrah. In some copies, it is “consummated” with tashdid on the ra. His statement “Rather, it is I who says, ‘Oh, my head!’”: “Rather” is for rebuttal, meaning set aside your headache and focus on me, for my matter is more significant than yours. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : قالت: أي لشدة صداع بها : وا رأساه ندبت رأسها، وأشارت إلى الموت. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: والكلياه: بفتح المثلثة وضمها الموت والهلاك وفقدان الحبيب والولد، وليست حقيقة الكلام مرادة بل هو كلام يجري على ألسنتهم عند التوجع والمصيبة. كذا في «اللمعات».
Note 3
(۳) قوله: معرسا بضم ميم فسكون فكسر. وفي نسخة بتشديد الراي عريسا. وقوله: بل أنا وارأساه» «بل» للإضراب، أي دعي ما تجدين من وجع رأسك واشتغلي بي؛ فإنه أهم من أمرك. كذا في «المرقاة».
Note 1
(24) قوله: قالت :(انہوں نے فرمایا) یعنی ان کے سر کی سخت تکلیف کی وجہ سے فرمایا ”وارأساه“ (ہائے میرا سر) سر کی شدت تکلیف کی وجہ سے پکارا اور موت کی جانب اشارہ کیا۔ (مرقات) (25) قوله: واثكلياه (ہائے ہلاکت) ثاء کو زیر اور پیش ہے جس کے معنی موت و ہلاکت کے اور محبوب اور بچہ کو گم پانے کے ہیں، یہاں کلام کی حقیقت مراد نہیں بلکہ یہ ایسا جملہ ہے جو تکلیف اور مصیبت کے وقت لوگوں کی زبانوں پر جاری ہوتا ہے۔ (26) قولہ مُعْرِسًا (آرام فرمائیں گے) میم کو پیش پھر جزم پھر زیر ہے اور ایک نسخہ میں راء کو تشدید ہے یعنی کسی زوجہ کے پاس گزریں گے، ”بل انا وارأساه“ (بلکہ میرے سر میں تکلیف ہے) ”بل“ گفتگو کا رخ تبدیل کرنے کے لئے ہے یعنی تم اپنے سر کی جو تکلیف پاتی ہو اُسے چھوڑ دو اور میری تکلیف کی طرف متوجہ ہو جاؤ کیونکہ وہ تمہارے معاملہ سے اہم ہے۔(مرقات)