English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “While a man was driving a cow, he became tired and rode it. The cow said: ‘We were not created 1 for this; we were created for tilling the land.’ The people said: ‘Glory be to Allah! A cow speaking?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I believe in it 2, and so do Abu Bakr and Umar,’ though they were not present. He also said: ‘While a man was among his sheep, a wolf attacked 3 one of them and took it. The owner caught up and rescued it. The wolf said to him: ‘Who will protect it on the day 4 of the beast, when it has no shepherd but me?’ The people said: ‘Glory be to Allah! A wolf speaking?’ He said: ‘I believe in it, and so do Abu Bakr and Umar,’ though they were not present.” [Agreed Upon] In Radd al-Mukhtar, it is said: “Riding or loading a cow is permissible, but some say it should not be done 5, as each type of livestock was created for a specific purpose, and Allah’s command should not be altered.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٨١٧ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه)َنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ أَعْيَا فَرَكِبَهَا، فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ تُخْلَقْ1 لِهَذَا، إِنَّمَا خُلِقْنَا لِحَرَاثَةِ الْأَرْضِ». فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! بَقَرَةً تَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : فَإِنِّي2 أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» وَمَا هُمَا ثَمَّ، وَقَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ إِذْ عَدَا 3 الذَّئْبُ عَلَى شَاةٍ مِنْهَا، فَأَخَذَهَا فَأَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا، فَاسْتَنْقَذَهَا، فَقَالَ لَهُ الذَّنْبُ : فَمَنْ لَهَا يَوْمَ 4 السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي».
فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَمُ، فَقَالَ: «أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» وَمَا هُمَا ثَمَّ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَقَالَ فِي رَدَّ الْمُخْتَارِ»: وَجَازَ رُكُوبُ النَّوْرِ وَتَحْمِيلُهُ، وَقِيلَ: لَا يُفْعَلُ5 ؛ لِأَنَّ كُلَّ نَوْعٍ مِنَ الْأَنْعَامِ خُلِقَ لِعَمَلٍ، فَلَا يُغَيَّرُ أَمْرُ اللَّهِ تَعَالَى.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7515
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص ایک گائے لئے جا رہا تھا جب
وہ تھک گیا تو اس پر سوار ہو گیا تو گائے بولی ہم اس کے لئے پیدا نہیں کئے گئے(1) ہم تو زمین کی کھیتی
کیلئے پیدا کئے گئے ہیں تب لوگوں نے کہا سبحان اللہ گائے بولتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا میں اس پر ایمان رکھتا ہوں(2) اور ابوبکر عمر بھی ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ دونوں وہاں نہیں تھے۔
اور راوی نے کہا: ایک شخص اپنی بکریوں میں تھا کہ بھیڑیا اس میں سے ایک بکری پر حملہ کر دیا(3)
اور اس کو پکڑ لیا تو بکری والا اس کو پکڑ لیا اور بکری کو چھڑا لیا تو اس سے بھیڑیئے نے کہا کون ہوگا اس بکری
کا درندوں کے دن(4) کہ میرے سوا اس کا کوئی چرواہا نہیں ہوگا تو لوگوں نے کہا سبحان اللہ بھیڑیا
بات کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور ابوبکر و عمر بھی حالانکہ وہ
دونوں وہاں پر نہیں تھے۔
اور صاحب راحۃ نے فرمایا کہ بیل پر سواری کرنا اور اس پر بوجھ اٹھانا جائز ہے اور ایک قول
میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ کام نہیں کیا جانا چاہئے(5)، کیونکہ ہر جانور ایک خاص کام کے لئے پیدا کیا گیا
ہے اللہ تعالیٰ کا حکم بدلا نہیں جا سکتا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3471 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3663 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2388a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (11)
Note 1
(1) His statement “We were not created for this”: meaning for riding. His statement “The people said”: refers to those present. His statement “speaking” is the present tense with one taa omitted, meaning the cow speaks, though it is among silent animals. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “I believe in it”: is the response to an implied condition, i.e., the people found it astonishing, but I do not, and I believe in it, as do Abu Bakr and Umar. If you ask: How did he attribute belief to Abu Bakr and Umar when they were unaware and did not affirm it? We say: It means it is their nature to believe and affirm it without hesitation if informed. At-Turbashti said: He specified them for their certainty reaching the level of absolute conviction, where the truth is unveiled, leaving no room for astonishment. Ibn al-Malik said: His statement “in it” means I affirm what the angel informed me about the cow’s speech, as do Abu Bakr and Umar due to their strong faith in what I convey. (Derived from Al-Lama’at and Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement “attacked”: means it pounced on one of the sheep from the flock. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
(4) His statement “the day of the beast”: refers to a time of trials when people abandon their livestock, leaving no shepherd, and it becomes prey for wolves and beasts, with the wolf acting as its sole guardian. This warns of severe trials and hardships where people neglect their livestock, allowing beasts to seize them unhindered. (As stated in Al-Mirqat)
Note 5
(5) His statement “it should not be done”: In Al-Mirqat, it is said: The cow’s statement “We were not created for this, but for tilling” indicates that riding or loading cows is undesirable, as Ibn al-Malik noted, with the restriction being relative to emphasize the prior point. Ibn Hajar said: It suggests animals should only be used as custoMaryam (Mary). It may also imply exalting their created purpose without absolute restriction, as it is agreed they are created for slaughter and consumption. I say: The Hadith undoubtedly negates the permissibility of riding cows, especially since Allah affirmed it. The discussion is not about their slaughter or consumption, as these are established necessities in religion, exempted by Sharia and custom. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : لم نخلق لهذا: أي للركوب. وقوله: فقال الناس أي الحاضرون. وقوله: تكلم» بضم الميم مضارع حذف منه إحدى التاءين، أي البقرة تتكلم، والحال أنها من الحيوانات الصامتة. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: فإني أؤمن به جزاء شرط محذوف أي كان الناس يستغربونه ويتعجبون منه؛ فإني لا أستغربه وأؤمن به أنا وأبو بكر وعمر، فإن قلت: كيف أخبر الله بإيمان أبي بكر وعمر مع أنهما لم يعلمها، ولم يصدر عنهما الإيمان به؟ قلنا: المراد أنه من شأنه أنهما إن أطلعا عليه آمنا عليه وصدقا به، ولا يتردّدان. وقال التوربشتي: إنما أراد بذلك تخصيصهما بالتصديق الذي بلغ عين اليقين، وكوشف صاحبه بالحقيقة التي ليس وراءها للتعجب مجال. قال ابن الملك: قوله: به» أي أصدق أنا بما أخبرني به الملك من تكلم البقرة وأبو بكر وعمر لقوة إيمانهما بما أخبرت. التقطته من اللمعات» و«المرقاة».
Note 3
(۳) قوله: عدا: أي حمل على شاة منها أي من قطعة الغنم. كذا في «المرقاة».
Note 4
(٤) قوله : يوم السبع فالمراد به من لها عند الفتن حين يتركها الناس، لا راعي لها نهبة للذئاب والسباع، فجعل السبع لها راعيا؛ إذ هو منفرد بها. وهذا إنذار بما يكون من الشدائد والفتن التي يهمل الناس فيها مواشيهم، فيتمكن منها السباع بلا مانع. كذا في «المرقاة».
Note 5
(٥) قوله : لا يفعل إلخ : قال في المرقاة»: وفي قوله: لم نخلق لهذا إنما خلقنا الحراثة دلالة على أن ركوب البقر والحمل عليها غير مرضي كما ذكره ابن الملك فالحصر إضافي لتأكيد ما قبله. وقال ابن حجر: استدل به على أن الدواب لا تستعمل إلا فيما جرت العادة باستعمالها فيه. ويحتمل أن يكون ذلك إشارة إلى تعظيم ما خلقت لأجله ولم يرد الحصر في ذلك؛ لأنه غير مراد اتفاقا؛ لأن من جملة ما خلقت له أن تذبح وتؤكل بالاتفاق. قلت: لا شك أن الحديث يفيد نفي جواز ركوب البقر، لا سيما وقد قرره ل لنا، وليس الكلام في ذبحها وأكلها؛ لأنهما معلومان من الدين بالضرورة فهما مستثنيان شرعا وعرفا. كذا في المرقاة».
Note 1
(1) قوله: لم نخلق لهذا. یعنی سواری کیلئے پیدا نہیں کئے گئے۔ وقوله: فقال الناس: یعنی حاضرین نے کہا۔ وقوله: تکلم میم کو پیش ہے فعل مضارع ہے اور ایک تاء محذوف ہے یعنی البقرة تتكلم ہے حالانکہ گائے بے زبان جانوروں میں سے ہے (مرقات) (2) قوله: فانى او من به. یہ شرط محذوف کی جزا ہے یعنی اگر لوگ اس کو عجیب سمجھتے ہیں اور اس پر تعجب کرتے ہیں تو میں اس کو عجیب نہیں سمجھتا اور تعجب بھی نہیں کرتا، اس پر میں اور ابوبکر و عمر پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور اگر تم یہ کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور عمر کے ایمان کے بارے میں کیسے خبر دی حالانکہ وہ دونوں حضرات کو اس کا علم نہیں تھا اور ان دونوں سے اس پر ایمان لانے کا اظہار نہیں ہوا تھا۔ قلنا تو ہم کہیں گے اس سے مراد ان دونوں کی شان کو بیان کرنا ہے کہ اگر وہ مطلع ہو جائیں گے تو وہ اس پر ایمان لائیں گے اور تردد نہیں کریں گے علامہ تورپشتی نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے ان دونوں کی خصوصیت کا ذکر کرنے کا ارادہ فرمایا۔ کہ ان کو عین الیقین کے مرتبہ کی تصدیق حاصل ہے اور ان پر حقیقت کا ایسا کشف ہے جس کے ہوتے ہوئے تعجب کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ علامہ ابن الملک نے فرمایا بہ سے مراد یہ ہے کہ گائے جو بات کی ہے۔ جس کی فرشتے نے مجھے خبر دی ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور جس چیز کی مجھے خبر دی گئی ہے ابوبکر و عمر بھی اپنے قوت ایمان کی بناء پر اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ (ماخوذ از لمعات و مرقات) (3) قوله: عدا. ای حمل یعنی حملہ کیا۔ وقوله: علی شاة منها۔ یعنی بکریوں کے ریوڑ میں سے ایک بکری پر۔ (4) وقوله: يوم السبع: مطلب یہ ہے کہ گائے جو بات کی ہے جس کی فرشتے نے مجھے خبر دی ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ لا راعي لها: کو بھیڑیوں اور درندوں کے ان کو لوٹ لینے سے کون ان کی حفاظت کرنے والا ہوگا۔ جبکہ وہ درندہ اکیلا ان بکریوں میں رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس بھیڑیئے کو ہی ان کا محافظ بنا دے گا۔ یہ ایک آگاہی ہے یعنی مستقبل میں جو شر آئے اور فتنے رونما ہونے لگے اس سے آگاہ کرنا ہے کہ لوگ اس میں اپنے جانوروں کو بھی چھوڑ دیں گے بے پرواہ ہو جائیں گے اور بلا کسی رکاوٹ درندے ان پر قابو پا لیں گے۔ (مرقات) (5) قوله: لا يفعل الخ. صاحب مرقات نے فرمایا لم تخلق لهذا ہم اس کے لئے پیدا نہیں کئے گئے، ہم تو کھیتی باڑی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گائے پر سواری اور بار برداری کرنا پسندیدہ نہیں ہے علامہ ابن ملک نے ایسا ہی ذکر کیا ہے اور اس میں انما سے حصر اضافی قابل کی تا کید کے لئے ہے۔ علامہ ابن حجر نے فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کو جس کام میں استعمال کرنے کی عادت ہے اس کے برخلاف ان سے کام نہیں لینا چاہئے۔ یہاں حصر نہیں ہے بلکہ اس میں اشارہ ہے کہ جائز جس غرض سے پیدا کئے گئے ہیں اس کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ بالاتفاق جانوروں سے اس کے علاوہ بھی اور کام مقصود ہیں جیسے ان کو ذبح کیا جاتا ہے ان کا گوشت کھایا جاتا ہے، میں کہتا ہوں اس میں شک نہیں کہ اس حدیث سے سواری کرنا منع معلوم ہوتا ہے، بالخصوص جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث کو ثابت رکھا ہے۔ اور ان کو ذبح کرنے اور کھانے میں کوئی کلام نہیں کیونکہ یہ دونوں باتیں دین میں بداہۃً معلوم ہیں اور شرعاً اور عرفاً یہ دونوں باتیں مستثنیٰ ہیں۔ (مرقات)