Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5761

Chapter on the Virtues of Quraysh and Mention of the Tribes

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of Quraysh and Mention of the Tribes

Zujajat al-Masabih 5761Volume 5

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “In Thaqif, there is a liar and a destroyer 1.” Abdullah ibn Ismah said: It is said the liar 2 is Al-Mukhtar ibn Abi Ubayd, and the destroyer 3 is Al-Hajjaj ibn Yusuf. Hisham ibn Hassan said: They counted those Al-Hajjaj killed in captivity 4, reaching one hundred twenty thousand. [Narrated by At-Tirmidhi] Muslim narrated in As-Sahih: When Al-Hajjaj killed Abdullah ibn az-Zubayr, Asma said: The Messenger of Allah (ﷺ) told us that in Thaqif there would be a liar and a destroyer. As for the liar, we have seen him; as for the destroyer, I think it is none but you.

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٧٦١ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : فِي ثَقِيفَ كَذَّابٌ وَمُبِيرُ».1 قَالَ عَبْدُ اللهِ ابْنُ عِصْمَةٍ : يُقَالُ: الْكَذَّابُ2 هُوَ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، وَالْمُبِيرُ3 هُوَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ، وَقَالَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ: أَحْصَوْا مَا قَتَلَ الْحَجَّاجُ صَبْرًا4 فَبَلَغَ مِائَةَ أَلْفٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ. وَرَوَى مُسْلِمُ فِي الصَّحِيحِ»: حِيْنَ قَتَلَ الْحَجَّاجُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَتْ أَسْمَاءُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ حَدَّثَنَا أَنَّ فِي ثَقِيفِ كَذَّابًا وَمُبِيرًا، فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7450Noor 7451
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے آپ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا ہے (20) عبداللہ بن عصمہ نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ جھوٹا مختار بن عبید ہے (21)۔ اور ہلاک کرنے والا حجاج بن یوسف ہے (22)۔ اور ہشام بن حسان نے کہا تم شمار کرو حجاج نے باندھ کر کتنے قتل کے تو وہ ایک لاکھ بیس ہزار ہوئے (23)۔ اس کی روایت امام ترمذی نے کی ہے۔ (ترمذی) اور امام مسلم نے صحیح مسلم میں روایت لائی ہے جس وقت حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کیا تو حضرت اسماءؓ فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا کہ ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا ہوگا اب رہا جھوٹا اس کو ہم نے دیکھ لیا اور رہا ہلاک کرنے والا میں تجھ کو نہیں سمجھتی مگر یہی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2545 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3944 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (9)

Note 1

destroyer

(1) His statement “destroyer”: meaning a corrupter and annihilator. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

the liar is Al-Mukhtar ibn Abi Ubayd

(2) His statement “the liar is Al-Mukhtar ibn Abi Ubayd”: with diminutive form, meaning Ibn Mas‘ud ath-Thaqafi. He rose after Husayn’s martyrdom, calling people to seek his vengeance, aiming to draw people’s favor to himself and gain leadership. He sought worldly gain deceptively, as the Qadi mentioned. Some said he hated Ali. Others said he claimed prophethood in Kufa, hence called a liar, claiming Jibril brought him revelation, as Ibn al-Malik noted. Ibn Abd al-Barr said: His father was among the companions; Al-Mukhtar was born in the year of Hijrah, had no companionship, narration, or sighting, and his reports are unsatisfactory. He was initially counted among the virtuous and good, but his pursuit of leadership until Mus‘ab ibn az-Zubayr killed him in 77 AH revealed what he concealed. He falsely sought Husayn’s vengeance to mask his pursuit of worldly gain and leadership. His rule lasted sixteen months. It is said he was initially a Khariji, then a Zubayri, then a Rafidi. He harbored hatred for Ali (may Allah honor his face) but showed it due to his weak intellect at times, as Mirak cited from At-Tashih. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

the destroyer is Al-Hajjaj ibn Yusuf

(3) His statement “the destroyer is Al-Hajjaj ibn Yusuf”: The author of Mishkat said: He was Abd al-Malik ibn Marwan’s governor over Iraq and Khurasan, then his son Al-Walid’s, and died in Wasit in Shawwal 75 AH, aged fifty-four. (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

in captivity

(4) His statement “in captivity”: with fathah then sukoon, meaning detained or imprisoned, not in battle or stealth. His statement “I think it is none but you”: The commentator said “I think” with fathah means estimation, but with kasrah is more eloquent, meaning I do not suppose it is anyone but you. It is said: The apparent meaning is “I think it is none but you,” with the second object advanced for emphasis. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : مبير : أي مفسد ومهلك. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: الكذاب هو المختار بن أبي عبيد بالتصغير، وهو ابن مسعود الثقفي، قام بعد وقعة الحسين ودعا الناس إلى طلب ثاره، وكان غرضه في ذلك أن يصرف إلى نفسه وجوه الناس ويتوسل به إلى الإمارة، وكان طالبا لدنيا مدلسا في تحصيلها، كذا ذكره القاضي. وقيل: كان يبغض عليا. وقيل: كان يدعي النبوة بكوفة فسمي كذابا، ومن جملة كذبه دعواه أن جبريل يأتيه بالوحي، ذكره ابن المك. وقال ابن عبد البر : كان أبوه من جملة الصحابة، ولد المختار عام الهجرة، وليست له صحبة ولا رواية ولا رؤية وأخباره غير مرضية، وذلك من طلب الإمارة إلى أن قتله مصعب بن الزبير سنة سبع وسبعين، وكان قبل ذلك معدودا في أهل الفضل والخير، يظهر بذلك كله، ولا يكتم الفسق، فظهر منه ما كان يكتمه إلى أن فارق ابن الزبير وطلب الإمارة، وكان المختار يزيف بطلب دم الحسين، ويستر طلب الدنيا والإمارة، فيأتي منه الكذب والجنون، وإنما كانت أمارته ستة عشر شهرا، ويقال: كان في أول أمره خارجيا، ثم صار زبيريا، ثم صارا رافضيا، وكان يضمر بغض علي كرم الله وجهه، ويظهر منه لضعف عقله أحيانا، كذا نقله ميرك عن التصحيح. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: المبير هو الحجاج بن يوسف: قال صاحب المشكاة»: هو عامل عبد الملك بن مروان على العراق وخراسان وبعده لابنه الوليد، مات بواسط في شوال سنة خمس وسبعين، وعمره أربع وخمسون سنة. كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: صبرا بفتح فسكون، أي مصبورا، يعني محبوسا مأسورًا لا في معركة ولا خلسة. وقوله: «فلا أخالك» قال شارح أخال بالفتح هو القياس، وبالكسر وهو الأفصح، أي لا أظنك إلا إياه. قيل : والظاهر فلا أخاله إلا إياك، فقدمت المفعول الثاني للاهتمام. كذا في «المرقاة».

Note 1

(20) قوله: مبير۔ یعنی فساد کرنے والا اور ہلاک کرنے والا۔ (مرقات) (21) قوله: الكذاب۔ یہ مختار بن ابو عبید ہے۔ عبید مصغر ہے اور یہ ابن مسعود ثقفی ⟦?⟧ ہے۔ یہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اٹھا اور لوگوں کو آپ کی شہادت کا بدلہ لینے کے لئے بلایا اس سے اس کی غرض لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا اور اس کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنا تھا یہ دنیا کا طلبگار تھا اور حصول دنیا کے لئے بڑا دھوکہ باز تھا۔ علامہ قاضی نے اسی طرح بیان کیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے بغض رکھتا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے وہ کوفہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا تھا اس کا نام کذاب ہو گیا اس کے منجملہ جھوٹ کے اس کا دعویٰ تھا حضرت جبرئیل علیہ السلام اس کے پاس وحی لے کر آتے ہیں۔ علامہ ابن ملک نے اس کا ذکر کیا ہے۔ علامہ ابن عبدالبر نے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) کہا ہے کہ اس کے والد صحابہ میں سے ہیں اور مختار ہجرت کے سال پیدا ہوا وہ صحابی نہیں ہے اور اس سے کوئی روایت بھی نہیں ہے۔ اور اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار بھی نہیں ہے۔ اس کی خبریں ناپسندیدہ ہیں اور وہ جب اقتدار کو طلب کیا یہ اس وقت کا قصہ ہے یہاں تک اس کو حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (77) ستر سات ہجری میں قتل کر دیا۔ اس سے پہلے وہ اہل فضل و خیر حضرات میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ ان سب کا خوب اظہار کرتا تھا لیکن اس سے فسق چھپ نہیں سکا اس سے وہ ظاہر ہو گیا۔ جس کو وہ چھپانا چاہتا تھا یہاں تک وہ حضرت ابن الزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھوڑا اور اقتدار کی خواہش کیا اور مختار امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ خوبصورت انداز میں پیش کرتا اور اس کے پیچھے اپنا مقصد دنیا طلبی اور حصول اقتدار کی خواہش کو چھپاتا تھا تو اس سے جھوٹ اور پاگل پن ظاہر ہوتا تھا اس کی حکومت سولہ مہینے رہی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ شروع میں خارجی تھا پھر زبیری بن گیا پھر رافضی ہو گیا اور سیدنا علی مرتضی کرم اللہ وجہہ سے اپنے بغض کو چھپاتا تھا اور بھی اس کی کم عقلی کی وجہ سے یہ بات ظاہر ہو جاتی تھی علامہ میرک نے کتاب صحیح سے یہ بات نقل کی ہے۔ (مرقات) (22) قوله: المبير هو الحجاج بن يوسف۔ صاحب مشکوۃ نے کہا ہے کہ یہ عبدالملک بن مروان کی طرف سے عراق اور خراسان پر گورنر تھا اور اس کے بعد اس کے بیٹے ولید کا گورنر رہا۔ ماہ شوال 57ھ پچھتر ہجری شہر واسط میں اس کا انتقال ہوا اس وقت اس کی عمر 54 سال تھی۔ (مرقات) (23) قوله صبرا۔ صاد کو زبر اور با کو جزم یہ مصبور کے معنی میں ہے، روک کر اور گرفتار کر کے بغیر کسی جنگ و جھپٹ کے۔ قوله: فلا اخالك۔ ایک شارح نے کہا اخال میں ہمزہ کو فتحہ قیاس کے مطابق ہے لیکن ہمزہ کسرہ کے ساتھ پڑھنا فصیح تر ہے، اس کے معنی ہیں لا اظنك الا اياه میں تجھ کو یہی سمجھتی ہوں اور یہ بھی کہا گیا ہے یہ فلا اخاله الا اياك ہے۔ میں وہ تجھ کو ہی سمجھتی ہوں اس میں مفعول ثانی کو اہتمام کے لئے مقدم کر دیا گیا ہے۔ (مرقات)