English
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) met me and said: “O Jabir, why do I see you disheartened?” I said: “O Messenger of Allah, my father was martyred, leaving behind dependents and debt.” He said: “Shall I not give you glad tidings of what Allah met your father with?” I said: “Yes, O Messenger of Allah.” He said: “Allah never spoke to anyone except from behind a veil, but He revived 1 your father and spoke to him directly, saying: ‘My servant, wish for something from Me, and I will grant it.’ He said: ‘O Lord, revive me 2 so that I may be killed for Your sake a second time.’ The Lord, Blessed and Exalted, said: ‘It has been decreed by Me that they shall not return to it.’” Then the verse was revealed: And never think of those who have been killed in the cause of Allah as dead [Qur’an 2:169].
العربية
Typed, pending editorial approval
٦٠٠٤ - وَعَنْ جَابِرٍ(رضي الله عنه) قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ ، فَقَالَ: «يَا جَابِرًا مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتُشْهِدَ أَبِي وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا، قَالَ: «أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ؟». قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَأَحْيَا1 أَبَاكَ فَكَلَّمَهُ كِفَاحًا، قَالَ: يَا عَبْدِي تَمُنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ، قَالَ: يَا رَبِّ! تُحْيِينِي2 فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةٌ، فَقَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّهُ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ». فَنَزَلَتْ: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا﴾ (البقرة: ١٦٩).الآية. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7724
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم مجھ سے ملاقات کے تو فرمایا: اے جابر! کیا ہوا ہے مجھ کو کہ میں تم کو افسردہ دیکھ رہا ہوں میں نے کہا
میرے والد شہید ہو گئے اور بال بچے و قرض چھوڑ گئے آپ نے فرمایا کیا میں تم کو خوشخبری نہ دوں اس
معاملہ کی جو اللہ نے تمہارے والد کے ساتھ کیا میں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا اللہ
نے کسی کے ساتھ کلام نہیں کیا مگر حجاب کے پیچھے سے اور اس نے تمہارے والد کو زندہ(52) کیا اور ان
سے راست کلام کیا کہا اے میرے بندے مجھ سے خواہش کر میں تجھ کو عطا کروں گا انہوں نے کہا اے
میرے رب تو مجھے زندہ(53) کر کہ میں تیری خاطر دوبارہ شہید کر دیا جاؤں رب تبارک و تعالیٰ نے کہا
کہ میرا یہ قول گزر چکا ہے کہ وہ (مردے) نہیں لوٹیں گے پس آیت ”وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي
سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا“ (3، آل عمران، آیت نمبر:169) نازل ہوئی اور تم ان لوگوں کو ہرگز مردے نہ
سمجھو جنہیں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا گیا ہے۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3010 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement “revived your father”: If you ask: How does this Hadith align with Allah’s statement: But they are alive with their Lord [Qur’an 3:169], since it implies they are alive, so how can He revive the living? Al-Mudhir said: It is said that Allah placed that soul in the body of a green bird, thus reviving the bird with that soul, making the revival valid. Or, “revival” refers to strengthening his soul, enabling him to witness the truth with that strength. At-Tibi said: This response is also from wise rhetoric, meaning: Do not be concerned with his worldly affairs, such as the care of his dependents or settling his debts, for Allah will settle his debts through the blessing of His Prophet and show kindness to his dependents. But I give you glad tidings of his nearness to Allah and the honor and gifts he received. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) The statement “revive me so that I may be killed for Your sake a second time”: This is a report in the form of a supplication, meaning: Revive me so that I may be martyred in Your cause again, as a means to increase the pleasure of the Lord. The statement “they shall not return”: It is more apparent that the pronoun refers to the martyrs, meaning they do not return by their request or wish, so it does not conflict with the martyr of the Dajjal. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: وأحيا أباك: فإن قلت: كيف الجمع بين هذا الحديث وبين قوله تعالى: ﴿بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ﴾ (آل عمران: ١٦٩)؛ لأن التقدير وهم أحياء فكيف يحيي الي ؟ فقال المظهر : قيل: جعل الله تعالى تلك الروح في جوف طير خضر، فأحيا ذلك الطير بتلك الروح، فصح الإحياء، أو أراد بالإحياء زيادة قوة روحه، فشاهد الحق بتلك القوة. قال الطيبي: وهذا الجواب أيضًا من الأسلوب الحكيم، أي لا تهتم بشأن أمر دنياه من هم عياله وقضاء دينه، فإن الله تعالى يقضي عنه دينه ببركة نبيه ويلطف بعياله، ولكن أبشرك بما هو فيه من القرب عند الله سبحانه وما لقيه به من الكرامة والمنحة. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: تحييني فاقتل فيك ثانية: خبر بمعنى الدعاء، أي أحيني حتى استشهد في سبيلك مرة أخرى؛ ليكون وسيلة إلى زيادة مرضاة المولى. وقوله: إنهم لا يرجعون». والأظهر أن الضمير راجع إلى الشهداء، ومعناه لا يرجعون بالتماسهم وتمنيهم، فلا يشكل بشهيد الدجال. كذا في المرقاة».
Note 1
(52) قولہ: واحیا اباک۔ اگر تم کہو یہ حدیث اور اللہ تعالیٰ کے قول: ”بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ“ کے درمیان تطبیق کیسے ہو گی کیونکہ تقدیر عبارت ہم احیاء ہے یعنی وہ زندہ ہیں تو کیسے زندہ کو زندہ کیا جائے گا مظہر نے کہا کہا گیا اللہ تعالیٰ اس روح کو ایک ہرے پرندے کے پیٹ میں کر دیا پھر وہ پرندے کو اس روح سے پیدا کیا تو زندہ کرنا درست ہوا زندہ کرنے سے ان کی روحانی طاقت کی زیادتی مراد لی ہو پس انہوں نے اسی قوت سے اللہ کا مشاہدہ کیا ہو طیبی نے کہا یہ جواب بھی اسلوب حکیم سے ہے یعنی تم ان کے دنیاوی معاملہ کی فکر نہ کرو، ان کے بال بچوں اور ان کے قرض کی ادائیگی کی پرواہ نہ کرو۔ بے شک اللہ ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرے گا ان کی نیت کی برکت سے اور ان کے بال بچوں پر مہربانی کرے گا لیکن میں تم کو خوشخبری دیتا ہوں (اس معاملہ) جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی قربت میں ہے اور جس کی وجہ سے وہ بزرگی و عطا کو پائے۔ (مرقات) (53) قولہ: تحیینی فاقتل فیک ثانیۃ۔ صیغہ خبر ہے دعاء کے معنی میں یعنی مجھے زندہ کر یہاں تک کہ میں دوبارہ تیری راہ میں شہید کر دیا جاؤں تا کہ یہ ہلاک کی زیادہ خوشنودی کا ذریعہ ہو جائے۔ قولہ: انهم لا يرجعون۔ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) ظاہری بات تو یہ ہے کہ ضمیر شہداء کی لوٹ رہی ہے اور مطلب یہ ہے وہ نہیں لوٹیں گے اپنی خواہش و آرزو سے پس دجال کے شہید پر اشکال باقی نہیں رہتا۔ (کہ اس کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا)(مرقات)