English
Khalid ibn Al-Walid (may Allah be pleased with him) narrated: There was a dispute between me and Ammar ibn Yasir, and I spoke harshly to him. Ammar went to complain to the Messenger of Allah (ﷺ). Khalid came 1 while he was complaining to the Prophet (ﷺ). Khalid continued speaking harshly, and the Prophet (ﷺ) remained silent. Ammar wept and said: “O Messenger of Allah, do you not see him?” The Prophet (ﷺ) raised his head and said: “Whoever opposes Ammar, Allah opposes him, and whoever hates Ammar, Allah hates him.” Khalid said: I left, and nothing was dearer to me than Ammar’s satisfaction. I met him and did what pleased him, and he was satisfied.
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٩٨١ - وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ كَلَامُ، فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ، فَانْطَلَقَ عَمَّارُ يَشْكُونِي إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ ، فَجَاءَ 1 خَالِدٌ، وَهُوَ يَشْكُوهُ إِلَى النَّبِيِّ ، قَالَ : فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهُ وَلَا يَزِيدُ إِلَّا غِلْظَةٌ، وَالنَّبِيُّ ﷺ سَاكِتُ لَا يَتَكَلَّمُ، فَبَكَى عَمَّارُ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَلَا تَرَاهُ؟ فَرَفَعَ النَّبِيُّ ﷺ رَأْسَهُ، وَقَالَ: «مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللهُ». قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ، فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَا عَمَّارٍ، فَلَقِيتُهُ بِمَا رَضِيَ فَرَضِيَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7700
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا
میرے اور عمار بن یاسر کے درمیان بحث و تکرار (لفظی جھڑپ) ہوگئی تو میں ان کے ساتھ سخت کلامی
کیا تو عمار میری شکایت کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تو خالد بھی پہنچے(27)
جبکہ حضرت عمار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کی شکایت کر ہی رہے تھے، تو راوی نے
کہا: یہ خالد ان کے ساتھ سخت کلامی کرنے لگے اور نہیں اضافہ کرتے ان کے ساتھ گفتگو میں، اور نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے گفتگو نہیں فرما رہے تھے، حضرت عمار رو لئے اور عرض کئے یارسول اللہ
کیا آپ ان کو نہیں دیکھتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک بلند کیا اور فرمایا: جو شخص عمار
سے دشمنی کرے اللہ اس سے دشمنی کرے، اور عمار سے جو بغض رکھے اللہ اس سے بغض رکھے۔ تو خالد
کہتے ہیں پس میں نکلا تو کوئی چیز عمار کی خوشنودی سے بڑھ کر محبوب نہیں تھی، تو میں ان سے اس طور پر
ملاقات کیا جس سے وہ راضی ہو جائیں، چنانچہ وہ راضی ہو گئے۔ (امام احمد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 6232 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 6232
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “Khalid came”: At-Tibi said: This is the narrator’s statement about Khalid. Mirak said: It may be Khalid’s speech, shifting perspective. The statement “while he”: Meaning Ammar was complaining about Khalid to the Prophet (ﷺ). The statement “Khalid said”: Meaning the narrator. The statement “Khalid continued speaking harshly”: Meaning to Ammar. The statement “nothing was dearer to me than Ammar’s satisfaction”: Meaning after I left, I met him with humility, seeking forgiveness, and embracing, among other means of satisfaction. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فجاء خالد: قال الطيبي: هذا كلام الراوي عن خالد. وقال محذوف يدل عليه قوله: بعده قال خالد: فخرجت». وقال ميرك: يحتمل أن يكون من كلام خالد على الالتفات. وقوله: (وهو) أي عمار يشكوه» أي خالد إلى النبي ، «قال» أي الراوي، فجعل أي خالد يغلظ له» أي لعمار في الكلام، ولا يزيده» أي خالد عمارا. وقوله: فما كان شيء أحب إلى من رضا عمار أي بعد ما خرجت فلقيته أي فواجهته بما رضي أي من التواضع والاستحلال والاعتناق ونحوها من أسباب الرضا. كذا في «المرقاة».
Note 1
(27) قوله: فجاء خالد. علامہ طیبی نے فرمایا یہ کلام خالد سے روایت کرنے والوں کا ہے اور یہاں لفظ ”قال“ محذوف ہے۔ جس پر بعد والا ”قال خالد فخرجت“ دلالت کر رہا ہے۔ اور علامہ میرک نے فرمایا اس میں احتمال ہے کہ بطور التفات حضرت خالد کا کلام ہو۔ وقوله: وهو. اس کا مرجع عمار ہے۔ يشكوه: یعنی وہ حضرت خالد کی شکایت کر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (حاشیہ پچھلے صفحے سے) کی خدمت میں۔ قال: سے مراد راوی نے کہا: یعنی خالد عمار کے ساتھ گفتگو میں سخت کلامی کرنے لگے۔ ولا يزيده: یعنی خالد عمار کے ساتھ گفتگو میں سخت کلامی میں اضافہ ہی کرتے جا رہے تھے۔ وقوله: فما كان شيء احب الى من رضا عمار. یعنی میرے نکلنے کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب چیز عمار کی خوشنودی کو حاصل کرنا تھا۔ فلقيته. میں ان سے اس طرح ملاقات کیا جس سے وہ راضی ہو جائیں: مثلاً تواضع، معافی مانگنا، گلے لگانا اور اس جیسے خوش کر دینے کے اسباب کے ساتھ۔ (مرقات)