اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7501
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضرت عمر بن خطاب کو چار
باتوں سے تمام لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے(11) جنگ بدر کے دن قیدیوں کے بیان میں سے کہ آپ
نے ان کو قتل کر دینے کا مشورہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ
لَمَسَّكُمْ فِيْمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ، (8-الانفال، آیت نمبر:68) اگر اللہ کی کتاب پہلے
سے نہ ہوتی تو(12) تم نے جو کچھ لیا ہے اس میں تم کو عذاب عظیم آ جاتا۔ اور آپ کا پردہ کا بیان کرنے
کے سبب سے(13) آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو پردہ کرنے کا مشورہ دیا تو حضرت
زینب نے فرمایا اے ابن خطاب تم ہم پر حکم چلاتے ہو حالانکہ وحی ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے
تو اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی: وَإِذَا سَأَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ ۔
(33۔ الاحزاب، آیت نمبر:53) اور جب تم ان سے سوال کرو تو پردہ کے پیچھے سے سوال کرو۔ اور
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے سبب سے کہ ”اَللّٰهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ“ اے اللہ! عمر کے
ذریعہ اسلام کو قوت دے۔ اور ابوبکر کے بارے میں آپ کی رائے ہے کہ آپ نے سب سے پہلے ان
کے لئے بیعت کی۔ (احمد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 6046 (unverified) 35% confidence
- Candidate: Musnad Ahmad 3632 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 6046
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) His statement “surpassed people”: with dammah on the fa and tashdid on the dad mu’jamah, with “people” as the second object, preceding the subject “Umar ibn al-Khattab,” meaning Allah distinguished him with four matters. His statement “by mentioning the prisoners”: meaning by mentioning them or discussing them. His statement “he ordered their killing” is a new sentence or a circumstantial clause. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “Had it not been for a decree”: meaning a ruling from Allah, either recorded in the Preserved Tablet or known, that the mistaken in ijtihad are not punished, or that the people of Badr are forgiven. “For what you took” refers to the ransom from the disbelievers, a mistake in ijtihad based on taking wealth to strengthen the believers or hoping for their faith. Abu Bakr and those favoring leniency held this view, while Umar and those favoring severity said they should be killed as leaders of disbelief. Due to the Prophet’s inclination toward leniency, he chose Abu Bakr’s view. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فضل الناس: بضم فاء وتشديد ضاد معجمة، ونصب الناس على أنه مفعول ثان مقدم على نائب الفاعل وهو قوله: عمر بن الخطاب أي فضله الله عليهم لاختصاصه بأربع. وقوله: بذكر الأسارى» أي بذكره إياهم أو بذكرهم عنده. وقوله: «أمر بقتلهم استئناف أو حال. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: لولا كتاب: أي حكم من الله سبق أي إثباته في اللوح أو في العلم بأنه لا يعاقب المخطئ في اجتهاده، أو أن أهل بدر مغفور لهم لمسكم أي لأصابكم فيما أخذتم أي من الفداء عوضا عن الأعداء عذاب عظيم» أي في الدنيا قبل الأخرى، وكان أخذهم الفدية يوم بدر من الكفار خطأ في الاجتهاد مبنيا على أن أخذ المال منهم أنسب؛ ليتقوى المؤمنون به، ولعلهم يؤمنون به بعد ذلك ذهب إليه أبو بكر، ومن تبعه من أرباب الجمال، أو بل ينبغي قتلهم؛ فإنهم أئمة الكفر ورؤساؤه، وهو قول عمر ومن وافقه من أصحاب الجلال، ولما كان من كماله مائلا إلى الجمال اختار قول الصديق. كذا في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله: وبذكره الحجاب والضمير لعمر. وقوله: وإنك علينا أي تحكم أو تغار. وقوله: «بدعوة النبي» أي وبإجابة دعائه في حقه بقوله: «اللهم أيد الإسلام أي أعزه بعمر وبرأيه في أبي بكر » أي باجتهاده في شأن أبي صدا الله بكر حال خلافته كان أول الناس بايعه أي أبا بكر ، ثم غيره تابعه. كذا في «المرقاة».
Note 1
(11) قوله: فضل الناس. فا کو ضمہ اور ضاد کو تشدید اور الناس مفعول دوم ہونے کی بناء پر زبر ہے اور نائب فاعل پر مقدم ہے اور نائب فاعل عمر بن خطاب ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پر فضیلت عطا کی ان کی چار خصوصیات کی بناء پر۔ وقوله: بذكر الاسارى یہ اصل میں بذکرہ ایاہم یا بذکرہم عندہ ہے یعنی آپ نے جو ذکر کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کا وقوله: امر بقتلهم یہ نیا جملہ ہے یا حال ہے۔ (مرقات) (12) قوله: ”لَوْ لَا كِتٰبٌ“ یعنی پہلے سے اللہ کا حکم نہ رہا ہوتا یعنی لوح محفوظ میں یا اللہ کے علم میں یہ ثبوت پایا نہ ہوتا کہ اجتہاد میں غلطی کو گرفت نہیں کیا جائے گا۔ یا یہ بات کہ اہل بدر کی مغفرت ہے یہ ثبوت پایا نہ ہوتا تو تم کو عذاب پہنچ جاتا ۔ ”فِيْمَا أَخَذْتُمْ“ یعنی دشمنوں سے فدیہ میں جو کچھ معاوضہ لیا۔ عذاب عظیم سے مراد آخرت سے پہلے دنیا میں عذاب آ جاتا۔ جنگ بدر میں کفار سے جو فدیہ لیا گیا یہ اجتہادی غلطی ہے کفار سے فدیہ لینا اس بناء پر ہوا کہ مسلمانوں کو اس سے قوت حاصل ہو اور ہو سکتا ہے وہ اس کے بعد مسلمان ہو جائیں۔ اس کا مشورہ دینے والے حضرت ابوبکر اور ان کے ہم رائے ارباب جمال تھے۔ اور اس کے برخلاف رائے یہ کہ وہ کفر کے سرغنے ہیں ان کو قتل کر دینا چاہئے یہ مشورہ دینے والے حضرت عمر اور جوان سے اتفاق کرنے والے ارباب جلال تھے اور چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کمال کی وجہ مائل بہ جمال تھے تو حضرت صدیق کے قول کو پسند فرمایا۔ (مرقات) (13) قوله: بذكره الحجاب اس میں ضمیر کا مرجع حضرت عمر ہیں۔ وقوله: وانك علينا یعنی آپ ہم پر حکم چلاتے ہیں اور ہم کو غیرت دلاتے ہیں۔ وقوله: بدعوة النبي یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ کے حق میں دعا کہ اللهم ايد الاسلام بعمر اسلام کو قوت عطا فرمائے عمر سے وبرأيه فى ابى بكر رضى الله تعالىٰ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) عنہ اور قوت عطا فرمائے ابوبکر کی خلافت معاملہ میں ان کی اجتہاد سے۔ کان اول الناس بایعہ۔ یعنی سب سے پہلے ابوبکر کے ہاتھ پر آپ نے بیعت کی پھر دوسروں نے کی۔ (مرقات)