English
Alqamah narrated: I arrived in Sham and prayed two rak’ahs, then said: O Allah, grant me a righteous companion. I came to a group and sat with them. Then an elderly man came and sat beside me. I said: Who is this? They said: Abu Ad-Darda. I said: I asked Allah to grant me a righteous companion, and He granted you to me. He said: Who are you? I said: From the people of Kufah. He said: Is there not among you Ibn Umm Abd, the owner of the sandals, pillow, and purification water, and among you the one whom Allah protected from Satan through the tongue of His Prophet, meaning Ammar? And is there not among you the keeper of the secret that no one else knows, meaning Hudhayfah? [Narrated by Bukhari]
In another narration: He said: “Who are you?” (As in Jami’ Al-Usul) In another narration: “Where are you from?” (As in Al-Humaidi)
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٩٦٥ - وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ فَصَلَّيْتُ 1 رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا. فَأَتَيْتُ قَوْمًا فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ، فَإِذَا شَيْخُ قَدْ جَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي. قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو الدَّرْدَاءِ، قُلْتُ: إِنِّي دَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا، فَيَسَّرَكَ لِي، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ. قَالَ: أَوَلَيْسَ عِنْدَكُمْ ابْنُ أُمَّ عَبْدٍ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ، وَفِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ ، يَعْنِي عَمَّارًا. أَوَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ سِرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيْرُهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟» كَذَا فِي جَامِعِ الْأُصُولِ». وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى لَهُ: «مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟» كَذَا فِي الْحُمَيْدِيَّ».
اردو
حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا میں ملک شام پہنچا اور دو
رکعت نماز پڑھا(11) پھر دعا کیا: ”اللهم يسر لي جليسا صالحا“ اے اللہ تو میرے لئے نیک
ہمنشین فراہم کر“ چنانچہ میں کچھ لوگوں کے پاس آ پہنچا اور اُنہیں شامل ہو کر بیٹھ گیا، تو اچانک میں
دیکھا ایک بزرگ جو تشریف لائے یہاں تک کہ وہ میرے بازو بیٹھ گئے تو میں دریافت کیا یہ کون ہیں؟
تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابوالدرداء ہیں، تو میں بولا کہ میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ میرے لئے نیک
ہمنشین میسر کر دے، تو اس نے آپ کو میرے لئے میسر کر دیا، تو انہوں نے کہا تم کون ہو؟ میں نے کہا
میں اہل کوفہ سے ہوں، انہوں نے کہا کیا تمہارے پاس ابن ام عبد نہیں ہیں، جو ”صاحب النعلين
والوسادة والمطهرة“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین بردار، تکیہ اور وضو کا لوٹا اٹھانے والے) ہیں؟
اور کیا تمہارے پاس وہ نہیں ہیں جن کو اللہ نے اپنے نبی اکرم کی زبان مبارک سے شیطان سے پناہ دیا
یعنی حضرت عمار نہیں ہیں! کیا تم میں وہ راز والے ”صاحب السر“ نہیں ہیں جن کو ان کے سوا کوئی
نہیں جانتا یعنی حضرت حذیفہ؟ (بخاری)
اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: تم کس قوم کے ہو۔ جامع الاصول میں
اسی طرح ہے۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے: تم کہاں سے آئے ہو۔ (کتاب حمیدی
میں اسی طرح ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3743 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.534
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “prayed two rak’ahs”: Meaning in the mosque of Damascus. The statement “grant”: Meaning make easy. The statement “Who are you? I said: From the people of Kufah”: At-Tibi said: Meaning a man from the people of Kufah, to match the question, or the question is implied as “Where are you from?” to match the answer. This is supported by the narrations of Jami’ Al-Usul and Al-Humaidi. The statement “is there not among you, etc.”: The gist is that due to his close association with these matters, he should have sufficient religious knowledge that a seeker would not need others. This implies, as mentioned in the etiquettes of students, that a student first masters the knowledge of the scholars of his city, then travels to others for further clarification from eminent figures. The statement “among you”: Meaning is there not among you. The statement “keeper of the secret”: Meaning the keeper of the Prophet’s secrets, i.e., the secrets of the hypocrites and their lineages, which the Messenger of Allah (ﷺ) confided to him. (Derived from Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فصليت ركعتين: أي في مسجد دمشق. وقوله: «يسر» أي سهل. وقوله: من أنت؟ قلت: من أهل الكوفة». قال الطيبي: أي رجل من أهل الكوفة؛ ليطابق السؤال، أو تقدير السؤال من أين أنت ليطابقه الجواب. تؤيد هذا التأويل رواية «جامع الأصول والحميدي. وقوله: «أو ليس عندكم إلخ» حاصله: أنه لشدة ملازمته له في هذه الأمور ينبغي أن يكون عنده من العلم الشرعي ما يستغني طالبه عن غيره. وفيه إشعار بما ذكر في آداب المتعلمين» من أن الطالب أولا يحيط بعلم علماء بلده، ثم يرتحل إلى غيره من البلدان في طلب زيادة البيان من الأعيان. وقوله: وفيكم» أي أو ليس فيكم. وقوله: صاحب السر» أي صاحب سر النبي له من تلك الأسرار أسرار المنافقين وأنسابهم، أسر بها إليه رسول الله ﷺ. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(11) قوله: فصليت ركعتين. یعنی دمشق کی مسجد میں۔ وقوله: يسر. یعنی آسان کر دے۔ وقوله: من انت قلت من اهل الكوفة. علامہ طیبی نے فرمایا: یعنی رجل من اهل الكوفة. میں اہل کوفہ کا ایک شخص ہوں، یہ جواب، سوالِ مقدر کی مطابقت کے لئے ہے یا سوال میں ”من أين أنت“ کو مقدر مانا جائے، تاکہ جواب کی سوال سے مطابقت رہے۔ کتاب جامع الاصول اور حمیدیؒ کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ وقوله: اوليس عندكم الخ. اس کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بکثرت رہے ہیں، اس لئے ان مسائل میں ان کے پاس اس قدر شریعت کا علم ہوگا جو طالب علم کو کسی دوسرے سے بے نیاز کر دیتا ہو اور اس میں طالب علموں کے جملہ آداب کے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سب سے پہلے طالب علم اپنے شہر کے علماء کے علم سے بھر پور استفادہ کرے، پھر بزرگ حضرات سے مزید بصیرت علم کے حصول کے لئے دوسرے شہروں کا سفر کرے۔ وقوله: وفيكم. أي أو ليس فيكم؛ یعنی کیا تم میں نہیں ہیں۔ وقوله: صاحب السرّ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رازداں۔ ان اسرار میں منافقین کے اسرار اور ان کے نسب بھی ہیں، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے پوشیدہ طور پر فرمایا تھا۔ (ماخوذ از مرقات)