English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Were it not for 1 the migration, I would have been a man of the Ansar. If people took one valley and the Ansar took another valley or pass 2, I would take the valley or pass of the Ansar. The Ansar are my inner circle, while others are outer. You will face favoritism after me, so be patient until you meet me at the Hawd.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٦٠١٢ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : لَوْلَا 1 الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبًا2 لَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَشِعْبَهَا الْأَنْصَارُ شِعَارُ وَالنَّاسُ دِنَارُ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7732
انہی سے روایت ہے کہا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر ہجرت(60)
نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک دوسری وادی میں چلیں(61)
(فرمایا) تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا انصار تو شعار ہیں اور لوگ دثار ہیں (اے انصار) تم
میرے بعد ترجیح دیکھو گے تم صبر کرو یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملو۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4330 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement “were it not for the migration, I would have been a man of the Ansar”: In Sharh As-Sunnah, it is said: This does not mean changing his lineage, as that is forbidden, and his lineage is the most noble. Rather, it refers to territorial affiliation, meaning: Were it not for the migration, which is a religious duty I was commanded to undertake, I would have affiliated with your city and not abandoned this name for you. It is also said: This was to honor the Ansar and indicate that no rank after migration is higher than support. It shows they reached such a level of honor that, were he not among the Migrants, he would count himself among the Ansar due to their nobility with Allah. In sumMaryam (Mary): Were it not for my superiority over the Ansar due to migration, I would be one of them. This is humility from him and an encouragement to honor and respect them, though they do not reach the rank of the early Migrants who were expelled from their homes, cut off from kin, and deprived of their lands and wealth for the sake of Allah’s pleasure and His Messenger’s, and to elevate Allah’s religion and His Messenger’s Sunnah. The Ansar, despite their support, selflessness, love, and sheltering, remained in their homes with their kin. This statement highlights the greatness of migration, as no migrant prophet would abandon it for an Ansari. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) The statement “or pass”: With a kasra and then a sukoon, indicating the narrator’s uncertainty, as both terms mean the same. The statement “I would take the valley or pass of the Ansar”: This indicates his approval of them and preference for them over others due to their fulfillment of covenants and good companionship. It does not mean they must be followed, as following him is obligatory for every believer, for he is the followed and obeyed, not the follower. The statement “the Ansar are my inner circle”: Meaning they are the closest to me and the most entitled to my regard. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : لولا الهجرة لكنت أمراً من الأنصار في شرح السنة»: ليس المراد منه الانقتال من النسب الولادي؛ لأنه حرام مع أن نسبه أفضل الأنساب وأكرمها، وإنما أراد به النسب البلادي، ومعناه لولا الهجرة من الدين ونسبتها دينية لا يسعني تركها؛ لأنها عبادة كنت مأمورا بها لانتسبت إلى داركم، ولا نتقلت عن هذا الاسم إليكم. وقيل: أراد بهذا الكلام إكرام الأنصار، والتعريض بأن لا رتبة بعد الهجرة أعلى من النصرة، وبيان أنهم بلغوا من الكرامة مبلغا لولا أنه من المهاجرين إلى المدينة لعد نفسه من الأنصار؛ لكرامتهم عند الله تعالى، وتلخيصه لولا فضلي على الأنصار بسبب الهجرة لكنت واحدا منهم. وهذا تواضع منه الله وحث للناس على إكرامهم واحترامهم، لكن لا يبلغون درجة المهاجرين السابقين الذين أخرجوا من ديارهم، وقطعوا عن أقاربهم وأحبابهم، وحرموا أوطانهم وأموالهم - وهم ما نالوا ذلك بآلة - لأجل رضا الله ورسوله، وإعلاء لدين الله وسنة رسوله، والأنصار وإن اتصفوا بصفة النصرة والإيثار والمحبة والإيواء، ولكنهم مقيمون في مواطنم ساكنون مع أقاربهم وأحبابهم، وحسبك شاهدا في فضل المهاجرين قوله هذا؛ لأن فيه إشارة إلى جلالة رتبة الهجرة، فلا يتركها نبي مهاجري لأنصاري. كذا في المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: أو شعبا: بكسر فسكون شك من الراوي؛ إذ مالهما واحد. وقوله: لسلكت وادي الأنصار إلخ» أراد بذلك حسن موافقته إياهم وترجيحهم في ذلك على غيرهم؛ لما شاهد منهم حسن الوفاء بالعهد وحسن الجوار، وما أراد بذلك وجوب متابعته إياهم؛ فإن متبابعته حق على كل مؤمن؛ لأنه الله هو المتبوع المطاع لا التابع المطيع. وقوله: «الأنصار شعار والمعنى أنهم أقرب الناس إلي وأولاهم مني منزلة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(60) قوله: لولا الهجرة لكنت امرأ من الانصار. (شرح السنہ میں ہے اس سے مراد پیدائشی نسب سے منتقل ہونا نہیں ہے کیونکہ یہ حرام ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب تمام نسبوں میں افضل اور انہیں کا معزز ہے، بے شک آپ نے اس سے وطنی و مقامی نسبت مراد لی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے اگر ہجرت (کا تعلق) دین سے نہ ہوتا اور اس کی طرف منسوب ہونا دینی نہ ہوتا تو مجھے اس کا چھوڑنا گوارا نہ ہوتا کیونکہ وہ عبادت ہے مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے تو ضرور میں تمہارے گھر کی طرف منسوب ہوتا اور میں یہ نام چھوڑ کر تمہاری طرف منتقل ہوجاتا اور یہ بھی کہا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلام سے انصار سے عزت افزائی کا ارادہ کیا اور اشارہ کرنا ہے کہ ہجرت کے بعد نصرت (دینی) سے اونچا کوئی مرتبہ نہیں اور یہ بتلانا ہے کہ وہ (انصار) بزرگی کے ایسے مقام پر پہنچے ہوئے ہیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی جانب ہجرت کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو اپنے آپ کو انصار میں سے شمار کرتے ان کے اللہ کے نزدیک برگزیدہ ہونے کی وجہ اور اس کا خلاصہ یہ ہے اگر انصار کے اوپر ہجرت کے سبب میری فضیلت نہ ہوتی تو میں انہیں میں کا ایک ہوتا یہ آپ کی جانب سے تواضع ہے اور لوگوں کو ابھارنا ہے ان کی عزت افزائی و احترام پر لیکن وہ لوگ سبقت کرنے والے مہاجرین کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتے جنہیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، ان کے رشتہ داروں سے دوست احباب سے دور کردیا گیا اور ان کے شہروں مال و دولت سے محروم کردیا گیا۔ درآں حالیکہ مہاجرین رضی اللہ تعالیٰ عنہم یہ سب کرد و کاوش برداشت کئے اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کی خاطر (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کو بلند کرنے کے خاطر انصار اگرچہ نصرت ایثار محبت ٹھکانہ دینا جیسے اوصاف سے متصف ہیں لیکن وہ اپنے گھروں میں مقیم ہیں، اپنے رشتہ داروں دوست واحباب کے ساتھ سکونت پذیر ہیں۔ مہاجرین کی فضیلت میں تم کو بطور دلیل آپ کا یہ قول ہی کافی ہے، کیونکہ اس میں اشارہ ہے ہجرت کے مرتبہ کی عظمت کی طرف پس ایک بھی مہاجر انصاری بننے کیلئے اسے ترک نہیں کرسکتا۔ (مرقات) (61) قولہ: او شعبا۔ شین کو کسرہ (زیر) ہے عین کو جزم ہے وادی کی جانب سے تنگ ہے۔ قولہ: لسلكت وادي الانصار الخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ان کے ساتھ اپنی اچھی مطابقت ہونے دوسروں پر ان کی ترجیح ہونے کو بتلایا ہے آپ کا ان کے اندر عہد کو اچھا پورا کرنا اور اچھی سنگت ہونا (جیسے اوصاف) کا مشاہدہ کرنے کی وجہ سے اور آپ نے اس سے ان کی اتباع کا واجب ہونا مراد نہیں لیا کیونکہ آپ کی اتباع تمام مومنوں پر لازم ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کی جاتی ہے نہ کہ آپ کی پیروی کرنے والے اطاعت کرنے والے ہیں۔ قولہ: الانصار شعار۔ معنی یہ ہے کہ وہ (انصار) رتبہ کے اعتبار سے میرے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ قریب اور ان میں سب سے زیادہ حقدار ہیں میرے درجہ کے اعتبار سے۔ (مرقات)