اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7691
حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابوسفیان(18)
ایک جماعت کے ساتھ حضرت سلمان، حضرت صہیب اور حضرت بلال کے پاس آئے تو انہوں نے
کہا اللہ کی تلواروں نے اللہ کے دشمن کی پوری طرح گرفت نہیں کیں، تو حضرت ابوبکر نے فرمایا کیا تم
قریش کے شیخ اور ان کے سردار سے متعلق ایسی بات کہتے ہو؟ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت
میں آئے اور آپ کو اس کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر شاید تم ان کو غصہ
دلائے ہو، اگر تم ان کو غصہ دلائے ہو تو تم اپنے پروردگار کو غضب میں لائے ہو، تو حضرت ابوبکر ان کے
پاس آئے اور فرمایا: اے بھائیو کیا میں تم کو غصہ میں لایا؟ تو انہوں نے کہا نہیں، اللہ آپ کے درجے
بلند کرے اے میرے بھائی۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2504 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “Abu Sufyan passed”: An-Nawawi said: This occurred when Abu Sufyan, still a disbeliever, came during the Hudaybiyyah truce. The statement “they said”: Meaning Salman and his companions, referring to Abu Sufyan, saying “the swords of Allah have not taken from the neck of Allah’s enemy,” meaning Abu Sufyan, “what they should,” meaning their due. At-Tibi said: The “not” is a negation. “What they should” is either the object or the adverbial phrase, possibly an interrogative implying delay, meaning the swords have not taken their due from him. The sword is metaphorically used as one entitled to a right, demanding it while the debtor delays. The statement “Abu Bakr said”: Meaning to them. The statement “he went”: Meaning Abu Bakr. The statement “informed him”: Meaning about their words and his. The statement “my brothers”: With a silent ha. The statement “they said: No”: Meaning no harm or no anger toward you, and “may Allah forgive you” is a supplicatory phrase. At-Tibi said: One should pause at “No,” and adding a conjunction would improve its flow. The statement “our brother”: It seems it should be “our brothers,” but it likely conveys each one’s individual statement. (Derived from Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: أن أبا سفيان أتى قال النووي: هذا الإتيان كان لأبي سفيان، وهو كافر في الهدنة بعد صلح الحديبية. وقوله: فقالوا» أي سلمان وأصحابه ما أخذت سيوف الله من عنق عدو الله يعنون أبا سفيان «مأخذها» بفتح الخاء المعجمة، أي حقها. قال الطيبي: «ما» نافية، وأما مأخذها، فقيل: مفعول به. وقيل: مفعول فيه، ويجوز أن يكون مصدر أو الكلام إخبار فيه معنى الاستفهام المتضمن للاستبطاء ، يعني لم تستوف السيوف حقها من حقه، واستعار الأخذ للسيف؛ تشبيها له بمن له حق على صاحبه، وهو يلزمه ويطالبه والغريم يمتنع عن إفاء حقه ويماطله. وقوله: فقال أبو بكر أي لهم. وقوله: «فأتى» أي أبو بكر. وقوله: «فأخبره أي بخبرهم وخبره. وقوله: يا إخوتاه بالهاء الساكنة. وقوله: «قالوا: لا أي لا حرج عليك أو لا غضب لنا بالنسبة إليك يغفر الله لك» جملة دعائية. قال الطيبي: يجب أن يوقف على «لا»، ولو زادوا واوا لحسن موقعه. وقوله: يا أخي الظاهر أن يقال: يا أخانا، ولعله حكاية قول كل واحد واحد. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(18) قوله: ان ابا سفيان اتى۔ علامہ نووی نے فرمایا ابوسفیان کا یہ آنا جبکہ وہ کافر تھے صلح حدیبیہ کے بعد امن و سکون کے زمانہ میں ہوا۔ وقوله: فقالوا۔ یعنی حضرت سلمان اور ان کے ساتھیوں نے۔ ما اخذت سيوف الله من عنق عدو الله۔ اس سے اس کی مراد ابوسفیان ہیں۔ ما أخذها۔ خاء کو زبر (فتح) یعنی جیسا اس کا حق ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا ما اخذت میں ما نافیہ ہے، اور ما أخذها کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مفعول بہ ہے، اور مفعول فیہ بھی کہا گیا ہے، اور یہ مصدر (مفعول مطلق) بھی ہو سکتا ہے اور یہ جملہ خبریہ ہے استفہام کے معنی میں ہے، جو کہ ”استبطاء“ کو متضمن ہے یعنی تلواریں ان کا پورا حق ابھی نہیں لیں، تلوار کا اپنا حق لینا اسمیں استعارہ ہے، اس کو ایسے شخص سے تشبیہ دی گئی ہے جس کا اس کے ساتھی پر حق ہے اور وہ حق کا مطالبہ کرتے ہوئے آتا ہے اور وہ حق ادا نہیں کرتا اور ٹال مٹول کرتا ہے۔ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وقوله: فقال ابوبكر. یعنی ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا۔ وقوله: فاتى. یعنی ابوبکر آئے۔ وقوله: فاخبره یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اور اپنے واقعہ کی اطلاع دی۔ وقوله: يا اخوتاه. ہائے ساکنہ کے ساتھ ہے۔ وقوله: قالوا لا. یعنی آپ پر کوئی حرج نہیں، یا آپ کی نسبت سے ہم کو کوئی غصہ نہیں، يغفر الله لك. اللہ آپ کے درجے بلند کرے، یہ جملہ دعائیہ ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا ”لا“ پر رک جانا ضروری ہے۔ اور اگر واو کا اضافہ ہوتا تو بہت اچھا ہوتا۔ وقوله: يا اخى. ظاہر بات تو یہ ہے کہ ”یا اخانا“ کہا جاتا، ہو سکتا ہے کہ یہ ان میں سے ہر ایک کے قول کی حکایت ہو۔ (ماخوذ از مرقات)