Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5954

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

Zujajat al-Masabih 5954Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7670
اور ان ہی سے روایت ہے فرمائیں کہ لوگ اپنے تحفے و ہدایا پیش کرنے کے لئے حضرت عائشہ کی باری کا دن تلاش کرتے تھے(13) اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی چاہتے تھے اور وہ فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی دو جماعتیں تھیں ایک جماعت میں حضرات عائشہؓ حفصہؓ، صفیہ اور سودہ تھیں اور دوسری جماعت میں حضرات ام سلمہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی ازواج تھیں ام سلمہ کی جماعت نے ام سلمہ سے گفتگو کی کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرو کہ آپ لوگوں سے فرمائیں کہ جو بھی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنا چاہتا ہے وہ شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں بھی ہوں ہدیہ پیش کرے۔ تو وہ آپ سے گفتگو کی تو آپ نے ان سے فرمایا تم مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف مت دو۔ کیونکہ میرے پاس سوائے عائشہ کے کسی کے بھی لحاف میں وحی نہیں آتی تو وہ عرض کیں میں اللہ کی جناب میں یا رسول اللہ آپ کو تکلیف دینے سے توبہ کرتی ہوں۔ پھر ان سب نے حضرت فاطمہ کو بلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو وہ آپ سے گفتگو کیں تو آپ نے فرمایا: اے پیاری بیٹی! کیا تم محبت نہیں کرتی اس سے جس سے میں محبت کرتا ہوں تو وہ عرض کیں کیوں نہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان سے محبت کرو۔ (متفق علیہ(14))
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2581 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

seek out

(1) The statement “seek out”: Meaning to aim for additional reward. The statement “the day of Aishah”: Meaning the day when it was Aishah’s turn and the Prophet (ﷺ) was with her. The statement “to please the Messenger of Allah”: Meaning to increase his pleasure due to his greater love for her. The statement “wherever he is”: Meaning in any of the chambers of the Mothers of the Believers, intending that there should be no preference causing jealousy among them. The statement “do not hurt me regarding Aishah”: Meaning in her regard, which is stronger than “do not hurt Aishah,” as it implies that what hurts her hurts him. The statement “then love this one”: Meaning Aishah, i.e., do not mention anything that would cause displeasure to her. (Derived from Al-Mirqat)

Note 2

agreed upon

(2) The statement “agreed upon”: The author of Al-Mishkat said after this, mentioning the Hadith of Anas about the virtue of Aishah over other women: Its completion is “like the superiority of tharid over other foods” in the chapter on the beginning of creation, narrated by Abu Musa. There is a difference of opinion as to whether “women” refers to all women, his wives in general, or after Khadijah. The most apparent is that she is the best of all women, as the absolute statement suggests, due to her encompassing scholarly and practical perfections, expressed in the metaphor of tharid. The example of tharid is used because it is the best food of the Arabs, composed of bread, meat, and broth, with no equivalent among foods. It combines nourishment, pleasure, strength, ease of consumption, minimal chewing effort, and quick passage through the throat and esophagus. The Messenger of Allah (ﷺ) used it as a metaphor for her to indicate that she was granted good character, fine disposition, eloquent speech, articulate expression, sharp intellect, sound judgment, and affection toward her husband. She is suitable for companionship, conversation, intimacy, and listening, among other qualities gathered in her. It is sufficient that she understood from the Messenger of Allah (ﷺ) what no other woman understood and narrated from him what no man narrated like her. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: يتحرون والمعنى زيادة الثواب. وقوله: يوم عائشة أي في اليوم الذي هو نوبة عائشة والنبي ﷺ عندها. وقوله : مرضاة رسول الله ﷺ أي زيادة رضاه لمزيد محبته لها. وقوله: حيث كان أي من حجرات الأمهات ومرادهن أنه لا يقع التحري في ذلك لا لهن ولا لغير هن، بل بحسب ما يتفق الأمر فيهن؛ ليرتفع التميز الباعث للغيرة عنهن. وقوله: «لا تؤذيني في عائشة أي في حقها هو أبلغ من لا تؤذي عائشة؛ لما يفيد من أن ما آذاها، فهو يؤذيه. وقوله: «فأحبي هذه أي عائشة يعني ولا تَذْكُري ما يكون سبب الكراهية خاطرها. التقطته من «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: متفق عليه قال صاحب المشكاة» بعد هذا وذكر حديث أنس فضل : عائشة على النساء» تمامه كفضل الثريد على سائر الأطعمة في باب بدء الخلق برواية أبي موسى، وتقدم الخلاف أن المراد بالنساء جنسهن أو أزواجه عموما أو بعد خديجة، والأظهر أنها أفضل من جميع النساء كما هو ظاهر الإطلاق من حيث الجامعية للكمالات العلمية والعملية المعبر عنهما في التشبيه بالثريد؛ فإنما يضرب المثل بالثريد؛ لأنه أفضل طعام العرب، وأنه مركب من الخبز واللحم والمرقة، ولا نظير لها في الأغذية، ثم إنه جامع بين الغذاء واللذة والقوة وسهولة التناول، وقلة المؤنة في المضغ وسرعة المرور في الحلقوم والمري، فضرب رسول الله ﷺ لها المثل به؛ ليعلم أنها أعطيت مع حسن الخلق وحسن الخلق وحسن الحديث وحلاوة المنطق وفصاحة اللهجة وجودة القريحة ورزانة الرأي ورصانة العقل التحبب إلى البعل، فهي تصلح للتبغل والتحدث والاستئناس بها والإصغاء إليها، وإلى غير ذلك من المعاني التي اجتمعت فيها، وحسبك من تلك المعاني أنها عقلت من رسول الله ﷺ ما لم تعقل غيرها من النساء، وروت عنه ما لم يرو مثلها من الرجال، والله أعلم بالحال. كذا في «المرقاة».

Note 1

(13) قوله: يتحرون. یعنی زیادہ ثواب چاہتے تھے۔ قوله يوم عائشة. یعنی جس دن حضرت عائشہ کی باری کا ہوتا اور جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے پاس ہوتے۔ وقوله: مرضاة رسول الله صلى الله عليه وسلم. یعنی آپ کی زیادہ خوشنودی کے لئے کیونکہ آپ کو حضرت عائشہ سے زیادہ محبت تھی۔ وقوله: حيث كان. یعنی امہات المومنین میں سے کسی کے بھی گھر میں ہوں اور اس کے لئے ان میں کسی کی باری تلاش نہ کی جائے نہ ان کی نہ کسی دوسروں کی بلکہ حسب اتفاق آپ جس کسی کے پاس ہوں تحائف پیش کر دئیے جائیں تاکہ ایسا کوئی امتیاز نہ رہے جو ان کے لئے غیرت کا باعث ہوتا ہے۔ وقوله: لاتؤذيني في عائشة. یعنی حضرت عائشہ کے حق کے بارے میں مجھے تکلیف مت دو۔ لاتؤذيني في عائشة یہ کلام لاتؤذي عائشة سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے جو چیز حضرت عائشہ کو تکلیف کا باعث ہے وہ آپ کے لئے بھی تکلیف دہ ہے۔ وقوله: فاحبي هذه یعنی ہندہ سے حضرت عائشہ مراد ہیں یعنی ایسی کوئی بات مت ہو جو عائشہ کے دل کیلئے ناپسندی کا سبب بنے۔ (ماخوذ از: مرقات) (14) قولہ: متفق علیہ۔ اس کے بعد صاحب مشکوٰۃ نے فرمایا اور حدیث انس کی پوری حدیث فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الاطعمة۔ حضرت ابوموسیٰ کی روایت سے باب بدء الخلق میں مذکور ہے۔ اور اس بابت جو اختلاف ہے اس کا ذکر ہوچکا ہے کہ النساء سے مراد جنس عورت ہے یا ازواج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم علی العموم ہیں یا سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا ہیں اور اس سے جو بات ظاہر ہوتی ہے یہ ہے کہ وہ مطلقاً تمام عورتوں سے افضل ہے علمی و عملی تمام کمالات کی جامع ہونے کی بناء پر جیسا کہ ثرید سے تشبیہ سے ظاہر ہے۔ ثرید سے مثال دی جاتی ہے کیونکہ عرب میں ثرید افضل طعام ہے اور یہ کھانا روٹی گوشت اور شوربہ سے مرکب ہوتا ہے دیگر کھانوں میں اس کی کوئی مثال نہیں نیز اس میں غذائیت لذت اور قوت ہے اور اس کو حاصل کرنا بھی آسان ہے۔ چبانے میں وقت کم ہے چبانے میں حلق اور کھانے کی نالی سے اترنے میں مشقت بھی کم ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو اس سے مثال دی تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان کو حسن صورت و حسن سیرت دونوں سے سرفرازی کی گئی ہے۔ اور حسین گفتگو شیرین کلام اور لہجہ میں فصاحت طبیعت خوبی، رائے میں سنجیدگی اصابتِ عقل اور شوہر کے پاس محبوب ہونا یہ وہ صفات ہیں جن کی وجہ سے وہ لائق ہیں اس امر کے کہ شوہر کی پسندیدہ ہو اور اس سے گفتگو بھی اچھی معلوم ہو اور اس سے انس ہو اور اس کی باتوں کی طرف کان لگائیں اس کے علاوہ بھی ایسی بہت سی صفات ان میں جمع ہیں۔ اور ان تمام خوبیوں میں تمہارے لئے یہ بات کافی ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر سمجھ بوجھ حاصل کی ہے جو ان کے سوا دوسری عورتیں حاصل نہیں کرسکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر احادیث روایت کی ہیں اس کے مثل مرد حضرات بھی روایت نہیں کئے حقیقت حال اللہ بہتر جانتا ہے۔ (مرقات)