Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5759

باب ”قریش کے مناقب کا بیان اور قبائل کا ذکر“ ختم ہوا

In this book

Current reading

the Virtues

باب ”قریش کے مناقب کا بیان اور قبائل کا ذکر“ ختم ہوا

Zujajat al-Masabih 5759Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7448
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ قبیلہ ازد(18) اللہ کی فوج ہے۔ زمین میں لوگ ان کو پست کرنا چاہتے ہیں اور اللہ انکار کرتا ہے سوائے اس کے کہ وہ ان کو بلند کرے گا اور لوگوں پر ضرور ایک ایسا زمانہ آئیگا کہ کوئی بھی آدمی کہے گا کاش میرے والد ازدی ہوتے کاش میری ماں ازدیہ ہوتیں۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3937 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.885

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The Azd

(1) His statement “The Azd”: meaning Azd Shanuwah, a forefather of a Yemeni tribe, from whom all the Ansar descend. His statement “lions of Allah”: meaning His soldiers and supporters of His religion. The Qadi said: They are attributed to Allah as His party and supporters of His Messenger. At-Tibi said: His statement “lions of Allah” has several interpretations. First, they are known by this name because they are steadfast in war and do not flee, as mentioned in the previous Hadith. Second, the attribution is for honor and distinction, like the House of Allah or the She-Camel of Allah, as indicated by his statement: “People wish to lower them, etc.” Third, it refers to courage, with the expression being metaphorical, i.e., the lions are Allah’s lions, either for rhyming or by changing sin to zay. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: الأزد: أي أزد شنوءة وهو أبو حي من اليمن، ومن أولاده الأنصار كلهم. وقوله: «أزد الله» أي جنده وأنصار دينه. قال القاضي : وأضافهم إلى الله تعالى من حيث إنهم حزبه وأهل نصرة رسوله. قال الطيبي: قوله: «أزد الله يحتمل وجوها، أحدها اشتهارهم بهذا الاسم؛ لأنهم ثابتون في الحرب لا يفرون، على ما مر في الحديث السابق، وعليه كلام القاضي. وثانيها أن تكون الإضافة للاختصاص والتشريف، كبيت الله وناقة الله على ما يدل عليه قوله: يريد الناس أن يضعوهم إلخ». وثالثها: أن يراد بها الشجاعة، والكلام على التشبيه، أي الأسد أسد الله، فجاء به إما مشاكلة أو قلب السين زايا. كذا في «المرقاة».

Note 1

(18) قوله الازد:۔ یعنی ازد شنوءہ اور یمن کے ایک اہل قبیلہ کے والے ہیں، اور انصار ان ہی کی اولاد ہیں۔ وقوله: ازد الله۔ اس کے معنی ہیں اللہ کی فوج اور اس کے دین کے مددگار۔ علامہ قاضی نے فرمایا: ازد کی اضافت اللہ کی طرف اللہ والے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے والے ہیں۔ علامہ طیبی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ازد اللہ فرمانے کے کئی وجوہ ہیں:(1) ان میں سے ایک یہ کہ وہ جنگ میں ثابت قدم رہتے ہیں بھاگتے نہیں۔ جیسا کہ سابق حدیث شریف میں گزرا ہے، اور علامہ قاضی نے بھی یہی فرمایا ہے۔ (2) دوسری وجہ اس میں اضافت اختصاص اور اظہار شرافت کے لئے ہے، جیسے بیت الله اور ناقة الله ہے۔ اور اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان يريد الناس ان يضعوهم الخ دلیل ہے۔ اور (3) تیسری وجہ یہ ہے کہ اس سے مراد شجاعت وبہادری ہے اور یہ کلام تشبیہ کا ہے جیسے الاسد اسد الله یعنی شیر تو اللہ کا شیر ہے۔ یا اس کو بطور مشاکلت لایا گیا ہے یا سین کو زائی سے بدل دیا گیا ہے۔ (مرقات)