English
Abdul Rahman ibn Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: “Uthman came 1 to the Prophet (ﷺ) with a thousand dinars in his sleeve when equipping the Army of Hardship, and poured them into his lap. I saw the Prophet (ﷺ) turning them in his lap, saying: ‘No harm on Uthman for what he does after today,’ twice.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٨٣٢ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: جَاءَ 1 عُثْمَانِ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي كُمِّهِ حِيْنَ جَهَزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَنَثَرَهَا فِي حِجْرِهِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يُقْلَبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُوْلُ: «مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7535
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت
عثمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہزار دینار اپنی آستین میں رکھ کر لائے(9)۔ جس
وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیش عسرہ کی تیاری کر رہے تھے اور اس کو آپ کے گود میں ڈال دئے اور
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اپنے گود میں ان کو الٹ پلٹ کرتے اور فرماتے تھے عثمان آج
کے بعد جو بھی کریں گے وہ ان کو کوئی ضرر نہیں پہنچائیگا اور آپ دو مرتبہ فرمائے۔(امام احمد ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3701 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “Uthman came to the Prophet (ﷺ) with a thousand dinars”: In Al-Mirqat, it is said: The differences in narrations may suggest contradiction, but reconciliation is possible. Uthman provided six hundred camels with their saddles and packs, as per the previous Hadith, then brought a thousand dinars for the travelers’ provisions. When that was insufficient, he added more camels and supplemented with horses to reach a thousand, then, still insufficient, completed a thousand camels and added twenty horses to the fifty, and sent ten thousand dinars for provisions.
Note 1
(۱) قوله: جاء عثمان إلى النبي الله بألف دينار إلخ : قال في المرقاة»: وهذه الاختلافات في الروايات قد توهم التضاد بينهن، والجمع ممكن بأن يكون عثمان دفع ست مائة بعير بأحلاسها وأقتابها على ما تضمنه الحديث السابق، ثم جاء بالألف لأجل المؤن التي لا بد للمسافر منها، ثم لما اطلع على أن ذلك لا يكفي زاد في الإبل، وأردف بالخيل تتميها للألف، ثم لما لم يكتف بذلك تمم الألف أبعرة، وزاد عشرين فرسا على تلك الخمسين، وبعث بعشرة آلاف دينار للمؤن.
Note 1
(9) قوله: جاء عثمان الى النبى صلى الله عليه وسلم بالف الخ. صاحب مرقات نے فرمایا اس بارے میں روایات کے اختلاف سے ان کے درمیان تضاد کا وہم ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان جمع کرنا ممکن ہے کہ سابق حدیث کے مضمون کے مطابق حضرت عثمان نے چھ سو اونٹ ان کے جل اور پالان کے ساتھ پیش کئے پھر سفر کرنے والوں کی ضرورت کے خاطر ایک ہزار لیکر آئے پھر جب معلوم ہوا کہ یہ اونٹ کافی نہیں ہیں تو ایک ہزار کی تکمیل کرتے ہوئے گھوڑے پیش کئے پھر جب دیکھے کہ یہ کافی نہیں ہے تو اونٹوں کی تعداد ایک ہزار کر دیا اور پچاس گھوڑوں پر مزید بیس(20) گھوڑے اضافہ کئے۔(مرقات)