اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7531
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرمائیں اپنے گھر میں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں رانیں یا اپنی دونوں پنڈلیاں کھولے (1) بیٹھے ہوئے تھے، اور حضرت
ابوبکر اجازت مانگے، آپ نے اسی حالت میں ان کو اجازت دی پھر وہ کچھ گفتگو کئے پھر حضرت عمر
نے اجازت مانگی، آپ نے اسی حالت میں ان کو اجازت دی پھر وہ آپ سے کچھ گفتگو کئے پھر
حضرت عثمان نے اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے ٹھیک کئے۔ پس
جب وہ نکل گئے (2) تو حضرت عائشہ نے کہا حضرت ابوبکر آئے تو آپ نے ان کے لئے کوئی حرکت
تک نہیں کئے اور ان کی پرواہ بھی نہیں کئے پھر حضرت عمر داخل ہوئے آپ نے ان کے لئے کوئی
حرکت تک نہیں کی، اور ان کی پرواہ بھی نہیں کیا پھر حضرت عثمان آئے تو آپ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں
کو بھی ٹھیک کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کیا میں شرم نہ کروں(3) ان صاحب سے جن
سے فرشتے شرم کرتے ہیں، اور سعید بن العاص کی روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے
فرمایا کہ عثمان شرمیلے شخص ہیں اور مجھے اندیشہ ہوا(4) کہ اگر میں اس حالت میں ان کو اجازت دیدوں
تو وہ اپنی ضرورت کی بات مجھ تک نہیں پہنچا سکیں گے۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2401 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (10)
Note 1
(1) His statement “exposing his thighs or shins”: An-Nawawi said: The Malikis and others who say the thigh is not part of the awrah cite this, but it is not conclusive, as the narrator was uncertain whether it was the shins or thighs, so it does not confirm the permissibility of exposing the thigh. I say: It is possible the exposure of the thigh refers to uncovering it from the shirt, not the waistcloth, as Aishah’s words suggest. His statement “adjusted his clothes” means after not adjusting them. This hints that he did not expose the limbs themselves but the clothes over them, hence she did not say “covered his thigh,” resolving the issue and negating the inference. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “when he left”: meaning Uthman and those with him, or implying when the people left. His statement “you did not stir”: with tashdid on the shin, meaning you did not move for him. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement “Should I not be shy”: An-Nawawi said: This clearly indicates Uthman’s virtue and that shyness is a beautiful angelic trait. Al-Muzhir said: It shows respect for Uthman in the Prophet’s view, but it does not diminish Abu Bakr and Umar’s status or suggest less attention to them, as perfect love dispels formality, as they say: “When familiarity is established, formality ceases.” I say: Thus, the Hadith indicates their virtue, but since it primarily highlights Uthman’s reverence, it is placed in his virtues chapter. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
(4) His statement “I feared that if I permitted him”: meaning if I permitted him in that state, I feared his shyness upon seeing me thus would prevent him from stating his need due to his great etiquette and abundant modesty. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : كاشفا عن فخذيه أو ساقيه قال النووي الله احتج به المالكية وغيرهم ممن يقول: ليست الفخذ عورة، ولا حجة فيه؛ لأنه شك الراوي في المكشوف هل هما الساقان أم الفخذان، فلا يلزم منه الجزم بجواز كشف الفخذ. قلت: ويجوز أن يكون المراد بكشف الفخذ كشفه عما عليه من القميص لا من المئزر، كما سيأتي ما يشعر إليه من كلام عائشة. وسوى ثيابه أي بعد عدم تسويته. وفيه إيماء إلى أنه لم يكن كاشفا عن نفس أحد العضوين، بل عن الثياب الموضوعة عليهما، ولذا لم تقل وستر فخذه، فارتفع به الإشكال واندفع الاستدلال، والله تعالى أعلم بالأحوال. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: فلما خرج أي عثمان ومن معه أو تقديره فلما خرج القوم. وقوله: فلم تهتش له بتشديد الشين، أي لم تتحرك لأجله. كذا في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله : ألا أستحيي إلخ : قال النووي: فيه فضيلة ظاهرة لعثمان له، وإن الحياء صفة جميلة من صفات الملائكة. قال المظهر: وفيه دليل على توقير عثمان الله عند رسول الله ، ولكن لا يدل على حط منصب أبي بكر وعمر عنده ، وقلة الالتفات إليهما؛ لأن قاعدة المحبة إذا كملت واشتدت ارتفع التكلف كما. قيل: إذا حصلت الألفة بطلت الكلفة. قلت: فانقلب الحديث دلالة على فضلهما، إلا أنه لما كان الظاهر المتبادر منه تعظيمه وتوقيره، ذكر في باب مناقبه. كذا في «المرقاة».
Note 4
(٤) قوله: وإني خشيت أن أذنت له إلخ أي إن أذنت له في تلك الحالة أخاف أن يرجع حياؤه عند ما يراني على تلك الهيئة، ولا يعرض على حاجته؛ لغلبة أدبه وكثرة حياته. كذا في «المرقاة».
Note 1
علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ الباری نے فرمایا ران کو کھلا رکھنے سے مراد اس پر جو قمیص تھی اس کو ہٹانا ہے۔ تہبند کو ہٹانا مراد نہیں ہے۔
Note 2
(1) قوله: كاشفا عن فخذيه او ساقيه. امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا اس سے مالک وغیرہ جو ران کو عورت میں شمار نہیں کرتے اس سے استدلال کیا ہے اس میں ان کے لئے دلیل نہیں ہے کیونکہ راوی کو شک ہے وہ دو دو پنڈلیاں تھیں یا ران تھیں اس میں ران کھولنے کے جواز کی قطعیت نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں اس میں یہ بات بھی ہوسکتی ہے ران کو کھولنے سے مراد ران پر جو قمیص تھی اس کو ہٹانا ہو، تہبند کو ہٹانا مراد نہیں ہے۔ جیسا کہ حضرت عائشہ کے اس کلام سے کہ آپ نے اپنے کپڑوں کو ٹھیک کیا یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے ان دو اعضاء میں سے کسی کو بھی حقیقت میں کھولے نہیں تھے، بلکہ ران پر جو کپڑے تھے اس کو ہٹائے تھے اسی لئے حضرت عائشہ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ نے ان کو ڈھانکا اس سے اشکال دور ہوگیا اور استدلال بھی ختم ہوگیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (مرقات) (2) فلما خرج. یعنی حضرت عثمان اور ان کے ساتھ جو حضرات تھے وہ سب چلے گئے یا فلما خرج القوم کے معنی میں ہے۔ وقوله: فلم تهتش له شین کو تشدید ہے یعنی ان کے لئے آپ حرکت نہیں کئے۔ (مرقات) (3) قوله: الا استحيي الخ۔ امام نووی نے فرمایا اس میں حضرت عثمان کی کھلی فضیلت ہے اور حیاء فرشتوں کے صفات میں سے خوبصورت صفت ہے، علامہ مظہر نے فرمایا اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت عثمان کی توقیری کی دلیل ہے لیکن آپ کے پاس حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مرتبہ کی کمی اور ان دونوں کے طرف کم توجہ کی دلیل بھی نہیں ہے۔ کیونکہ محبت کا قاعدہ ہے جو محبت کامل ہوجاتی ہے اور شدید ہوجاتی ہے تو تکلف ختم ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ مقولہ اذا حصلت الالفة بطلت الكلفة۔ جب محبت آجاتی ہے تو تکلف ختم ہوجاتا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ حدیث ان دونوں کی فضیلت پر دلالت کر رہی ہے مگر چونکہ اس میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعظیم معلوم ہوتی ہے اس لئے اس کو آپ کے مناقب کے بیان میں ذکر کیا۔ (مرقات) (4) قوله: واني خشيت ان اذنت له۔ یعنی اگر میں ان کو اس حالت میں اجازت دے دوں گا تو اندیشہ ہے جب وہ مجھے اس حالت میں دیکھیں گے تو ان کی شرم و حیاء ان کو واپس کردے اور ادب کے غلبہ اور کثرت حیاء کی وجہ سے مجھ پر وہ اپنی ضرورت کو پیش نہیں کرسکیں گے۔