English
– ‘Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that Umm Habibah had been experiencing prolonged bleeding for years, and the bleeding would rise until it stained the garment. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "It is not menstruation; it is just a vein." She would perform ghusl for each prayer. [Narrated by Sa’id ibn Mansur., Al-Tahawi and ‘Abd al-Razzaq also reported similar narrations]
Our scholars (jurists) have deduced from these hadiths that a woman with a regular menstrual cycle returns to her regular pattern after the days of menstruation pass. She should perform one ghusl after her menstruation, then perform wudu for each prayer time, and continue praying even if the bleeding persists.
As for a woman whose bleeding continues, and she is confused between the days of menstruation and the location of bleeding, she should rely on what she is sure of, continuing her practice based on her understanding.
If she does not have an opinion or certainty, nothing from the days of menstruation or post-menstruation can be conclusively determined. In this case, she should adopt caution: she should perform ghusl for each prayer.
If she is confused between the beginning of menstruation and the post-menstruation period, she should pray with wudu at the time of each prayer. If she is confused between the end of menstruation and post-menstruation, she should perform ghusl at the time of each prayer.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
کی روایت سعید بن منصور نے کی ہے اور امام طحاوی اور عبدالرزاق نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔) ہمارے فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان مذکورہ حدیثوں کے پیش نظر یہ صراحت کی ہے کہ جس عورت کو استحاضہ کا خون ہمیشہ جاری رہتا ہو جس کی وجہ سے اس کے لئے حیض اور استحاضہ میں فرق کرنا دشوار ہو چکا ہے تو ایسی صورت میں اس عورت کے ایام حیض کے بارے میں اگر ایک معینہ عادت ہے تو ایسی عورت اپنی عادت کی طرف پلٹائی جائے گی یعنی ایام عادت تو حیض میں شمار ہوں گے اور ایام عادت سے جتنے دن زائد خون جاری رہے گا وہ استحاضہ ہوں گے، تو ایسی عورت کے جب ایام حیض ختم ہو جائیں تو وہ ختم حیض پر صرف ایک دفعہ غسل کر لے اور بعد ازاں ہر نماز کے وقت وضو کرتی جائے اور دوسری نماز کے وقت تک اسی وضوء سے جو نماز چاہے پڑھ لے اگر چیکہ خون بہہ رہا ہو۔ اور وہ عادت والی عورت کہ جس کو استحاضہ کا خون ہمیشہ جاری رہتا ہو لیکن اس پر ایام حیض کی تعداد اور ایام حیض کی تاریخیں مشتبہ ہو چکی ہوں تو وہ تحرّی کرے کہ اس کا ظن غالب حیض کے دنوں کے متعلق کیا ہے تو جتنے دن اس کے خیال میں حیض کے ثابت ہوں اتنے دنوں کو حیض سمجھے اور باقی کو استحاضہ۔ اور اگر ایسی عورت کا خیال کسی بات پر نہیں جمتا ہو تو حیض یا طہر میں سے کسی کا تصفیہ معین طور پر نہیں کیا جائے گا بلکہ ایسی عورت احتیاط پر عمل کرے اور احتیاط یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت غسل کیا کرے۔ اور بعض حالات میں مستحاضہ کو شبہ ہو جائے کہ جو دن گزر رہے ہیں وہ طہر کے تھے اور اب حیض شروع ہو رہا ہے تو ایسی حالت میں ہر نماز کے وقت وضوء کر کے نماز ادا کیا کرے اور اگر مستحاضہ کو اس بارے میں شبہ ہو کہ جو دن گزر رہے ہیں وہ حیض کے تھے اور اب طہر شروع ہو رہا ہے تو ایسی صورت میں ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز ادا کی جائے۔12۔ (1) معینہ عادت والی مستحاضہ: ایسی مستحاضہ پر حکم یہ ہے کہ اس کے ایام عادت حیض میں شمار ہوں گے اور جو ایام اس کی عادت سے زائد ہوں ان کا شمار استحاضہ میں ہوگا اس لئے یہ ایام حیض کے ختم پر ایک دفعہ غسل کرے اور اس کے بعد ہر نماز کے وقت وضوء کرے اور اس کا وضوء دوسری نماز کے وقت تک باقی رہے گا اور یہ اپنے اس وضوء سے جملہ عبادات ختم وقت تک ادا کر سکے گی۔ (2) ایسی مستحاضہ جس کا خون جاری ہو، اور اس پر ایام حیض کی تعداد اور ایام حیض کی مقررہ تاریخ مشتبہ ہو جائے تو ایسی مستحاضہ پر حکم یہ ہے کہ تحری (ظن غالب) یعنی ایام حیض کی تعداد اور تاریخ کے بارے میں اپنے گمان غالب پر عمل کرے۔ (3) ایسی مستحاضہ جس کا خون جاری ہو اور اس کا خیال کسی بات پر جمتا نہ ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ احوط پر عمل کرے اور احوط یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لئے غسل کر لیا کرے۔ (4) ایسی مستحاضہ جس پر بعض حالات میں حیض اور طہر مشتبہ ہو جائیں اور اس کو تردّد ہو کہ موجودہ ایام طہر کے ہیں یا حیض شروع ہو گیا ہے تو ایسی صورت میں ہر نماز کے وقت وضوء کر کے نماز ادا کرے۔ (5) اگر مستحاضہ کو یہ تردّد رہے کہ وہ حالت استحاضہ یعنی طہر میں ہے یا حیض سے فارغ ہو چکی ہے تو اس صورت میں وہ ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز ادا کرے، اس لئے کہ حیض سے فارغ ہونے کے بعد غسل ضروری ہے اور چونکہ حیض سے فارغ ہونے کا یقین نہیں بلکہ اس میں تردّد ہے، اس لیے اس پر ہر نماز کے وقت غسل کرنا ضروری ہے۔