اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7680
سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: صحابہ نے عرض کیا: یا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کاش کہ آپ خلیفہ بنا دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تم پر
خلیفہ بناؤں اور تم اس کی نافرمانی کرو تو تم عذاب میں مبتلاء کئے جاؤگے، لیکن (10) حذیفہ تم سے جو
بیان کریں اُس کی تصدیق کرو، اور عبداللہ تم کو جو پڑھائیں وہ پڑھو۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3812 (unverified) 82% confidence · Validation similarity: 0.855
- Candidate: Mishkat al-Masabih 6229 (unverified) 40% confidence
Mishkat (candidate) 6229
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “but whatever Hudhayfah narrates to you, believe him, and whatever Abdullah recites to you, recite it”: This is a wise approach, as it adds to the response. It is as if it was said: Do not concern yourselves with my appointing a successor, but focus on adhering to the Book and the Sunnah. Hudhayfah was specified because he was the keeper of the Prophet’s secrets and warned them of worldly trials, while Abdullah ibn Mas’ud warned them of matters of the Hereafter, as stated by At-Tibi. In Al-Mirqat, it is said: The more apparent meaning is a clarification from what preceded it, meaning: I have not appointed a successor, but [believe Hudhayfah and recite from Abdullah]. The reason for specifying them is that they both testified to the validity of Abu Bakr’s Caliphate, as mentioned earlier. Allah knows best. This indicates the Caliphate implicitly rather than explicitly to avoid any disobedience leading to punishment, unlike the former, which allows room for ijtihad.
Note 1
(۱) قوله: ولكن ما حدثكم حذيفة فصدقوه وما أقرأكم عبد الله فاقرؤه من الأسلوب الحكيم؛ لأنه زيادة على الجواب كأنه قيل: لا يهمكم استخلافي فدعوه، ولكن يهمكم العمل بالكتاب والسنة فتمسكوا بهما، وخص حذيفة؛ لأنه كان صاحب ستر رسول الله ، ومنذرهم من الفتن الدنيوية، وعبد الله بن مسعود؛ لأنه كان منذرهم من الأمور الأخروية، قاله الطيبي. وقال في المرقاة»: والأظهر أنه استدراك من مفهوم ما قبله، والمعنى ما استخلف عليكم أحدا ولكن إلخ، ثم وجه اختصاصهما بهذا المقام أنهما شاهدان على صحة خلافة الصديق على ما تقدم، والله أعلم، ففيه إشارة إلى الخلافة دون العبارة؛ لئلا يترتب على الثاني شيء من المعصية الموجبة للتعذيب بخلاف الأول؛ فإنه يبقى للاجتهاد مجال.
Note 1
(10) قوله: ولكن ما حدثكم حذيفة فصدقوه، وما أقرأكم عبد الله فاقرءوه. یہ حکیمانہ اسلوب ہے اور جواب میں مزید تفصیل ہے، گویا اس کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کو میرے خلیفہ کے بارے میں کوئی فکر و پریشانی کی ضرورت نہیں اس مسئلہ کو چھوڑ دو لیکن تمہارے فکر کرنے کی بات وہ کتاب و سنت پر عمل آوری ہے پس تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ اور حضرت حذیفہ کا خاص طور پر آپ نے ذکر فرمایا ما حدثكم حذيفة فصدقوه حذیفہ تم سے جو بیان کریں اس کی تصدیق کرو، یہ اس لئے کہ حضرت حذیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب سر رازداں صحابی ہیں اور (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) دنیاوی فتنوں سے لوگوں کو آگاہ کرنے والے صحابی ہیں۔ اور عبداللہ بن مسعود کا خصوصی ذکر وما قرأكم عبدالله فاقرأه اس لئے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ امور اخرویہ (آخرت کے امور) سے لوگوں کو آگاہ کرنے والے ہیں۔ یہ بات علامہ طیبی نے بیان فرمائی۔ اور صاحب مرقات نے فرمایا یہ واضح بات ہے جو ماقبل کے مضمون پر ”لکن“ کے استدراک معلوم ہو رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں تم پر کسی کو خلیفہ نہیں بنا رہا ہوں لیکن حذیفہ جو بیان کریں اور ابوبکر جو کچھ بتائیں اس کی تصدیق کرو۔ پھر اس موقعہ پر ان دو صحابہ کے خصوصی ذکر کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں صحابہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کی صحت کے گواہ ہیں جیسا کہ سابق میں مذکور ہوا۔ والله اعلم بالصواب پس اس میں عبارۃ النص سے نہیں لیکن اشارۃ النص سے ان کی خلافت کا ذکر ہے، تاکہ عبارت النص کی صورت میں معصیت کی کوئی ایسی چیز رونما نہ ہو جو عذاب کا موجب بن جائے برخلاف؛ (پہلی صورت) اشارۃ النص کے کیونکہ اس میں اجتہاد کی گنجائش باقی ہے۔