اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7536
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے بیعت رضوان(10) کا حکم فرمایا حضرت عثمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کی حیثیت
سے مکہ کو گئے ہوئے تھے اور لوگ بیعت کے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عثمان اللہ کے کام
میں اور اس کے رسول کی خدمت میں ہیں اور آپ نے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا(11) اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ عثمان کیلئے صحابہ کے ان کے ہاتھوں سے بہتر ہوگیا جوان کے اپنے نفسوں کیلئے
ہے۔(ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3702 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement “Pledge of Ridwan”: the pledge under the tree at Hudaybiyyah, named so because Allah revealed: Indeed, Allah was pleased with the believers when they pledged allegiance to you under the tree [Qur’an 48:18]. His statement “Uthman was the envoy to Makkah”: meaning sent from Hudaybiyyah to Makkah to convey rulings. It was rumored they killed him, so the Prophet (ﷺ) took a special pledge for his departure. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “struck one of his hands on the other”: meaning for the pledge on Uthman’s behalf, assuming he was alive at the time and place. It means he made one hand represent Uthman’s. Some say it was the left, others the right, the latter being correct, as will be clarified. His statement “the hand of the Messenger of Allah (ﷺ) was better than their hands”: meaning better than the other companions’ hands for themselves, so his absence was not a flaw but a virtue. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: ببيعة الرضوان: وهي البيعة التي كانت تحت الشجرة عام الحديبية، سميت بها؛ لأنه نزل في أهلها: ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ المُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ﴾ (الفتح: (۱۸). كان عثمان الله رسول رسول الله ﷺ إلى مكة» أي رسولا منه إليهم مرسلا من الحديبية إلى مكة، أي لتبليغ بعض الأحكام، فشاع أنهم قتلوه فبايع» أي رسول الله الناس» أي بيعا خاصا على الموت. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: فضرب بإحدى يديه على الأخرى أي في البيعة عن جهة عثمان على فرض أنه حي في المكان والزمان والمعنى أنه جعل إحدى يديه نائبة عن يد عثمان، فقيل: هي اليسرى. وقيل: هي اليمنى، وهو الصحيح؛ لما سيأتي بيانه بالتصريح. وقوله: «فكانت يد رسول الله الله خيرا من أيديهم، أي من أيدي بقية الصحابة، لأنفسهم»، فغيبته لیست بمنقصة، بل سبب منقبة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(10) قوله: بيعة الرضوان. بیعت رضوان وہ بیعت ہے جو صلح حدیبیہ کے موقع پر ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی اور (حاشیہ پچھلے صفحے سے) اس کا نام بیعت رضوان اس لئے ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس بیعت کے کرنے والوں کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی: ”لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ“ (48،الفتح آیت نمبر:18) اللہ تبارک وتعالیٰ مومنین سے راضی ہوگیا جب وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت لے رہے تھے حضرت عثمان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کی حیثیت سے مقام حدیبیہ سے مکہ کو روانہ کئے گئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بعض احکام کو پہنچانے کیلئے تو یہ بات مشہور ہوگئی کہ انہوں نے آپ کو شہید کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے جہاد کے لئے جب تک جان میں جان ہے ایک خاص بیعت لی تھی۔(مرقات) (11) قوله: فضرب باحدى يديه على الاخرى. یعنی بیعت میں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے یہ فرض کر کے کہ آپ اس وقت اس جگہ زندہ ہیں، مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو عثمان کی طرف سے قائم مقام قرار دیا ایک قول یہ ہے کہ وہ بایاں ہاتھ تھا اور ایک قول میں سیدھا ہاتھ تھا اور یہی بات صحیح ہے صراحت کے ساتھ، یہ بات آگے آئیگی۔ وقوله: فكانت يد رسول الله خيرا من ايديهم. یعنی باقی تمام صحابہ کے ہاتھوں سے جوان کے اپنے نفس کیلئے ہیں ان سب سے یہ ہاتھ بہتر ہے حضرت عثمان کا غیر موجود رہنا عیب نہیں بلکہ ان کی فضیلت کا سبب ہے۔(مرقات)